aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "giraftaar"
شاعرساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظرگوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطرابشب سکوت افزا ہوا آسودہ دریا نرم سیرتھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصوير آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوارموج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیرانجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتابدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پيک جہاں پيما خضرجس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازلچشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجابدل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوامیں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوااے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکارجن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتئ مسکين و جان پاک و ديوار يتيمعلم موسیٰ بھی ہے ترے سامنے حیرت فروشچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نوردزندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوشزندگی کا راز کیا ہے سلطنت کیا چیز ہےاور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروشہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاکنوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پيرايہ پوشگرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگیفطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوشبیچتا ہے ہاشمی ناموس دين مصطفیٰخاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوشآگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہےکیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہےجواب خضرصحرا نوردی
ہشیار اس لئے ہوں کہ مے خوار ہوں تراصیاد شعر ہوں کہ گرفتار ہوں ترالہجہ ملیح ہے کہ نمک خوار ہوں تراصحت زبان میں ہے کہ بیمار ہوں تراتیرے کرم سے شعر و ادب کا امام ہوںشاہوں پہ خندہ زن ہوں کہ تیرا غلام ہوں
اے طرب زار جوانی کی پریشاں تتلیتو بھی اک بوئے گرفتار ہے معلوم نہ تھاتیرے جلووں میں بہاریں نظر آتی تھیں مجھےتو ستم خوردۂ ادبار ہے معلوم نہ تھا
زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہےحالانکہ در ایں اثنا کیا کچھ نہیں دیکھا ہےپر لکھے تو کیا لکھے؟ اور سوچے تو کیا سوچے؟کچھ فکر بھی مبہم ہے کچھ ہاتھ لرزتا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوانی نہیں اتنی جو منہ میں ہو بک جائےچپ شاہ کا روزہ بھی یوں ہی نہیں رکھا ہےبوڑھی بھی نہیں اتنی اس طرح وہ تھک جائےاب جان کے اس نے یہ انداز بنایا ہےہر چیز بھلاوے کے صندوق میں رکھ دی ہےآسانی سے جینے کا اچھا یہ طریقہ ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!گھر بار، سمجھتی تھی، قلعہ ہے حفاظت کادیکھا کہ گرہستی بھی مٹی کا کھلونا ہےمٹی ہو کہ پتھر ہو ہیرا ہو کہ موتی ہوگھر بار کے مالک کا گھر بار پہ قبضہ ہےاحساس حکومت کے اظہار کا کیا کہنا!انعام ہے مذہب کا جو ہاتھ میں کوڑا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوار پہ ٹانگا تھا فرمان رفاقت کاکیا وقت کے دریا نے دیوار کو ڈھایا ہےفرمان رفاقت کی تقدیس بس اتنی ہےاک جنبش لب پر ہے، رشتہ جو ازل کا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دو بیٹوں کو کیا پالا ناداں یہ سمجھتی تھیاس دولت دنیا کی مالک وہی تنہا ہےپر وقت نے آئینہ کچھ ایسا دکھایا ہےتصویر کا یہ پہلو اب سامنے آیا ہےبڑھتے ہوئے بچوں پر کھلتی ہوئی دنیا ہےکھلتی ہوئی دنیا کا ہر باب تماشہ ہےماں باپ کی صورت تو دیکھا ہوا نقشہ ہےدیکھے ہوئے نقشے کا ہر رنگ پرانا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!سوچا تھا بہن بھائی دریا ہیں محبت کےدیکھا کہ کبھی دریا رستہ بھی بدلتا ہےبھائی بھی گرفتار مجبوریٔ خدمت ہیںبہنوں پہ بھی طاری ہے قسمت کا جو لکھا ہےاک ماں ہے جو پیڑوں سے باتیں کیے جاتی ہےکہنے کو ہیں دس بچے اور پھر بھی وہ تنہا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
میں اڑتے ہوئے پنچھیوں کو ڈراتا ہواکچلتا ہوا، گھاس کی کلغیاںگراتا ہوا گردنیں ان درختوں کی، چھپتا ہواجن کے پیچھے سےنکلا چلا جا رہا تھا وہ سورجتعاقب میں تھا اس کے میں!گرفتار کرنے گیا تھا اسےجو لے کے مری عمر کا ایک دن بھاگتا جا رہا تھا!
ایک شب ہلکی سی جنبش مجھے محسوس ہوئیمیں یہ سمجھا مرے شانوں کو ہلاتا ہے کوئیآنکھ اٹھائی تو یہ دیکھا کہ زمیں ہلتی ہےجس جگہ شے کوئی رکھی ہے وہیں ہلتی ہےصحن و دیوار کی جنبش ہے تو در ہلتے ہیںباہر آیا تو یہ دیکھا کہ شجر ہلتے ہیںکوئی شے جنبش پیہم سے نہیں ہے محرومایک طاقت ہے پس پردہ مگر نامعلومچند لمحے بھی یہ نیرنگی عالم نہ رہیزلزلہ ختم ہوا جنبش پیہم نہ رہیحیرت دید سے انگشت بدنداں تھا میںشاہد جلوۂ قہاری یزداں تھا میںدفعتاً ایک صدا آہ و فغاں کی آئیمیرے اللہ یہ گھڑی کس پہ مصیبت لائیگل کیا زلزلۂ قہر نے کس گھر کا چراغکس پہ ڈھایا یہ ستم کس کو دیا ہجر کا داغجا کے نزدیک یہ نظارۂ حرماں دیکھاایک حسینہ کو بصد حال پریشاں دیکھابیضوی شکل میں تھے حسن کے جلوے پنہاںآنکھ میں سحر بھرا تھا مگر آنسو تھے رواںمیں نے گھبرا کے یہ پوچھا کہ یہ حالت کیوں ہےتیری ہستی ہدف رنج و مصیبت کیوں ہےبولی اے شاعر رنگین طبیعت مت پوچھروز و شب دل پہ گزرتی ہے قیامت مت پوچھلوگ دنیا کو تری مجھ کو زمیں کہتے ہیںاہل زر مجھ کو محبت میں حسیں کہتے ہیںمیں انہیں حسن پرستوں کی ہوں تڑپائی ہوئیتجھ سے کہنے کو یہ راز آئی ہوں گھبرائی ہوئیزرپرستوں سے ہیں بد دل مری دنیا کے غریبہیں گرفتار سلاسل مری دنیا کے غریبمجھ سے یہ تازہ بلائیں نہیں دیکھی جاتیظالموں کی یہ جفائیں نہیں دیکھی جاتیںچاہتی ہوں مرے عشاق میں کچھ فرق نہ ہومفت میں کشتیٔ احساس وفا غرق نہ ہوایک وہ جس کو میسر ہوں عمارات و نقیبایک وہ جس کو نہ ہو پھونس کا چھپر بھی نصیبصاحب دولت و ذی رتبہ و زردار ہو ایکبے نوا غمزدہ و بیکس و لاچار ہو ایکایک مختار ہو، اورنگ جہاں بانی کااک مرقع ہو غم و رنج و پریشانی کاسخت نفرت ہے مجھے اپنے پرستاروں سےچھین لیتے ہیں مجھے میرے طلب گاروں سےچیرہ دستی کا مٹا دیتی ہیں سب جاہ و جلالحیف صد حیف کہ حائل ہے غریبوں کا خیالیہ نہ ہوتے تو دکھاتی میں قیامت کا سماںیہ نہ ہوتے تو مٹاتی میں غرور انساںایک کروٹ میں بدل دیتی نظام عالماک اشارے ہی میں ہو جاتی ہے یہ محفل برہماک تبسم سے جہاں برق بہ داماں ہوتانہ یہ آرائشیں ہوتیں نہ یہ ساماں ہوتاہر ادا پوچھتی سرمایہ پرستوں کے مزاجکچھ تو فرمائیے حضرت کہ ہیں کس حال میں آجلکھ پتی سنکھ پتی بے سر و ساماں ہوتےجان بچ جائے بس اس بات کے خواہاں ہوتےبرسر خاک نظر آتے ہیں قصر و ایواںاشک خونیں سے مرے اور بھی اٹھتے طوفاںمیری آغوش میں سب اہل ستم آ جاتےمیرے برتاؤ سے بس ناک میں دم آ جاتےبعض کے منہ غم آلام سے کالے کرتیبعض کو موت کی دیوی کے حوالے کرتیخون زردار ہی مزدور کی مزدوری ہےمیں جو خاموش ہوں یہ باعث مجبوری ہےمیری آغوش میں جابر بھی ہیں مجبور بھی ہیںمیرے دامن ہی سے وابستہ یہ مزدور بھی ہیںضبط کرتی ہوں جو غم آتا ہے سہ جاتی ہوںجوش آتا ہے مگر کانپ کے رہ جاتی ہوں
میں نے جو ظلم کبھی تجھ سے روا رکھا تھاآج اسی ظلم کے پھندے میں گرفتار ہوں میںمیں نے جو تیر ترے ہاتھ سے چھینا تھا کبھیآج اسی تیر کے گھاؤ سے نگوں سار ہوں میںجس کی خاطر تری ذلت بھی گوارا تھی مجھےآج اسی ''پیکر عصمت'' کا خطا کار ہوں میںمری آنکھوں نے جسے چاند کہا تھا کل تکآج اسی شعلۂ پراں سے عرق بار ہوں میںتو نہ چاہے بھی تو آفاق ہنسے گا مجھ پروقت کے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی تلوار ہوں میں
سو اب یہ شرط حیات ٹھہریکہ شہر کے سب نجیب افراداپنے اپنے لہو کی حرمت سے منحرف ہو کے جینا سیکھیںوہ سب عقیدے کہ ان گھرانوں میںان کی آنکھوں کے رنگتوں کی طرح تسلسل سے چل رہے تھےسنا ہے باطل قرار پائےوہ سب وفاداریاں کہ جن پر لہو کے وعدے حلف ہوئے تھےوہ آج سے مصلحت کی گھڑیاں شمار ہوں گیبدن کی وابستگی کا کیا ذکرروح کے عہد نامے تک فسخ مانے جائیںخموشی و مصلحت پسندی میں خیریت ہےمگر مرے شہر منحرف میںابھی کچھ ایسے غیور و صادق بقید جاں ہیںکہ حرف انکار جن کی قسمت نہیں بنا ہےسو حاکم شہر جب بھی اپنے غلام زادےانہیں گرفتار کرنے بھیجےتو ساتھ میں ایک ایک کا شجرۂ نسب بھی روانہ کرنااور ان کے ہم راہ سرد پتھر میں چننے دیناکہ آج سے جبہزارہا سال بعد ہم بھیکسی زمانے کے ٹیکسلایا ھڑپہ بن کر تلاشے جائیںتو اس زمانے کے لوگہم کوکہیں بہت کم نسب نہ جانیں
الفت کے پیمبر ہیں پرستار اسی کےاخلاص کی مے پیتے ہیں مے خوار اسی کےمردان مجاہد ہیں طلب گار اسی کےہندو ہوں کہ مسلم ہیں گرفتار اسی کے
گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہونرم کلیوں پہ چڑھا دو غم دوراں کے غلافخود کو دل تھام کے مرغان گرفتار کہورات کو اس کے تبسم سے لپٹ کر سو جاؤصبح اٹھو تو اسے شاہد بازار کہوذہن کیا چیز ہے جذبے کی حقیقت کیا ہےفرش پر بیٹھ کے تبلیغ کے اشعار کہو
دل نے تو مجھ سے کئی بار کہا وہم ہے یہاس طرح تجھ کو بھلانا کوئی آسان نہیںمیں مگر وہم میں کچھ ایسا گرفتار رہامیں یہ سمجھا کہ تجھے بھول چکا ہوں شاید
راحت بندۂ بے دام کہاں ہے آ جاپیکر حسن سر بام کہاں ہے آ جارونق بزم ہے او جام کہاں ہے آ جازینت جلوہ گہ عام کہاں ہے آ جااے امید دل نا کام کہاں ہے آ جاتیری فرقت خلل انداز سکون پیہمتیری فرقت دل مایوس پہ اک طرفہ ستمتیری فرقت سبب کاوش و بیداریٔ غمتو نہیں ہے تو پھر آرام کہاں ہے آ جاشاہد دور سیہ بخت و شب تار ہوں میںخوگر نالۂ لذت کش آواز ہوں میںدام طوفان حوادث میں گرفتار ہوں میںروز و شب منتظر دید رخ یار ہوں میںدل ہے وقف غم آلام کہاں ہے آ جاشعلۂ بر کف گل داغ جگر تیرے بغیرخار بردوش ہے دامان نظر تیرے بغیرخوں فشاں ہے شب غم دیدۂ تر تیرے بغیرچلن آتا ہی نہیں شام و سحر تیرے بغیرمنتظر ہوں سحر و شام کہاں ہے آ جادور تاریکیٔ غم سے شب تنہائی سےدم بدم جوش جنوں کی ستم آرائی سےکعبہ و دیر و کلیسا کی جبیں سائی سےخوف مجبوری و ناکامی و رسوائی سےعشق ہے لرزہ بر اندام کہاں ہے آ جامنتشر ہونے لگی انجمن ناز حیاتبن گیا خواب ہر اک منظر آغاز حیاتدم شکستہ سا نظر آنے لگا ساز حیاتاب کوئی دم میں ہوا جاتا ہے وا راز حیاتآ گیا نزع کا ہنگام کہاں ہے آ جا
مادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔاپنے فن میں بڑے ہشیار تھے مرزا غالبؔآپ کا نام اسداللہ تھا نو شاہ لقبمرزا غالب سے ہوئے بعد میں معروف ادبآج بھی پڑھ کے کلام آپ کا حیرت میں ہیں سبزلف اردو میں گرفتار تھے مرزا غالبمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالباکبرآباد میں پیدا ہوئے دہلی میں رہےعہد طفلی ہی سے دنیا کے بڑے ظلم سہےاب بھی ہر اہل سخن آپ کو استاد کہےسارے شعرا کے علم دار تھے مرزا غالبمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔتنگ دستی میں بھی چھوڑا نہ وفا کا دامنمفلسی میں بھی نہ اپنائے خوشامد کے چلنخون جذبات سے شاداب کیا باغ سخنفطرتاً شاعر خوددار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبآپ پر فارسی شعرا کا بھی تھا خوب اثرمسئلہ خدمت اردو کا بھی تھا پیش نظراپنے اشعار کی عظمت سے بھی واقف تھے مگرمیرؔ جی کے بھی طرف دار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔخط نویسی کا دیا ایک انوکھا اندازگونج اٹھی بزم ادب میں یہ نرالی آوازآپ میدان سخن میں بھی تھے سب سے ممتازساتھ ہی اک بڑے نثار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔبے نیاز غم و آلام ہر اک فکر سے دورہو مصیبت میں بھی رہتے تھے ہمیشہ مسرورآج بھی جن کے لطیفے ہیں جہاں میں مشہورمسکراتے ہوئے کردار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔ
جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوتآج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہےجو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہےان خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہوگیسوچتے سوچتے تھک جائیں گے نیلے ساگرجاگتے جاگتے سو جائے گا مدھم آکاشاس چھلکتی ہوئی شبنم کا ذرا سا قطرہکسی معصوم سے رخسار پہ جم جائے گاایک تارا نظر آئے گا کسی چلمن میںایک آنسو کسی بستر پہ بکھر جائے گاہاں مگر تیرا یہ بیمار کدھر جائے گامیں نے اک نظم میں لکھا تھا کہ اے روح وفاچارہ سازی ترے ناخن کی رہین منتغم گساری تری پلکوں کی روایات میں ہےایک چھوٹی ہی سی امید طرب زار سہیایک جگنو کا اجالا مری برسات میں ہےلذت عارض و لب ساعت تکمیل وصالمیری تقدیر میں ہے اور تری بات میں ہے
عشق کے ہاتھ میں روشن ہے جو ننھا سا دیاعقل کی تند ہوا اس کو بجھا ہی دے گیتو نے دیکھی ہی نہیں پنجۂ عسرت کی گرفتروح کو قید تمنا سے چھڑا ہی دے گی
بہر کیف جو درد ہوتا ہےوہ درد ہوتا ہےایڑی میں کانٹا چبھےتو بدن تلملاتا ہےدل ضبط کرتا ہے روتا ہےجو برگ ٹہنی سے گرتا ہےوہ زرد ہوتا ہےچکی کے پاٹوں میں دانے تو پستے ہیںپانی سے نکلے تو مچھلی تڑپتی ہےطائر قفس میںگرفتار ہوں تو پھڑکتے ہیںبادل سے بادل ملیں تو کڑکتے ہیںبجلی چمکتی ہےبرسات ہوتی ہےجو ہجر کی رات ہوتی ہےوہ ہجر کی رات ہوتی ہےہم اپنی وحشت میںجو بھیس بدلیںکوئی روپ دھاریںسمندر بلوئیں یا دیوار چاٹیںتصور کی جھلمل میںدن رات کاٹیںپہاڑوں پہ چھٹی منانے کو جائیںندی میں نہائیںغذاؤں کی لذت میں سرشار ہوںروز پوشاک پر ایک پوشاک بدلیںکسی عطر کی پھوار چھڑکیںچراغوں کی رنگین لو میںبھرے رس بھرے ہونٹ چھو لیںصنوبر کے باغوں میں گھومیںمگر بوجھ دل کا جو ہوتا ہےوہ تو بدستور ہوتا ہےاندر ہی اندر کہیںسات پردوں میں مستور ہوتا ہے!
مری آنکھوں میں مگر چھایا ہے بادل بن کرایک دیوار کا روزن اسی روزن سے نکل کر کرنیںمری آنکھوں سے لپٹتی ہیں مچل اٹھتی ہیںآرزوئیں دل غم دیدہ کے آسودہ نہاں خانے سےاور میں سوچتا ہوں نور کے اس پردے میںکون بے باک ہے اور بھولی سی محبوبہ کونسوچ کو روک ہے دیوار کی وہ کیسے چلےکیسے جا پہنچے کسی خلوت محجوب کے مخمور صنم خانے میںوہ صنم خانہ جہاں بیٹھے ہیں دو بت خاموشاور نگاہوں سے ہر اک بات کہے جاتے ہیںذہن کو ان کے دھندلکے نے بنایا ہے اک ایسا عکاسجو فقط اپنے ہی من مانے مناظر کو گرفتار کرےمیں کھڑا دیکھتا ہوں سوچتا ہوں جب دونوںچھوڑ کر دل کے صنم خانے کو گھر جائیں گےصحن میں تلخ حقیقت کو کھڑا پائیں گےایک سوچے گا مری جیب یہ دنیا یہ سماجایک دیکھے گا وہاں اور ہی تیاری ہےمجھ کو الجھن ہے یہ کیوں میں تو نہیں ہوں موجودرات کی خلوت محجوب کے مخمور صنم خانے میںمری آنکھوں کو نظر آتا ہے روزن کا دھواںاور دل کہتا ہے یہ دود دل سوختہ ہےایک گھنگھور سکوں ایک کڑی تنہائیمیرا اندوختہ ہےمجھ کو کچھ فکر نہیں آج یہ دنیا مٹ جائےمجھ کو کچھ فکر نہیں آج یہ بیکار سماجاپنی پابندی سے دم گھٹ کے فسانہ بن جائےمری آنکھوں میں تو مرکوز ہے روزن کا سماںاپنی ہستی کو تباہی سے بچانے کے لیےمیں اسی روزن بے رنگ میں گھس جاؤں گالیکن ایسے تو وہی بت نہ کہیں بن جاؤںجو نگاہوں سے ہر اک بات کہے جاتا ہےچھوڑ کر جس کو صنم خانے کی محجوب فضاگھر کے بیباک المناک سیہ خانے میںآرزوؤں پہ ستم دیکھنا ہے گھلنا ہےمیں تو روزن میں نہیں جاؤں گا دنیا مٹ جائےاور دم گھٹ کے فسانہ بن جائےسنگ دل خون سکھاتی ہوئی بیکار سماجمیں تو اک دھیان کی کروٹ لے کرعشق کے طائر آوارہ کا بہروپ بھروں گا پل میںاور چلا جاؤں گا اس جنگل میںجس میں تو چھوڑ کے اک قلب فسردہ کو اکیلے چل دیراستہ مجھ کو نظر آئے نہ آئے پھر کیاان گنت پیڑوں کے میناروں کومیں تو چھوتا ہی چلا جاؤں گااور پھر ختم نہ ہوگی یہ تلاشجستجو روزن دیوار کی مرہون نہیں ہو سکتیمیں ہوں آزاد مجھے فکر نہیں ہے کوئیایک گھنگھور سکوں ایک کڑی تنہائیمرا اندوختہ ہے
خیالات میں سخت ہے انتشارتخیل پریشاں قلم بے قرارجہاں خون آلود و خوں رنگ ہےوطن پر پڑا سایۂ رنج ہےگل و لالہ ہیں مستعد بے تکاںرفیقوں نے رکھی ہتھیلی پہ جاںہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنخلوص آج پامال ہے اور تباہاصول آج دریوزہ خواہ پناہگرفتار آزار دنیا ہے آجمحبت پریشان و رسوا ہے آجاصول محبت کے ہم ترجماںخلوص و محبت کے ہم پاسباںدوانوں کو مطلق نہیں ہے قرارصداقت سے بیتاب دل پائیدارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنوطن ہے یہ نانک کا فرماں پذیرتھا گوتم اسی کارواں کا امیرمحبت نے رتبہ دیا ہے بلندمحبت نے سب کو کیا ارجمندہے غیرت کا طوفان چھایا ہواہے بچوں میں بھی جوش آیا ہواارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار ہیں جاں نثارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطننہ دی دشمنوں کو کبھی اس نے راہہمالہ ہے رفعت سے عالم پناہہمالہ کی دلچسپ ہے داستاںیہ عظمت نشاں سب کا ہے پاسباںزمانے پہ یہ بات ہے آشکاراما اس کی ہے دختر نامدارہمالہ کی عظمت کی ہم کو قسمہمالہ کی رفعت کی ہم کو قسمحفاظت ہمالہ کی اب فرض ہےہمالہ کا ہم پر بڑا قرض ہےیہ کہتے ہیں سب مل کے خورد و کلاںکہ غیرت کا اس وقت ہے امتحاںہوا روئے شنکر ہے غصے سے لالدکھائے گا اب رقص تانڈو جلالارادے ہیں سب کے بہت استوارغیور اور بیدار سب جاں نثارہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنمحافظ ہیں ہم امن کے لا کلامزمانے کو دیتے ہیں بدھ کا پیامصبا اپنے گلشن سے جاتی ہے جبمٹاتی ہے دنیا کے رنج و تعبرسیلی ہے صبح اور رسیلی ہے شامنہاں ان میں ہے زندگی کا پیامروایت کا محفوظ کر کے وقارہمیں لوٹنا ہے خوشی کی بہارذرا دیکھئے گا رفیقوں کی آنہے رکھی جنہوں نے ہتھیلی پہ جانہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنہے عزت کا جرأت کا اب امتحاںکہیں جھک نہ جائے وطن کا نشاںفریبوں سے کوئی پنپتا نہیںکبھی جھوٹ کا میوہ پکتا نہیںصداقت کا ہے بول بالا سدانہیں کام آتے دروغ افترافضا ہے چمن کی ہمیں سازگارہے پابندہ تر اس زمیں کی بہارہر اک لب پہ ہے بس یہیں اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطنحیا اور مروت ہے جو پر رہیںہوئی ہیں وہ آنکھیں بہت خشمگیںبڑھے ہیں وطن کی طرف بد قماشکلیجہ زمیں کا ہوا پاش پاشپہاڑوں پہ ہے برف غصے سے لالفضائیں ہوئیں گرم آتش مثالہیں جہلم میں آنے کو طغیانیاںہر اک موج پر ہے غضب کا سماںمحبت کی دنیا کو دل میں لیےبہار جوانی سے پیماں کیےوطن کی حفاظت کو تیار ہیںمحبت کے بادہ سے سرشار ہیںحفاظت ہے فرض اپنے ارمان کیہمیں آج پروا نہیں جان کیہر اک لب پہ ہے بس یہی اک سخنحسین اور دل کش ہے ارض وطن۲آؤ بڑھو میدان میں شیروں دشمن پر یلغار کریںقبر بنے میدان میں اس کی ایسا اس پر وار کریںزنگ نہ لگنے پائے اپنے بھارت کی آزادی کوآؤ زیر دام کریں صیادوں کی صیادی کولوح دل پر نقش کرو ہر حال میں زندہ رہنا ہےملک کی خدمت کے رستے میں جو دکھ آئے سہنا ہےیہ سیلاب سرخ نہیں ہے ظلم و ستم کی آندھی ہےاس سیلاب کو روکیں گے ہم ہمت ہم نے باندھی ہےشیروں کی اولاد ہو تم ان ویروں کی سنتان ہو تممرد مجاہد مرد جری ہو یودھا ہو بلوان ہو تمسانچی مدورا امرتسر اجمیر کی عظمت تم سے ہےصبح بنارس شام اودھ کی اصل و حقیقت تم سے ہےتاج اجنتا اور ایلورا کے واحد فن کار ہو تمخوش سیرت خوش صورت خوش مورت خوش کردار ہو تمبھیلائی چترنجن تم سے بھاکڑ اننگل تم سے ہےدامودر کی شان ہے تم سے عظمت چنبل تم سے ہےتم نے بسائے شہر نرالے جنگل تم سے منگل ہیںتم نے نکالی نہریں اتنی صحرا تم سے جل تھل ہیںتم نے اتنی ہمت سے دریاؤں کے رخ موڑ دیےتم نے کھودیں سرنگیں اتنی دور کے رشتے جوڑ دیےتم کشمیر کی ارض حسیں کے نظاروں میں پلتے ہوکہساروں کو پھاندتے ہو تم دریاؤں پہ چلتے ہوتم میسور میں ورندا بن کے باغ سجانے والے ہواوٹی شملہ دارجلنگ سے شہر بسانے والے ہوتاتیا ٹوپے لکشمی بائی ٹیپو کی اولاد ہو تمجنگ کے فن میں قابل ہو تم ماہر ہو استاد ہو تمہندو مسلم سکھ عیسائی جینی بودھ اور پارسیدہقاں تاجر اور ملازم سادھو سنت اور سیاسیلے کے وطن کا جھنڈا آؤ دشمن پر یلغار کریںقبر بنے رن بھوم میں اس کی ایسا اس پر وار کریں
مری دوست اب تمجہاں ہو وہاں پرنہ جانے ہواؤں کی رفتار کیا ہےستاروں سے آبادرستوں میں حائلیہ بادل ہیں کیسےیہ دیوار کیا ہےمحبت ہے آزادلیکن دلوں میںپرندوں کی طرحگرفتار کیا ہےجہاں ہم ہیں شایدوہاں روز و شب میںبس اک خواب ہےاور افق پار کیا ہے
دیکھتے دیکھتے پتھرا گئیں دونوں آنکھیںپھر بھی چہرہ نہ نظر آیا کہیںپھر بھی دیکھے نہیں دست و بازوجان کر ہم نے ہر اک چیز سے انکار کیاذات سےذات کے گرد خدائی کے مناظر سےمناظر میں چھپی صدیوں کی مظلوم تمناؤں سےپھوڑ دو دیکھنے والی آنکھیںہم تماشائی نہیں کھیل کے کردار بھی ہیںاپنے کردار کے زنداں میں گرفتار بھی ہیںہم سے زندانی ہزاروں لاکھوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books