aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maatho.n"
کتنے ماتھوں کے ابھی سرد ہیں رنگین گلابگرد افشاں ہیں ابھی گیسوئے پر خم کتنے
گھر میں بیٹھے ہوئے کیا لکھتے ہوباہر نکلودیکھو کیا حال ہے دنیا کایہ کیا عالم ہےسونی آنکھیں ہیںسبھی خوشیوں سے خالی جیسےآؤ ان آنکھوں میں خوشیوں کی چمک ہم لکھ دیںیہ جو ماتھے ہیںاداسی کی لکیروں کے تلےآؤ ان ماتھوں پہ قسمت کی دمک ہم لکھ دیںچہروں سے گہری یہ مایوسی مٹا کےآؤان پہ امید کی اک اجلی کرن ہم لکھ دیںدور تک جو ہمیں ویرانے نظر آتے ہیںآؤ ویرانوں پر اب ایک چمن ہم لکھ دیںلفظ در لفظ سمندر سا بہےموج بہ موجبحر نغمات میںہر کوہ ستم حل ہو جائےدنیا دنیا نہ رہے ایک غزل ہو جائے
یہیں پہ ماتھوں کی روشنی جل کے بجھ گئی ہےسپاٹ چہروں کے خالی پنے کھلے ہوئے ہیںحروف آنکھوں کے مٹ چکے ہیں
کتنی سنجیدہ بیٹھی ہے یہ احباب کی ٹولیکتنے اوج بلاغت پر ہے خاموشی کی بولیساری قوت چوس چکی دن بھر کی شہر نوردیماتھوں میں سے جھانک رہی ہے مرتی دھوپ کی زردی
شاہوں کو خبر نہیں ہو سکیکہ بلڈوزروں سے ہٹائی گئی میتوں کی ڈھیر میںکس کس کے احرام پر لہو نے آیتیں رقم کیںحاجیوں کی جمع پونجی سے منافع بٹورتی حکومتیںآب زم زم کے چشمے اور پٹرول کے کنویں میںتمیز کرنا بھول جائیںتو خون کی لکیر حرم سے نکل کر منا تک پہنچ جاتی ہےشاہی فرمان کو عبادت کا درجہ دینے والےمفتیوں نے یہ کبھی نہیں دیکھاکہ تاریخ کئی بار تخت کو تختہ بنتے ہوئے دیکھ چکی ہےشیطان کو پتھر مارتا ہوا ہجوماپنے آپ کو روند کر خاک میں مل جاتا ہےاور منصور انا الحق کہہ کر ہر دور میں امر ہوتا رہاخداندامت کے آنسو رونے والوں کومعاف کرنے میں دیر نہیں کرتااور شیطان انتقام لینا نہیں بھولتالیکن ہم بھول جاتے ہیںکہ محراب مسجد کے ہوں یا ماتھوں کےنیکیوں اور بدیوں کا حساب صرف خدا کے پاس ہےگن گن کر پتھر مارنے والےان کنکروں کی گنتی بھول چکے ہیںجو ابابیلوں نے ہاتھیوں پر گرائے تھے
چند لمحوں میں ہو گئی بربادکوئنا کی حسین آبادیجانے میری ستم زدہ آنکھیں اس سسکتے ہوئے خرابے میںدیر سے کیا تلاش کرتی ہیںمسکراہٹ جوان چہروں کیآبگینہ حسین خوابوں کاچوڑیاں نرم نرم ہاتھوں کیچاندنی سرخ سرخ ماتھوں کیاس خرابے میں کچھ نہیں ملتااس طرح سے زمیں نے کروٹ لیہو گئی ہے اتھل پتھل دھرتیجل گئے سب بہار کے سپنےصرف سپنوں کی راکھ باقی ہے
تم مری کھوج میںیوں ہی تاریک غاروں مٹھوں معبدوں خانقاہوں میںگھٹ گھٹ کے مر جاؤ گےمیں نہیں مل سکوں گا تمہیں اب کبھیدھرم میں سنگھ میں دھیان میں گیان میںنیلے ساگر کی تہہ میں اتر کربرازیل کے جنگلوں میں بھٹک کرہمالہ کی چوٹی پہ چڑھ کرمجھے تم نہ آواز دو
سحر کے اگر ایسے لمحات میں جاگتے ہوستارے بھی جب اونگھ جائیںاگر دودھیا چاندنی کے جواں جسم کی موت دیکھے ہوئے ہواگر سوچ میں سر کھجاتے درختوں کیویراں پر اسرار تنہائیوں بیچپچھلے ستارے کی چھانو تلےگام دو گامسوئی ہوئی ساعتوں میںچلے ہوتو تم ہم سے ہوتم مگر تب کہاں تھےسدھارت نے جب آخری رات میںدو ستاروں کے ماتھوں پہ بوسہ دیااور آفاق میں کھو گیادور صدیوں کی پہنائی پرمیں جو حیراں کھڑا دیکھتا تھااکیلا کئی قرن روتا رہا ہوں
سانس لینے کے لئےقصر و کاشانہ ضروری تو نہیںکوئی ویرانہ کوئی دشت ہی کافی ہےجہاںآسماں اور زمیں روز گلے ملتے ہیںصبح دم باد صباشاخ در شاخ لٹاتی ہے نمیخوشبو پھیلاتی ہے آنچل اپناکھلکھلاتی ہوئی دوشیزہ کلی کے رخسارشوخ بھونرے کی نگاہوں سے شفق ہوتے ہیںمخملیں پاؤں تلےسبزۂ بالیدہ کوئیچھمچھماتی ہوئی بارش میں نہا جاتا ہےشامدرماندہ پرندوں کی پنہ گاہوں میںقمقمے کرمک شب تاب کے روشن کر کےشب کی آغوش میں سو جاتی ہےان گنت ہیروں کی ننھی کنیاںجگمگا اٹھتی ہیں تاروں کے حسیں ماتھوں پرچاند دودھ کٹورا لے کربوڑھی نانی کی کہانی میں سما جاتی ہےکوئی آواز نہ سازکوئی نغمہ نہ الاپنہ کوئی بحث نہ تمحیص نہ تکرار کوئینہ سیاست نہ خباثت نہ شماتت کوئیاختلافات سے دورسارے مفادات سے دورسب خرافات سے دورچھل کپٹ جھوٹ نہ دھوکا نہ فریبکوئی الجھن کوئی فتنہ نہ کوئی جھنجھلاہٹکوئی شکوہ نہ گلہفکر فردا نہ ہی اندیشۂ امروز کوئیایک انجان مسرت کی کرنان چھوئے خوابوں کی ٹھنڈی بوچھاراجنبی سی کسی خواہش کا خمارکسی بے نام سے احساس کا لمسعرصۂ جاں میں اتر جاتا ہےزندہ رہنے کا عملکتنا جاں بخش نظر آتا ہےسانس لینے کے لئےقصر و کاشانہ ضروری تو نہیںکوئی ویرانہکوئی دشت ہی کافی ہےمگردشتوہ دشتجسے دیکھ کے گھر یاد نہ آئے
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیایہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیایہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیایہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیاتلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میںننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میںیہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میںعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیامردوں کے لئے ہر ظلم روا عورت کے لیے رونا بھی خطامردوں کے لئے ہر عیش کا حق عورت کے لیے جینا بھی سزامردوں کے لئے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتاعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاجن سینوں نے ان کو دودھ دیا ان سینوں کو بیوپار کیاجس کوکھ میں ان کا جسم ڈھلا اس کوکھ کا کاروبار کیاجس تن سے اگے کونپل بن کر اس تن کو ذلیل و خوار کیاسنسار کی ہر اک بے شرمی غربت کی گود میں پلتی ہےچکلوں ہی میں آ کر رکتی ہے فاقوں سے جو راہ نکلتی ہےمردوں کی ہوس ہے جو اکثر عورت کے پاپ میں ڈھلتی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیاعورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہےاوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہےیہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہےعورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یاربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یاربہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنادرد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنامرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کونیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
خاموش زمیں کے سینے میں خیموں کی طنابیں گڑنے لگیںمکھن سی ملائم راہوں پر بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیںفوجوں کے بھیانک بینڈ تلے چرخوں کی صدائیں ڈوب گئیں
یہ بینک کار منیجر یہ اپنے ٹیکنوکریٹکوئی بھی شبہ نہیں ہیں یہ ایک عبث کا ٹھٹھولمیں خود بھی ان کو کرومیگنن سمجھتی ہوںیہ شاندار جناور ہیں دفتروں کا مخول
سیکڑوں حسن ناصرہیں شکار نفرت کےصبح و شام لٹتے ہیںقافلے محبت کےجب سے کالے باغوں نےآدمی کو گھیرا ہےمشعلیں کرو روشندور تک اندھیرا ہےمیرے دیس کی دھرتیپیار کو ترستی ہےپتھروں کی بارش ہیاس پہ کیوں برستی ہےملک کو بچاؤ بھیملک کے نگہبانودس کروڑ انسانو!بولنے پہ پابندیسوچنے پہ تعزیریںپاؤں میں غلامی کیآج بھی ہیں زنجیریںآج حرف آخر ہےبات چند لوگوں کیدن ہے چند لوگوں کارات چند لوگوں کیاٹھ کے درد مندوں کےصبح و شام بدلو بھیجس میں تم نہیں شاملوہ نظام بدلو بھیدوستوں کو پہچانودشمنوں کو پہچانودس کروڑ انسانو!
جو مرحلوں میں ساتھ تھے وہ منزلوں پہ چھٹ گئےجو رات میں لٹے نہ تھے وہ دوپہر میں لٹ گئےمگن تھا میں کہ پیار کے بہت سے گیت گاؤں گازبان گنگ ہو گئی، گلے میں گیت گھٹ گئےکٹی ہوئی ہیں انگلیاں رباب ڈھونڈھتا ہوں میںجنہیں سحر نگل گئی وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میںکہاں گئی وہ نیند کی شراب ڈھونڈھتا ہوں میں
معیشت دوسروں کے ہاتھ میں ہے میرے قبضہ میںجز اک ذہن رسا کچھ بھی نہیں پھر بھی مگر مجھ کوخروش عمر کے اتمام تک اک بار اٹھانا ہےعناصر منتشر ہو جانے نبضیں ڈوب جانے تکنوائے صبح ہو یا نالۂ شب کچھ بھی گانا ہےظفر مندوں کے آگے رزق کی تحصیل کی خاطرکبھی اپنا ہی نغمہ ان کا کہہ کر مسکرانا ہےوہ خامہ سوزی شب بیداریوں کا جو نتیجہ ہواسے اک کھوٹے سکے کی طرح سب کو دکھانا ہےکبھی جب سوچتا ہوں اپنے بارے میں تو کہتا ہوںکہ تو اک آبلہ ہے جس کو آخر پھوٹ جانا ہےغرض گرداں ہوں باد صبح گاہی کی طرح لیکنسحر کی آرزو میں شب کا دامن تھامتا ہوں جبیہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہویہ لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوںوہ آشفتہ مزاج اندوہ پرور اضطراب آساجسے تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مر چکا ظالماسے خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر فریبوں کااسی کی آرزوؤں کی لحد میں پھینک آیا ہوںمیں اس لڑکے سے کہتا ہوں وہ شعلہ مر چکا جس نےکبھی چاہا تھا اک خاشاک عالم پھونک ڈالے گایہ لڑکا مسکراتا ہے یہ آہستہ سے کہتا ہےیہ کذب و افترا ہے جھوٹ ہے دیکھو میں زندہ ہوں
ان کانچ کے منکوں کے بدلےہاں بولو گوری کیا لو گی؟تم ایک جہان کی اشرفیاں؟یا دل اور جان کی اشرفیاں؟
مجھے مت بتاناکہ تم نے مجھے چھوڑنے کا ارادہ کیا تھاتو کیوںاور کس وجہ سےابھی تو تمہارے بچھڑنے کا دکھ بھی نہیں کم ہواابھی تو میںباتوں کے وعدوں کے شہر طلسمات میںآنکھ پر خوش گمانی کی پٹی لیےتم کو پیڑوں کے پیچھے درختوں کے جھنڈاور دیوار کی پشت پر ڈھونڈنے میں مگن ہوںکہیں پر تمہاری صدا اور کہیں پر تمہاری مہکمجھ پہ ہنسنے میں مصروف ہےابھی تک تمہاری ہنسی سے نبرد آزما ہوںاور اس جنگ میںمیرا ہتھیاراپنی وفا پر بھروسہ ہے اور کچھ نہیںاسے کند کرنے کی کوشش نہ کرنامجھے مت بتانا.....
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books