aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kalma-e-inkaar"
یہی لائق کلمۂ آفریں ہےیہ ایمان کامل مکمل یقیں ہےاگرچہ ازل سے یہی دل نشیں ہے
جبکہ خاموش ہوئی جاتی تھی امید کی لوجبکہ پیغام محن لاتا تھا ہر لمحۂ نوجبکہ اک دو ہی مسرت تھیں اور آلام تھے سومرے ہونٹوں پہ فقط کلمۂ اظہار تھا جباور محبت کو مری بات سے انکار تھا جب
اٹھاؤ ہاتھ کہ دست دعا بلند کریںہماری عمر کا اک اور دن تمام ہواخدا کا شکر بجا لائیں آج کے دن بھینہ کوئی واقعہ گزرا نہ ایسا کام ہوازباں سے کلمۂ حق راست کچھ کہا جاتاضمیر جاگتا اور اپنا امتحاں ہوتاخدا کا شکر بجا لائیں آج کا دن بھیاسی طرح سے کٹا منہ اندھیرے اٹھ بیٹھےپیالی چائے کی پی خبریں دیکھیں ناشتہ پرثبوت بیٹھے بصیرت کا اپنی دیتے رہےبخیر و خوبی پلٹ آئے جیسے شام ہوئیاور اگلے روز کا موہوم خوف دل میں لیےڈرے ڈرے سے ذرا بال پڑ نہ جائے کہیںلیے دیے یونہی بستر میں جا کے لیٹ گئے
میرے آبا و اجداد نے حرمت آدمی کے لیےتا ابد روشنی کے لیےکلمۂ حق کہامقتلوں قید خانوں صلیبوں میں بہتا لہو ان کے ہونے کا اعلان کرتا رہاوہ لہو حرمت آدمی کی ضمانت بناتا ابد روشنی کی علامت بنااور میں پا برہنہ سر کوچۂ احتیاجرزق کی مصلحت کا اسیر آدمیسوچتا رہ گیاجسم میں میرے ان کا لہو ہے تو پھر یہ لہو بولتا کیوں نہیں؟
اک آواز ابھرتی آ رہی ہےدودھیا سی روشنی اکپردۂ بینائی سے ہو کر گزرتی گزرتی جا رہی ہےسلب ہوتی جا رہی ہےقوت انکار بھیاقرار بھیکچھ ہو رہا ہے یا کہوں کچھ ہےنہیں معلوم کیا ہے اور کیوں کچھ ہےاک انبوہ فراواںجوق اندر جوق سب افراداقرا کی طرف جاتے ہوئےاور میں ادھر غار حرا کیچہل سالہ خامشی میںمحو ہوتا جا رہا ہوں
عجیب لوگ تھےسورج کی روشنی کے تلےخود اپنے آپ کو پہچان بھی رہے تھےاورلبوں پہ دعویٰ انکار آفتاب بھی تھاوہ جانتے تھے کہ سورج کی روشنی کے سواکوئی چراغ میسر نہیں ہے ایسا جوتلاش اصل حقیقت کے زینے چڑھتے ہوئےبے امتیازی میں اس آفتاب جیسا ہوعجیب لوگ تھےسورج کے نور خانے میںکرایہ دار بھی تھے اور سرنگوں نہیں تھےکسی شرار منافق نے ان کے سینوں میںزباں درازی کی اس آگ کو ہوا دی تھیجسے قبیلۂ غفلت کے خشک لوگوں نےانا کے خبط پہ افلاک سے نکالے ہوئےکسی درندۂ بے شکل کی تسلی پربرائے نشۂ حیوانیت اٹھا لیا تھامگر یہ کیاکہ پھر آج اس ہماری بستی میںعجیب لوگ ہیںسورج کی روشنی کے تلےخود اپنے آپ کو پہچان بھی رہے ہیںاورلبوں پہ دعویٰ انکار آفتاب بھی ہےعجیب لوگ ہیںسورج کے نور خانے میںکرایہ دار بھی ہیںاور سرنگوں نہیں ہیں
اس کا اقرار کر کےاسے ڈھونڈنے چل پڑاشہر میں دشت میںکوہ و دریا میں، میںمدتوں مارا مارا پھرالیکن اس کا نشاںمیری نظروں سےاوجھل تھا اوجھل رہاآخرش تھک کے جب سو گیامیں کسی موڑ پرتو مرے پردۂ خواب پرایک تحریر مجھ سےمخاطب ہوئی اس طرحتیرا اقرار بالکل بجا ہےمگر یاد رکھایک انکار بھیجزو لازم ہےمذکورہ اقرار کااس لیے غیرممکن ہے تکمیلتیرے اس اقرار کیجب تلکاس کی بنیاد قائم نہ ہوجزو انکار پرنامکمل ہے اقرار جب تک تراغیرممکن کہ پائے تو اس کا پتا!
ہجوم سے ایک اک گنہ گار کو بلاتا اور اس کے ماتھے پہ کلمۂ صبح لکھ رہا تھاتمام مردے خزاں زدہ انگلیوں کے چھونے سے جاگتے تھےگناہ گار نفس تھا میں بھیامید وار شفا تھا میں بھیپھر اس زمستاں کی نیم شب میں ہزار لمحات شاق گزرےاور ایک لمحے نے میرے زخم جگر کو چھو کر کہامداوائے غم کی ساعت قریب ہےسجدہ ریز ہو جایہ اس زمانے کی بات ہے جب زمین کے بے شمار مردے لہو کا بپتسمہ لے رہے تھےلہو کا بپتسمہ لے رہے ہیںرسول خورشید کی صدا بھی تو مر گئی تھی کہر میں وہ کھو گیا اوراسی زمستاں کی نیم شب میں خبر ملی ہےاسی شبستاں نور و نکہت میں بے کفن لاش پر وہ بیٹھا ہوا ہےاپنے خزاں زدہ ہاتھ سے کسی کے لہو کی تقطیر کر رہا ہےاور اپنے کاسے کو بھر رہا ہےخبر ملی ہے،لہو وہ خورشید کا لہو ہے
اندھیروں کے پجاری کو اجالوں سے ہو کیوں رغبتصبح کی نرم کرنوں سے ہو ان کو کس لیے چاہتانہیں تو دیپ جگنو اور ستاروں سے بھی نفرت ہےانہیں تو روشنی دیتی کتابوں سے عداوت ہےگوارہ ہے انہیں بس چاند بھی تو اولیں شب کاوگرنہ طاق اور گھنگھور راتوں میںتلاش رب رہے جاریمگر یہ کیا زباں پر کلمۂ حق اور آنکھوں میںعجب وحشت عجب دہشت لہو طاری لہو طاریمساوات تشخص کیا اخوت بھائی چارہ کیالہو کو چاٹتے خنجر سے ان کو اور پیارا کیامحبت ان کے آگے بس گنہ ہے جو کبیرہ ہےشہر پہ راج کرتی وحشتیں ان کا وطیرہ ہےمگر وہ بھول بیٹھے ہیں اصول زندگی ہے کہفضا میں لہلہاتی آگ کو تازہ ہوائیں سرد کرتی ہیںہو کالی رات جتنی بھی صبح صادق کا سورجسیاہی کی ریاست پر نظر جب گاڑ دیتا ہےتو پھرسویرا جگمگاتا ہے خدا بھی مسکراتا ہےاندھیروں کے پجاری جان لیں اتناہوا نہ قید ہوتی ہے نہ سورج دفن ہوتا ہے
کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گیشاید اس طرح کہ جس طور تہہ نوک سناںکوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگےاور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہاز کراں تا بہ کراں دہر پہ منڈلانے لگےکس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گیخواہ قاتل کی طرح آئے کہ محبوب صفتدل سے بس ہوگی یہی حرف وداع کی صورتللہ الحمد بہ انجام دل دل زدگاںکلمۂ شکر بہ نام لب شیریں دہناں
سو اب یہ شرط حیات ٹھہریکہ شہر کے سب نجیب افراداپنے اپنے لہو کی حرمت سے منحرف ہو کے جینا سیکھیںوہ سب عقیدے کہ ان گھرانوں میںان کی آنکھوں کے رنگتوں کی طرح تسلسل سے چل رہے تھےسنا ہے باطل قرار پائےوہ سب وفاداریاں کہ جن پر لہو کے وعدے حلف ہوئے تھےوہ آج سے مصلحت کی گھڑیاں شمار ہوں گیبدن کی وابستگی کا کیا ذکرروح کے عہد نامے تک فسخ مانے جائیںخموشی و مصلحت پسندی میں خیریت ہےمگر مرے شہر منحرف میںابھی کچھ ایسے غیور و صادق بقید جاں ہیںکہ حرف انکار جن کی قسمت نہیں بنا ہےسو حاکم شہر جب بھی اپنے غلام زادےانہیں گرفتار کرنے بھیجےتو ساتھ میں ایک ایک کا شجرۂ نسب بھی روانہ کرنااور ان کے ہم راہ سرد پتھر میں چننے دیناکہ آج سے جبہزارہا سال بعد ہم بھیکسی زمانے کے ٹیکسلایا ھڑپہ بن کر تلاشے جائیںتو اس زمانے کے لوگہم کوکہیں بہت کم نسب نہ جانیں
آدم خاکی کی پیدائش سے پہلےجن کا کہنا تھا زمیں پرخون بہائے گا یہ ناحقاور مچائے گا فساداب وہی پیشین گو امیدواراس کے گن گاتے ہوئے تھکتے نہیںامتحان گاہ مقدر ہو تو ایسیجس میں پر تاب و تواں ہمکارپردازان فطرت لا جواباور آدم اس کی طینت میں تو گویاحل شدہ پہلے سے تھے سارے سوالجن مظاہر کی طرف دیکھا نظر بھر کرمعانی کے دمک اٹھے انہیں میں مضمراتحکمت اشیا کے سانچے میں ڈھلیبے ساختہ اسم آفرینی مرحباخاک بے مقدار کے ذرات میںجوہر نطق و بیاں ایسا بھی مخفی ہےکسے معلوم تھاامتحاں ختماور مسجود ملائک بن گئی انساں کی ذاتمیں نے لیکن شیوۂ انکار اپنایاکہ میں آتش نہادمرتبے میں خاک افتادہ سے برتراصل میں والا گہرچاہے افلاک و زمین پرپھیل کر چھا جائے یہ مشت غبارحربہ تسخیر لیکن کارگر مجھ پر بھی ہو اس کایہی اک مرحلہ ہے معرکے کاامتحاں یہ سخت تر ہےکامیابی اس میں بھی پائے یہیامیدوار خوش گماںآساں نہیںمیری اپنی اک لغت ہےجس میں اسما کے معانی بار باراک نئی تعبیر کے آئینہ دارمنصب آزادگی آدم کااک پروانۂ غارت گریاس میں لکھا ہےاور آگاہیتباہی کے وسائل تک رسائی کا جوازاس میں چھپا ہےالغرض اس کھیل کا مہرہ وہیعلم اسما ہے مگراک پر فسوں تقلیب کاری کا شکاراک پر فسوں تقلیب کاری کا شکار
محبت خالق ہر دو جہاں ہےمحبت دین فطرت کی زباں ہےمحبت جذبۂ صدق و یقیں ہےمحبت ہی محبت کی امیں ہےمحبت طالب حسن و جوانیمحبت پھول کانٹوں کی کہانیمحبت شاہد وحدانیت ہےمحبت جذبۂ انسانیت ہےمحبت حرف شیریں کی امانتمحبت جذبۂ دل کی صداقتمحبت جسم بھی ہے جان بھی ہےمحبت فطرت انسان بھی ہےکہا جس کو فرشتوں نے عبادتمحبت ہے محبت ہے محبتمحبت دشمن رہبانیت ہےمحبت کلمۂ انسانیت ہےمحبت رہنمائے آدمی ہےمحبت سوز و ساز زندگی ہےمحبت عشق کا طوفان بھی ہےمحبت حسن کا ایمان بھی ہےمحبت فلسفہ ہے دوستی کامحبت میں سبق ہے زندگی کامحبت فاتح و مفتوح بھی ہےمحبت حامد و ممدوح بھی ہےمحبت ہے یقین کامرانیمحبت دار کی بھی ہے کہانیمحبت دین و دنیا کی طلب ہےمحبت فکر ہے علم و ادب ہےمحبت طرز بھی انداز بھی ہےمحبت ساز بھی آواز بھی ہےمحبت جاں نثاروں کی خوشی ہےمحبت حسن کی زندہ دلی ہےمحبت کا نہیں ہے ایک پہلومحبت پر نہ پایا دل نے قابومحبت نغمۂ روز ازل ہےمحبت قاضیٔ شہر عمل ہےمحبت درد ہے دیوانگی ہےمحبت فرض ہے مردانگی ہےمحبت امتحان زندگی ہےمحبت دیوتا کی مورتی ہےمحبت رحمتوں کی داستاں ہےمحبت مرد مومن کی اذاں ہےمحبت رونق دنیا و دیں ہےمحبت چاند سورج کی زمیں ہےمحبت گل بھی ہے اور گلستاں بھیمحبت خارزاروں کی زباں بھیمحبت دعوت رنج و الم بھیمحبت ہے نوید فکر و غم بھیمحبت ولولوں کی انتہا بھیبڑھاپے میں جوانی کی صدا بھیمحبت ہی خوشی کا راستہ ہےمحبت ہی میں دنیا کا بھلا ہےمحبت قصۂ جام و سبو ہےمحبت زندگی کی جستجو ہےمحبت آدم و حوا نے کی ہےمحبت روح کی پاکیزگی ہےمحبت چین ہے صبر و سکوں ہےمحبت راحت اہل جنوں ہےمحبت سے ہے رونق محفلوں کیمحبت کب خطا ہے تھڑ دلوں کیمحبت ہر سلیقے کا نشاں ہےمحبت ہر نفس کی داستاں ہےمحبت معنیٔ حسن سخن ہےمحبت اللہ والوں کا چلن ہےمحبت صاحب علم الیقیں بھیمحبت روح بھی روح الامیں بھیمحبت عشق ہے ضرب خودی ہےمحبت ذوالفقار حیدری ہےمحبت بھید کھولے آرزو کےمحبت زندگی کے غم سمیٹےمحبت نفسیاتی الجھنوں سےورق الٹے صداقت کے جنوں کےمحبت ہے علاج ضبط انساںمحبت امتحان ضبط انساںمحبت کی الگ سب سے ہے بولیمحبت کی گرہ فطرت نے کھولیمحبت صاحب فکر و نظر ہےمحبت میں رقابت کا بھی ڈر ہےمحبت دو جہاں میں سرخ رو بھیمحبت گل محبت رنگ و بو بھیمحبت ماہتابوں سے بنی ہےمحبت انقلابوں سے بنی ہےمحبت کا نشہ ہے سب سے بہترمحبت پارۂ تسنیم و کوثرمحبت شعلہ ہے شعلہ نما ہےمحبت ہی حقیقت میں خدا ہے
ہم آزادی کے دیوانے یہ دنیا فرزانوں کیاس پاپی سنسار میں بابا کون سنے دیوانوں کیمسجد مندر سب کے اندر راج غلامی کرتی ہےدولت لے کر نام خدا کا گھر گھر دھرنا دھرتی ہےکوٹھی بنگلے گورے سانپوں کی اک ایسی بستی ہےجو بھارت کے بھولے بھالے انسانوں کو ڈستی ہےان سے بچ کر چلنا بابا یہ قاتل زہریلے ہیںصورت کے موہن ہیں بھیتر سے سب نیلے پیلے ہیںشیدا ہوں آزادی کا آزاد نگر میں ڈیرا ہےکیا بتلاؤں میرے بھیا کون جہاں میں میرا ہےوہ میرا جو آزادی کی زلفوں کا دیوانہ ہےوہ میرا جو شمع وطن کا شیدائی پروانہ ہےوہ میرا جو موت کے آگے بے جگری سے تنتا ہےوہ میرا جو آپ نہ ہو کچھ جس کی سب کچھ جنتا ہےوہ میرا جو ہنستے ہنستے پھانسی پر چڑھ جاتا ہےوہ میرا جو موت سے بھی دو چار قدم بڑھ جاتا ہےآزادی کے طالب سن لے موت ہی میری منزل ہےتو دنیا کا بن سکتا ہے میرا بننا مشکل ہے
مرے اک دوست نے مجھ سےکہا اے شاہدؔ انورترا چہرہ ہزاروں میں الگ پہچان رکھتا ہےتری آنکھیں حیا کی وہ نشانی ہیںجنہیں میں روز تکتا ہوںتری گفتار سے معصوم کلیاں مسکراتی ہیںترے الفاظ میں پیغام ہے زندہ دلی کاترے اشعار مجھ کو حوصلہ دن رات دیتے ہیںیہ سب سنتے ہوئے حیرت سےمیں اپنے آپ میں خاموش بیٹھا تھامرا چہرہ مری آنکھیںمری گفتار کے چرچےمرے الفاظ اور اشعارکوئی بھی اس قدر تعریف کے لائق کبھی نہ تھامگر اے دوستمحبت نے تری نظروں کو وہ تاثیر بخشی ہےکہ مجھ سے عام انساں نےترے دل میں جگہ پا لی
جس نے جنم کی گھٹی چکھیاس کو زینے طے کرنا ہیںاندر باہرنیچے اوپرآگے پیچھےزینے ہر ہر اورجتنا جانوچڑھ آئےاتنا سمجھواتر چکے ہو
روشنی کی ایک ہلکی سی کرنظلم کے گہرے اندھیروں سے اٹھیدور جا کر جگمگاتی برف کےکوہ پر انوار میں گم ہو گئی
آج پت جهڑ سے جیون میں پہلے پہلمیرے بے رنگ بنجر بدن کی زمیںکلبلانے لگیزلزلہ جسم میں ایسا برپا ہواسب دفینے خزینے بدن سے ابلنے لگےآبلوں اور چھالوں کے انکر نکلنے لگےلال پیلے ہرے بینگنی کتھئیزخم کے پھول کھلنے لگےمیرے بے رنگ بنجر بدن کی زمیں لہلہانے لگیمیری حیرت بڑھانے لگیمیری مٹی بھی اپجاؤو ہے اس قدرمیں نے سوچا نہ تھااک مہینے میںزخموں کی چھ سات فصلیں کٹیںزندگی بھر کی محرومیوں کا گلہ مٹ گیاجسم کی لہلہاتی زمیں دیکھ کر میرا جی خوش ہوازخم پہلا جو تھا داغ ہےدوسرا سوکھنے کے مراحل میں ہےتیسرا پھول کی طرح کھلتا ہوااور چوتھا کلی کی طرح ہے چٹکتا ہواپانچواں ہو بہو ہے کلیاور چھٹا کیچوے کی طرحگیلی مٹی میں آہستہ سے رینگتا ہے ابھیساتواں کلبلاتا ہے زیر زمیںآٹھواں ہنس رہا ہے فلک پر کہیںپاؤں جیسے مرے مور کے ہو گئےہاتھ پھولوں کا دستہ ہواجسم پر داغ کے چاند تارے چمکنے لگےاے خدا اس نوازش پہ تیرا بہت شکر ہےلیکن اباس بدن کی زمیںآنے والی نئی فصل کے واسطے تنگ پڑنے لگیمیرے مالک تو ابآبلوں کی نئی فصل کو روک دےیا مجھے دوسرا جسم دے
خاکستر دل کو ہے پھر شعلہ بجاں ہوناحیرت کا جہاں ہونا حسرت کا نشاں ہونااے شخص جو تو آکر یوں دل میں سمایا ہےتو درد کہ درماں ہے تو دھوپ کہ سایا ہے؟نیناں ترے جادو ہیں گیسو ترے خوشبو ہیںباتیں کسی جنگل میں بھٹکا ہوا آہو ہیںمقصود وفا سن لے کیا صاف ہے سادہ ہےجینے کی تمنا ہے مرنے کا ارادہ ہے
اے متوالو ناقوں والو دیتے ہو کچھ اس کا پتانجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھاآخر اس پر کیا کچھ بیتی جانو تو احوال کہوموت ملی یا لیلیٰ پائی؟ دیوانے کا مآل کہوعقل کی باتیں کہنے والے دوستوں نے اسے سمجھایااس کو تو لیکن چپ سی لگی تھی نا بولا نا باز آیاخیر اب اس کی بات کو چھوڑو دیوانا پھر دیواناجاتے جاتے ہم لوگوں کا ایک سندیسا لے جانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books