aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mauqaa"
ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کےمجھے وہ قرض چکانے کا موقع تو دیتےتمہارا خون مرے جسم میں مچلتا رہاذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے
گر قوم کی خدمت کرتا ہےاحسان تو کس پر دھرتا ہےکیوں غیروں کا دم بھرتا ہےکیوں خوف کے مارے مرتا ہےاٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہےپھر دیکھ خدا کیا کرتا ہےجو عمریں مفت گنوائے گاوہ آخر کو پچھتائے گاکچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گاجو ڈھونڈے گا وہ پائے گاتو کب تک دیر لگائے گایہ وقت بھی آخر جائے گااٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہےپھر دیکھ خدا کیا کرتا ہےجو موقع پا کر کھوئے گاوہ اشکوں سے منہ دھوئے گاجو سوئے گا وہ روئے گااور کاٹے گا جو بوئے گاتو غافل کب تک سوئے گاجو ہونا ہوگا ہوئے گااٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہےپھر دیکھ خدا کیا کرتا ہےیہ دنیا آخر فانی ہےاور جان بھی اک دن جانی ہےپھر تجھ کو کیوں حیرانی ہےکر ڈال جو دل میں ٹھانی ہےجب ہمت کی جولانی ہےتو پتھر بھی پھر پانی ہےاٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہےپھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
نہیں میرا آنچل میلا ہےاور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیںکسی ہوا نے ان کو اب تک چھونے کی جرأت نہیں کی ہےتیری اجلی پیشانی پرگئے دنوں کی کوئی گھڑیپچھتاوا بن کے نہیں پھوٹیاور میرے ماتھے کی سیاہیتجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتیاچھے لڑکےمجھے نہ ایسے دیکھاپنے سارے جگنو سارے پھولسنبھال کے رکھ لےپھٹے ہوئے آنچل سے پھول گر جاتے ہیںاور جگنوپہلا موقع پاتے ہی اڑ جاتے ہیںچاہے اوڑھنی سے باہر کی دھوپ کتنی ہی کڑی ہو!
اے علی گڑھ اے جواں قسمت دبستان کہنعقل کے فانوس سے روشن ہے تیری انجمنحشر کے دن تک پھلا پھولا رہے تیرا چمنتیرے پیمانوں میں لرزاں ہے شراب علم و فنروح سر سیدؔ سے روشن تیرا مے خانہ رہےرہتی دنیا تک ترا گردش میں پیمانہ رہےایک دن ہم بھی تری آنکھوں کے بیماروں میں تھےتیری زلف خم نجم کے نو گرفتاروں میں تھےتیری جنس علم پرور کے خریداروں میں تھےجان و دل سے تیرے جلووں کے پرستاروں میں تھےموج کوثر تھا ترا سیل ادا اپنے لئےآب حیواں تھی تیری آب و ہوا اپنے لئےعلم کا پہلا سبق تو نے پڑھایا تھا ہمیںکس طرح جیتے ہیں تو نے ہی بتایا تھا ہمیںخواب سے طفلی کے تو نے ہی جگایا تھا ہمیںناز سے پروان تو نے ہی چڑھایا تھا ہمیںموسم گل کی خبر تیری زبانی آئی تھیتیرے باغوں میں ہوا کھا کر جوانی آئی تھیلیکن اے علم و جسارت کے درخشاں آفتابکچھ بہ الفاظ دگر بھی تجھ سے کرنا ہے خطابگو یہ دھڑکا ہے کہ ہوں گا مورد قہر و عتابکہہ بھی دوں جو کچھ ہے دل میں تا کجا یہ پیچ و تاببن پڑے جو سعی اپنے سے وہ کرنا چاہئےمرد کو کہنے کے موقع پہ نہ ڈرنا چاہئےاے علی گڑھ اے ہلاک تابش وضع فرنگٹیمز ہے آغوش میں تیرے بجائے موج گنگوادیٔ مغرب میں گم ہے تیرے دل کی ہر امنگولولوں میں تیرے شاید عرصۂ مشرق ہے تنگکب ہے مغرب کعبۂ حاجت روا تیرے لئےآ کہ ہے بے چین روح ایشیا تیرے لئےکشتۂ مغرب نگار شرق کے ابرو بھی دیکھساز بے رنگی کے جویا سوز رنگ و بو بھی دیکھنرگس ارزق کے شیدا دیدۂ آہو بھی دیکھاے سنہری زلف کے قیدی سیہ گیسو بھی دیکھکر چکا سیر اصل مرکز پر تو آنا چاہئےاپنے گھر کی سمت بھی آنکھیں اٹھانا چاہئےپختہ کاری سیکھ یہ آئین خامی تا کجاجادۂ افرنگ پر یوں تیز گامی تا کجاسوچ تو جی میں یہ جھوٹی نیک نامی تا کجامغربی تہذیب کا طوق غلامی تا کجامرد اگر ہے غیر کی تقلید کرنا چھوڑ دےچھوڑ دے للہ بالاقساط مرنا چھوڑ دے
تو نے جب بھی کبھی مانگا ہے تجھے تیل دیاتجھ کو جب موقع لگا تو نے ہمیں بیل دیا
وہ شہر دوست بھیرخصت ہوا کہ جس نے سداہمارے دل میں کھلائے تھے چاہتوں کے گلابخمار باقی ہے اب تک ہماری آنکھوں میںحسین لمحوں کا جو اس کے دم سے روشن تھےتمہارے بعد بھی آئیں گے یوں تو سب موسمبہت ستائیں گے لیکن ہر ایک موقعہ پرجو ہوتے تم تویہ کام اس طرح کرتےکریں گے یاد تمہیں ہم کئی حوالوں سےعجیب شخص تھاکڑوی کسیلی سن کر بھینہ تیز بولا کسی سےنہ وہ ہوا ناراضسجائے رہتا تھا ہونٹوں پہ چاہتوں کے گلاببچھڑ رہے ہو تو وعدہ کرو مرے ہمدمکبھی جو گزرو ادھر سے تو بھول مت جانایہیں ملیں گے کسی مولسری کے پیڑ تلےکریں گے باتیں شرنگار رس کے دوہوں کیکریں گے باتیں بہاری کی نائیکاؤں کیکریں گے باتیں کسی کے رسیلے ہونٹوں کیمہکتی زلفوں کی کاجل کی اس کی بندیا کیلچکتی شاخ سے جسموں کیچاند چہروں کیبچھڑ رہے ہو تو وعدہ کروکہ آؤ گےکبھی جو گزرو ادھر سے تو بھول مت جاناتمہارے ہجر کے موسم کی سبز چادر کومیں اپنے تن پہ سجائےیہیں ملوں گا تمہیں
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
مسکرا اے زمین تیرہ و تارسر اٹھا اے دبی ہوئی مخلوقدیکھ وہ مغربی افق کے قریبآندھیاں پیچ و تاب کھانے لگیںاور پرانے قمار خانے میںکہنہ شاطر بہم الجھنے لگےکوئی تیری طرف نہیں نگراںیہ گراں بار سرد زنجیریںزنگ خوردہ ہیں آہنی ہی سہیآج موقع ہے ٹوٹ سکتی ہیںفرصت یک نفس غنیمت جانسر اٹھا اے دبی ہوئی مخلوق
میں یہ کہتی ہوں کہ دیکھا کیجئے موقع محلچھیڑ دیتے ہیں کہیں بھی غیر مطبوعہ غزل
جانتے ہو میں ہوں کیا میں ہوں ویشیاپتا ہے میں نے ہے کیا کیا کیامیں ناچتی ہوں کوٹھوں پر خوش ہوتی ہوں بس نوٹوں پرہر رات ہر رات میں اپنا جسم بیچتی ہوںاتنا درد میں بس پیسوں کے لئے تو سہتی ہوںمیں لوگوں کی راتیں رنگین کرتی ہوںہر رات یہ اپرادھ سنگین کرتی ہوںمیرا نام عام میں لینے نہیںنوٹ کے علاوہ میری زندگی کا کوئی نایک نہیںزندگی میں میرا نہ ہے استیو نہ کوئی ایمانسماج کے لئے تو میں ہوں ہی نہیں انساناگر ہے تو بس ہے ایک پہچانہوں ایک کوٹھے والی کرتی ہوں اپنا ہی جسم نیلامہر رات میری ایک نئے گراہک کے ساتھ ہوتی ہےہر رات میری آتما اپنی پہچان کھوتی ہےمیری ماں کا بھی تو یہی کام تھا نہیں جانتی میرے پتا کا کیا نام تھاجان کر بھی کیا کر لیتی وہ بھی ایک ویشیا تھیکام ان کا لوگوں کو سکھ دینا تھا چنتا نہیںوراثت میں ان سے بس یہی ایک کام ملاجس کے کارن ہی شاید مجھے جیون میں کچھ نہ ملانہیں نہیں گلتی ان کی نہیں انہوں نے تو پڑھانا چاہا تھاپر کیا کریں مالکن کو یہ بالکل ناگوار تھانہ جائے دیا مجھے اس نرک سے باہر نہ بننے دی کوئی پہچانان کے دباؤ میں ہی تو مجھے کھونا پڑا میرا ایماناب لوگوں کو بھی کیا دوش دوں جو مجھ پر تھوک کر جاتے ہیںنہیں جانتے وہ میرا سچ بس کچھ بھی کہہ جاتے ہیںدکھ تو خوب ہوتا ہے پر اب عادت سی ہو گئی ہےسوچتی ہوں کبھی کیا میری یہ عادت واقعی سہی ہےکیا مجھے جینے کا کوئی موکا ملے گاکیا میرے جیون میں بھی پیار کا پھول کھلے گاہم سفر نہیں بس ایک ہم درد ہی چاہیےپہچان نہیں تھوڑا سا بس پیار ہی چاہیےایمان نہیں تھوڑی سی بس عزت ہی چاہیےارمان ہے بس ایک کوئی ویشیا نہیں نہیں ویشنوی کر بلائےپیسے دیکھ کر نہیں پیار دے کر گلے سے لگائےکسی کے گھر ٹوٹنے کا نہیں جڑنے کا کارن بننا چاہتی ہوںبس ایک بار کسی کے دکھ کا نیوارن بننا چاہتی ہوںکسی کی بیوی نہ سہی بہن بننا چاہتی ہوںہر بار کی طرح ویشیا نہیں ایک انسان بننا چاہتی ہوں
یہ راماینجو ہندستان کی رگ رگ میں شامل ہےجسے اک بالمیکی نام کے شاعر نے لکھا تھابہت ہی خوب صورت ایک ایپک ہےفسانہ در فسانہ بات کوئی منجمد ہےاموشن قید ہیں لاکھوں طرح کےکئی کردار ہیں جو صاحب کردار لگتے ہیںمگر اک بات ہےجو مدتوں سے مجھ کو کھلتی ہےکہ افسانے میںسب کے درد و غم کا ذکر ملتا ہےمگر وہ ایک لڑکیپھول سے بھی سو گنا نازکجو سیتا کی بہن تھیاور جس کی مانگ میں سندور بھرتے وقت ہیشری رام کے بھائی لکھن نےآگ کی موجودگی میں یہ کہا تھامیں تم سے زندگی بھر عشق فرمایا کروں گااور سائے کی طرح ہی ساتھ میں ہر دم رہوں گاجو لڑکی ایک پل میںسات جنموں کے لیے بیوی لکھن کی ہو گئی تھیوہی لڑکیجسے سب ارملا کہہ کر بلاتے تھےجو اپنے باپ کے سینے سے لگ کر وقت رخصت خوب روئیاس کے اشکوں سےفسانے کا کوئی حصہ کہیں بھیگا نہیں ہےاور اس کے درد کی کوئی نشانی تک نہیں ملتیمگر سچ ہےکہ راماین میں ویسا غم زدہ کردار کوئی بھی نہیں ملتامیں اس کردار سے خاصا متأثر ہوںکہ جب چودہ برس کے واسطے شری رام کو بن واس جانا تھاآمادہ تھے لکھن بھی بھائی کی سیوا میں جانے کوذرا سا بھی نہیں سوچاکہ جس لڑکی سے پوری زندگی کا ربط جوڑا ہےکہ جس نے خوب صورت نین میں کچھ خواب بوئے ہیںاسے کس کے سہارے چھوڑ کر وہ جا رہے ہیںمگر وہ ارملا کو چھوڑ کر بھائی کے پیچھے چل پڑےکوئی تڑپتی آرزو سیارملا کے ہونٹھ سے گر کرکئی ٹکڑوں میں نیچے فرش پر بکھری ہوئی تھیزور سے آواز ننھی پھڑپھڑائیاور زخمی ہو گیا تھا پیار کا وہ ایک دامنجو کبھی پھولوں کی خوشبو میں بھگویا تھامحض کانٹے ہی کانٹے ہر طرف تھےاک امارت بننے سے پہلے ہی ٹوٹی تھیتو یعنی ارملا چودہ برس تکخلوتوں کے موسموں سے روز لڑتی تھیسہیلی ساتھ تھیلیکن سبھی خوشیوں کو وہ اگنور کرتی تھیتمنائیں اگر بادل کی طرح گھرنے لگتی تھیںتمناؤں کی بارش میں نہانے سے وہ بچتی تھیچرا لیتی تھی وہ آنکھیںاگر غلطی سے کوئی آئنہ تعریف کر دیتاہوائیں جسم میں اس کے اگر سہرن جگا دیتیںتو خود کو اپنی ہی بانہوں میں بھر کرخود سے یہ کہتیلکھن آئیں گے جلدی مان بھی جاؤ بہاروںاور سو جاؤ ستاروں تمکہ مجھ کو رات دن جگنے کی عادت ہو گئی ہےاور محبت کے لیے یہ عمر کی دولت پڑی ہےمگر جب خواہشوں کے باندھ اکثر ٹوٹتے ہوں گےتو پھر سیلاب میںکیا کیا نہ بہہ کر کھو گیا ہوگاہزاروں ادھ کھلے ارمان بھی مرجھا گئے ہوں گےتبسم نےکسی پل ڈس لیا ہوگا لبوں کو گرتو سارا زہر موقع دیکھ کراس کے بدن میں رقص کرتا پھر رہا ہوگاکبھی کوئل کی کالی کوک گر کانوں میں پہنچی ہوتو شریانوں میں بہتا خون سارا جم گیا ہوگاپرائے مرد کا کوئی تصور چھونے سے پہلےوہ لڑکی ڈر گئی ہوگیاچانک مر گئی ہوگی
میں اور کتنے چہرے پہنوںبینائی کے جمگھٹے میںبار بار خود سے بچھڑ جاتا ہوںسو میں نے اپنی یاد داشت میں ایکتنہائی تخلیق کیتاکہ اس میں بیٹھ کر مجھے خود کو دہرانےکا موقعہ ملتا رہےفرصت نے مجھے تھکا دیا تھاشکر ہے! میں اپنے کسی کام تو آیا!
کچھ تارے مل کر تمہاری تصویر بناتے ہیں آسمان میںتم ان تاروں سے ایک بار مل آؤروز وہ تمہارے ہونٹھ کے نیچے کا تل بنانا بھول جاتے ہیںپھر مجھے اپنے انگلیوں کی پوروں سے وہ تل بنانا پڑتا ہےوہ تل بناتے بناتے اکثر میں موقع دیکھ کر تمہاری زلف تمہارے دائیں کان کے پیچھے کر دیتا ہوںپھر کسی چمکتے تارے سے بناتا ہوں تمہارے ایک کان کا جھمکادوسرا جھمکا میں الماری سے لینے جاتا ہوں تب تک تارے تمہاری تصویر مٹا دیتے ہیں اور میںبس تمہارا جھمکا پکڑے پکڑے رات کو صبح سے ملوا دیتا ہوں
دادا جان کہدس کم ساٹھ برس تک ان سےاندھی گھپ کالی راتوں میںچھپ چھپ کے ملنے آئےبیوی کی زرخیز آنکھوں میںصرف اولاد نرینہ کےخواب اگا کے چلے گئے۔۔۔یہ شوہر کے رستے میںحائل نہ ہوئیںدل کے ٹکڑےہوسٹلوں میں پلے بڑھےحیف کہ ان کے دکھ سکھ میںشامل نہ ہوئیںدادا جان کی سخت طبیعت نےاس کا موقع ہی نہ دیایہ وہ ناطقجو خاموش رہیں۔۔۔اس نازیبا خاموشی میںآگ لگانے کے دن آئےاب اپنے چقماق مانگتی ہیں۔۔۔
بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے گیساس کہے گز بھر کی زباں ہے اپنی منہ آئی ہی کہے گیبہو کہے جب دیکھو جب ہی خواہی نخواہی بات بڑھاناساس پکارے اے مرے اللہ توبہ بھلی اب تو ہی بچانابہو کہے اپنا گھر کیسا یاں تو اپنے بھی ہیں پرائےساس کہے جل بھن کے اسے تو راج محل بھی راس نہ آئےبہو کہے جس کے ہاتھوں ہے ڈوئی اسی کا سب کوئی ہےساس پکارے جاؤ جی جاؤ پاؤں کی جوتی سر پہ چڑھی ہےبہو کہے مجھ جنم جلی کو کس کے پلے باندھ دیا ہےساس کہے اب کون بتائے آگے جو آیا ہے کس کا کیا ہےبہو کہے یہ پوت کی دردی بس جو چلے تو بس ہی کھلا دےساس کہے وہ بات ہے اپنی گالی سنے اور پھر بھی دعا دےبہو کہے اب سر پہ پڑی ہے جیسے بھی ہو گزر جائے گیساس کہے جب دیکھو اس کو دودھ ملیدہ ہی کھائے گیبہو کہے جی جو آتا تھا ساس کے سامنے بول رہی تھیساس بھی لیکن ترکی بہ ترکی بھید بہو کے کھول رہی تھیننھے نے یہ موقع تاڑا جھٹ باورچی خانے پہنچادودھ پہ آئی تھی جو ملائی چپکے سے اس کو کھانے پہنچاکھا کے جو لوٹا راہ میں اس نے کالی بلی جاتے پائیدیکھ کے اس کو ڈر کے مارے زور کی اس نے چیخ لگائیایک ہی چیخ نے اس کی پل میں ساس بہو کا جھگڑا چکایادوڑی بہو مرے لال ہوا کیا ساس پکاری ہائے خدایا
اکثر ہمارے خواب میں آتی ہیں ٹافیاںکھل جائے پھر جو آنکھ ستاتی ہیں ٹافیاںتقریب گھر میں ہو کوئی اسکول کا ہو جشنموقع ملے تو رنگ جماتی ہیں ٹافیاںکھائیں مزے مزے سے بڑے بھائی جان بھیباجی بھی خوب شوق سے کھاتی ہیں ٹافیاںابا بھی لے کے آتے ہیں چیزیں نئی نئیامی بھی مارکیٹ سے تو لاتی ہیں ٹافیاںبلی کو خواب کیا نظر آتا ہے کیا کہیںہم کو تو خواب میں نظر آتی ہیں ٹافیاںمیڈم ہماری اچھی ہیں اسکول کی سبھیاچھی ہیں سب سے وہ جو کھلاتی ہیں ٹافیاںدیکھیں جو ٹافیاں تو وہ ہنستے ضرور ہیںبچوں کو روتے روتے ہنساتی ہیں ٹافیاںعادلؔ ہیں ہم بھی ذائقے سے ان کے باخبرپانی ہمارے منہ میں بھی لاتی ہیں ٹافیاں
شوق سے موقع شناسی کی توقع بھی غلطمیں نے ان کی شکل بھی مشکل سے پہچانی ہے آج
تو نے تو مجھ کو دیکھا ہےرات کے صحرا کا ویراگیچھپ کے املتاسوں کے پیلے پیراہن میںمیں نے تیرے کمرہ کی پچھلی کھڑکی سے تجھ کو گہری نیند میں ہنستےکروٹ لیتے روٹھتے منتے دیکھ دیکھ کر اکثراپنی رات گزاریتو نے تو مجھ کو دیکھا ہےمیں وہ گونگا چاند ہوں جس سے تو نے ہمیشہ اپنے دل کی بات کہی ہےایسے ہر موقع پر میں نے یہ سوچا ہےتو نے مجھے پہچان لیا ہےورنہ تو یوں مجھ سے دل کی بات نہ کہتی
پلے کو گھر میں لائیں بانہوں میں ہم جکڑ کرموقع ملے تو کھینچیں بلی کی دم پکڑ کر
ہم ترے شہر میں آئے ہیں مسافر کی طرحصرف اک بار ملاقات کا موقع دے دے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books