aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naaqa"
حریم محمل میں آ گیا ہوں سلام لے لوسلام لے لو کہ میں تمہارا امین قاصد خجل مسافر عزا کی وادی سے لوٹ آیامیں لوٹ آیا مگر سراسیمہ اس طرح سےکہ پچھلے قدموں پلٹ کے دیکھا نہ گزرے رستوں کے فاصلوں کوجہاں پہ میرے نشان پا اب تھکے تھکے سے گرے پڑے تھےحریم محمل میں وہ سفیر نوید پرورجسے زمانے کے پست و بالا نے اتنے قصے پڑھا دئیے تھےجو پہلے قرنوں کی تیرگی کو اجال دیتےتمہیں خبر ہےیہ میرا سینہ قدیم اہرام میں اکیلا وہ اک حرم تھاعظیم رازوں کے کہنہ تابوت جس کی کڑیوں میں بس رہے تھےانہیں ہواؤں کا ڈر نہیں تھانہ صحرا زادوں کے نسلی کا ہی ان کی گرد خبر کو پہنچےحریم محمل میں وہ امانت کا پاسباں ہوںجو چرم آہو کے نرم کاغذ پہ لکھے نامے کو لے کے نکلاوہی کہ جس کے سوار ہونے کو تم نے بخشا جہاز صحراطویل راہوں میں خالی مشکوں کا بار لے کر ہزار صدیاں سفر میں گرداںکہیں سرابوں کی بہتی چاندی کہیں چٹانوں کی سخت قاشیںمیان راہ سفر کھڑے تھے جکڑنے والے نظر کے لوبھیمگر نہ بھٹکا بھٹکنے والاجو دم لیا تو عزا میں جا کرحریم محمل سنو فسانے جو سن سکو تومیں چلتے چلتے سفر کے آخر پہ ایسی وادی میں جا کے ٹھہرااور اس پہ گزرے حریص لمحوں کے ان نشانوں کو دیکھ آیاجہاں کے نقشے بگڑ گئے ہیںجہاں کے طبقے الٹ گئے ہیںوہاں کی فصلیں زقوم کی ہیںہوائیں کالی ہیں راکھ اڑ کر کھنڈر میں ایسے پھنکارتی ہےکہ جیسے اژدر چہار جانب سے جبڑے کھولے غدر مچاتےزمیں پہ کینہ نکالتے ہوںکثیف زہروں کی تھیلیوں کو غضب سے باہر اچھالتے ہوںمہیب سائے میں دیوتاؤں کا رقص جاری تھاٹوٹے ہاتھوں کی ہڈیوں سے وہ دہل باطل کو پیٹتے تھےضعیف کوؤں نے اہل قریہ کی قبریں کھودیںتو ان کے ناخن نحیف پنجوں سے جھڑ کے ایسے بکھر رہے تھےچکوندروں نے چبا کے پھینکے ہوں جیسے ہڈی کے خشک ریزےحریم محمل وہی وہ منزل تھی جس کے سینے پہ میں تمہاری نظر سے پہنچا اٹھائے مہر و وفا کے نامےوہیں پہ بیٹھا تھا سر بہ زانو تمہارا محرمکھنڈر کے بوسیدہ پتھروں پر حزین و غمگیںوہیں پہ بیٹھا تھاقتل ناموں کے محضروں کو وہ پڑھ رہا تھاجو پستیوں کے کوتاہ ہاتھوں نے اس کی قسمت میں لکھ دئیے تھےحریم محمل میں اپنے ناقہ سے نیچے اترا تو میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں خموش و ویراںغبار صحرا مژہ پہ لرزاں تھا ریت دیدوں میں اڑ رہی تھیمگر شرافت کی ایک لو تھی کہ اس کے چہرے پہ نرم ہالہ کیے ہوئے تھیوہ میرے لہجے کو جانتا تھاہزار منزل کی دوریوں کے ستائے قاصد کے اکھڑے قدموں کی چاپ سنتے ہی اٹھ کھڑا تھادیار وحشت میں بس رہا تھاپہ تیری سانسوں کے زیر و بم سے اٹھی حرارت سے آشنا تھاوہ کہہ رہا تھا یہاں سے جاؤ کہ یاں خرابوں کے کارخانے ہیںروز و شب کے جو سلسلے ہیں کھلے خساروں کی منڈیاں ہیںوہ ڈر رہا تھا تمہارا قاصد کہیں خساروں میں بٹ نہ جائےحریم محمل میں کیا بتاؤں وہیں پہ کھویا تھا میرا ناقہفقط خرابے کے چند لمحے ہی اس کے گودے کو کھا گئے تھےاسی مقام طلسم گر میں وہ استخوانوں میں ڈھل گیا تھاجہاں پہ بکھرا پڑا تھا پہلے تمہارے محرم کا اسپ تازیاور اب وہ ناقہ کے استخواں بھیتمہارے محرم کے اسپ تازی کے استخوانوں میں مل گئے ہیںحریم محمل وہی وہ پتھر تھے جن پہ رکھے تھے میں نے مہر و وفا کے نامےجہاں پہ زندہ رتوں میں باندھے تھے تم نے پیمان و عہد اپنےمگر وہ پتھر کہ اب عجائب کی کار گہہ ہیںتمہارے نامے کی اس عبارت کو کھا گئے ہیںشفا کے ہاتھوں سے جس کو تم نے رقم کیا تھاسو اب نہ ناقہ نہ کوئی نامہ نہ لے کے آیا جواب نامہمیں نامراد و خجل مسافرمگر تمہارا امین قاصد عزا کی وادی سے لوٹ آیااور اس نجیب و کریم محرم وفا کے پیکر کو دیکھ آیاجو آنے والے دنوں کی گھڑیاں ابد کی سانسوں سے گن رہا ہے
سفیر لیلیٰ یہ کیا ہوا ہےشبوں کے چہرے بگڑ گئے ہیںدلوں کے دھاگے اکھڑ گئے ہیںشفیق آنسو نہیں بچے ہیں غموں کے لہجے بدل گئے ہیںتمہی بتاؤ کہ اس کھنڈر میں جہاں پہ مکڑی کی صنعتیں ہوںجہاں سمندر ہوں تیرگی کےسیاہ جالوں کے بادباں ہوںجہاں پیمبر خموش لیٹے ہوں باتیں کرتی ہوں مردہ روحیںسفیر لیلیٰ تمہی بتاؤ جہاں اکیلا ہو داستاں گووہ داستاں گو جسے کہانی کے سب زمانوں پہ دسترس ہوشب رفاقت میں طول قصہ چراغ جلنے تلک سنائےجسے زبان ہنر کا سودا ہو زندگی کو سوال سمجھےوہی اکیلا ہو اور خموشی ہزار صدیوں کی سانس روکےوہ چپ لگی ہو کہ موت بام فلک پہ بیٹھی زمیں کے سائے سے کانپتی ہوسفیر لیلیٰ تمہی بتاؤ وہ ایسے دوزخ سے کیسے نپٹےدیار لیلیٰ سے آئے نامے کی نو عبارت کو کیسے پڑھ لےپرانے لفظوں کے استعاروں میں گم محبت کو کیونکے سمجھےسفیر لیلیٰ ابھی ملامت کا وقت آئے گا دیکھ لینااگر مصر ہو تو آؤ دیکھویہاں پہ بیٹھو یہ نامے رکھ دویہیں پہ رکھ دو انہی سلوں پرکہ اس جگہ پر ہماری قربت کے دن ملے تھےوہ دن یہیں پر جدا ہوئے تھے انہی سلوں پراور اب ذرا تم نظر اٹھاؤ مجھے بتاؤ تمہارا ناقہ کہاں گیا ہےبلند ٹخنوں سے زرد ریتی پہ چلنے والا صبیح ناقہوہ سرخ ناقہ سوار ہو کر تم آئے جس پر بری سرا میںوہی، کہ جس کی مہار باندھی تھی تم نے بوسیدہ استخواں سےوہ اسپ تازی کے استخواں تھےمجھے بتاؤ سفیر لیلیٰ کدھر گیا وہادھر تو دیکھو وہ ہڈیوں کا ہجوم دیکھووہی تمہارا عزیز ساتھی سفر کا مونسپہ اب نہیں ہےاور اب اٹھاؤ سلوں سے نامےپڑھو عبارت جو پڑھ سکو توکیا ڈر گئے ہو کہ سطح کاغذ پہ جز سیاہی کے کچھ نہیں ہےخجل ہو اس پر کہ کیوں عبارت غبار ہو کر نظر سے بھاگیسفیر لیلیٰ یہ سب کرشمے اسی کھنڈر نے مری جبیں پر لکھے ہوئے ہیںیہی عجائب ہیں جن کے صدقے یہاں پرندے نہ دیکھ پاؤ گےاور صدیوں تلک نہ اترے گی یاں سوارینہ چوب خیمہ گڑے گی یاں پرسفیر لیلیٰ یہ میرے دن ہیںسفیر لیلیٰ یہ میری راتیںاور اب بتاؤ کہ اس اذیت میں کس محبت کے خواب دیکھوںمیں کن خداؤں سے نور مانگوںمگر یہ سب کچھ پرانے قصے پرائی بستی کے مردہ قضیےتمہیں فسانوں سے کیا لگاؤتمہیں تو مطلب ہے اپنے ناقہ سے اور نامے کی اس عبارت سےسطح کاغذ سے جو اڑی ہےسفیر لیلیٰ تمہارا ناقہمیں اس کے مرنے پر غم زدہ ہوںتمہارے رنج و الم سے واقف بڑے خساروں کو دیکھتا ہوںسو آؤ اس کی تلافی کر دوں یہ میرے شانے ہیں بیٹھ جاؤتمہیں خرابے کی کار گہہ سے نکال آؤںدیار لیلیٰ کو جانے والی حبیب راہوں پہ چھوڑ آؤں
پھر آ گیا ہے ملک میں قربانیوں کا مالکی اختیار قیمتوں نے راکٹوں کی چالقامت میں بکرا اونٹ کی قیمت کا ہم خیالدل بیٹھتا ہے اٹھتے ہی قربانی کا سوالقیمت نے آدمی ہی کو بکرا بنا دیابکرے کو مثل ناقۂ لیلیٰ بنا دیا
جو تو تصویر کرتا ہےجو میں تحریر کرتا ہوںنہ تیرا ہے نہ میرا ہےمگر اپنا ہے یہ جب تکاسے پڑھنے میں کتنی دیر لگتی ہےابھی ماحول کو چاروں طرف سےحبس کے صحرا نے گھیرا ہےمگر کب تکہوا چلنے میں کتنی دیر لگتی ہےکوئی زنجیر ہے شاید ہمارے پاؤں میںاور راہ میں کافی اندھیرا ہےمگر کب تکدیا جلنے میں کتنی دیر لگتی ہےہوائیں بادبانوں سے الجھتی اور کہیں ناقہ سواروں کوکوئی پیغام دیتی شام کے آنچل کو تھامےساحلوں کی سمت آتی ہیںپرندے دائروں میں اڑتے پھرتےابر کی چادر میں لپٹےرنگ برساتےفضاؤں میں سفر کی داستاں لکھتےٹھکانوں کی طرف جاتے ہوئےمنظر کو اپنے عکس میں تبدیل کرتے ہیںاچانک سر پھری موجیںمجھے چھو کر گزر جاتی ہیںاور میں اپنے تلووں سے نکلتی سنسناتی ریت کی سرگوشیاںمحسوس کرتا ہوںوہی میں ہوں وہی اسباب وحشت ہیں وہی ساحلوہی تو ہے وہی ہنستی ہوئی آنکھیںتری آنکھوں میں رنگوں اور خوابوں کے جزیرےجگمگاتے ہیںسر مژگاں روپہلی ساعتوں کے استعارے مسکراتے ہیںہنسی مہتاب بنتی ہےپھر اس مہتاب کے چاروں طرف آواز کا ہالہ ابھرتا ہےاور اس ہالے میں تیری انگلیاںنادیدہ منظر کو طلسم خواب سے آزاد کرتی ہیںترے ہاتھوں کی جنبشدھوپ چھاؤں سے دھنک ترتیب دے کرخالی تصویروں میں خد و خال کو آباد کرتی ہےتری پلکیں جھپکتی ہیںستارے سے ستارہ آن ملتا ہےکہ جیسے شام ہوتے ہیسبک آثار لہروں میںکنارے سے کنارہ آن ملتا ہےیہ جو کچھ ہےبہت ہی خوب صورت ہےمگر اس کے لئے ہےجو یہ سب محسوس کرتا ہےتجھے معلوم بھی ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہےابھی دن کا تھکا ہارا مسافر دھوپ کے خیمے سمیٹےدور پانی میں اترنے کے لئےبے تاب ہے دیکھویہ نیلا آسماںاپنی گراں خوابی میں خود غرقاب ہے دیکھونہ جانے کیوںسمندر دیکھنے والوں کوسورج ڈوبنے کا خوف رہتا ہےکوئی ہے جس کو اسم آب آتا ہوکناروں کی طرح ہر لمحہ کٹ گرتا ہوزیر آب آتا ہوسمندر آسماں کی راہداری ہےمگر اس راہداری تک پہنچنے کا کوئی رستہبڑی مشکل سے ملتا ہےیہ اسم آبساحل پر کھڑے نظارہ بینوں کی سمجھ میں کس طرح آئےکہ یہ تو ڈوبنے والوں پہ بھیمشکل سے کھلتا ہےمگر کب تکاسے کھلنے میں کتنی دیر لگتی ہے
میرے ہاتھ پہ لکھا کیا ہےعمر کے اوپر برق کا گہرا سایہ کیا ہےکون خفا ہےراہ کا بوڑھا پیڑ جھکا ہے چڑیاں ہیں چپ چاپآتی جاتی رت کے بدلے گرد کی گہری چھاپگرد کے پیچھے آنے والے دور کی دھیمی تھاپرستہ کیا ہے منزل کیا ہےمیرے ساتھ سفر پر آتے جاتے لوگو محشر کیا ہےماضی حال کا بدلا بدلا منظر کیا ہےمیں اور تو کیا چیز ہیں تنکے پتے ایک نشانعکس کے اندر ٹکڑے ٹکڑے ظاہر میں انسانکب کے ڈھونڈ رہے ہیں ہم سب اپنا نخلستانناقہ کیا ہے محمل کیا ہےشہر سے آتے جاتے لوگو دیکھو راہ سے کون گیا ہےجلتے کاغذ کی خوشبو میں غرق فضا ہےچاروں سمت سے لوگ بڑھے ہیں اونچے شہر کے پاسآج اندھیری رات میں اپنا کون ہے راہ شناسخواب کی ہر تعبیر میں گم ہے اچھی شے کی آسدن کیا شے ہے سایہ کیا ہےگھٹتے بڑھتے چاند کے اندر دنیا کیا ہےفرش پہ گر کر دل کا شیشہ ٹوٹ گیا ہے
میں اگر شاعر تھا مولا تو مری عہدہ برائی کیا تھی آخرشاعری میں متکفل تھا تو یہ کیسی نا مناسب احتمالیکیا کروں میںبند کر دوں اپنا باب لفظ و معنیاور کہف کے غار میں جھانکوں جہاں بیٹھے ہوئےاصحاب معبود حقیقی کی عبادت میں مگن ہیںاور سگ تازی سا چوکیدار ان کے پاس بیٹھوںوحدت و توحید کا پیغام سن کرورد کی صورت اسے دہراتا جاؤںپوچھتا ہوںکیا مری مشق سخن توحید کی ازلی شناساو قرض کے بگتاشن کی داعی نہیں ہےمیں تو راس المال سارا پیشگی ہی دے چکا ہوںقرض کی واپس ادائی میںمرے الفاظ کا سارا ذخیرہ لٹ چکا ہےشعر کو حرف و ندا میں ڈھالناتسبیح و تہلیل و عبادت سے کہاں کمتر ہے مولاشاعری جزویست از پیغمبری کس نے کہا تھامیں تو اتنا جانتا ہوںمیری تمجید و پرستش لفظ کی قرات میں ڈھلتی ہےتو پھر تخلیق کا واضح عمل تسبیح یا مالا کے منکوں کی طرح ہے
اور اکیلا ہوں بھی تو پیدل چلا جاؤں گا میںلیلیٰٔ محمل نشیں کو کیسے سمجھاؤں گا میںنجد کا ناقہ کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں گا میںپانچ چھ بچوں کو آخر کیسے بہلاؤں گا میںایک ہو تو گود میں لے لوں کہ وہ بھاری نہیںمیں مگر انسان ہوں اے دوستو لاری نہیں
چیز اگرچہ ہوں میں ننھیلیکن ہوں میں کام کی کیسیآقا کو بھی میری ضرورتنوکر کو بھی میری حاجتکوئی جہاں میں گھر نہیں ایساجس میں کام نہیں ہے میراحال سناتی ہوں میں اپناکان لگا کر سارا سننامٹی میں سے لوہا نکالالوہے کا فولاد بنایاتار پھر اس فولاد کا کھینچاہو گیا وہ تب دبلا پتلاکر دیا اس کو ٹکڑے ٹکڑےہو گئے جب وہ ٹکڑے چھوٹےکل میں ان ٹکڑوں کو ڈالابن گئی جب میں سب کو نکالاایک طرف اب نوک ہے بچوایک طرف ہے ناکا دیکھوسوئی جہاں میں اب کہلائیکام زمانے بھر کے آئیکام ہر اک کے تم بھی آنامانو جوہرؔ کا فرمانا
جو بنا دے حضرت آدم کو مردہ خاک سےکر دے جو آراستہ بے جاں کو روح پاک سےنوح کی کشتی کو طوفانوں سے بھی جو لے بچابحر میں جو حضرت موسیٰ کو دے دے راستہہو کنویں کی تہہ سے تخت و تاج تک یوسف کے ساتھپیٹ میں مچھلی کے یونس کو رکھے جو با حیاتنرم جو لوہے کو کر دے ہاتھ میں داؤد کےابن مریم کو بچا لے جو صلیب و دار سےمسترد کر دے جو اہل حق پہ ہر یلغار کونور کر دے جسم ابراہیمؔ پر جو نار کوجو سکھا دے ماننا فرمان ہر مخلوق کوجو سلیماں پر کرے آسان ہر مخلوق کوظالموں کو روک دے جو پل میں ان کی ٹوہ سےناقۂ صالح کرے پیدا جو بطن کوہ سےامن کا سنوا دے جو مژدہ رسول اللہ سےجو چمن صحرا کو دے بنوا رسول اللہ سےوقت جو مغرب کا ٹھہرا دے رسول اللہ سےچاند دو ٹکڑے جو کروا دے رسول اللہ سےجس خدائے پاک کی قدرت کے ہوں یہ سب نشاںحمد جس کی کر رہی ہوں مچھلیاں اور چیونٹیاںجس کی عظمت کی گواہی روز دیں شام و سحرکر رہے ہوں چاند سورج حکم سے جس کے سفرہر زباں آور جہاں تھک جائے جس کے ذکر سےجس کی سطوت کا بیاں باہر ہو سب کی فکر سےمشورہ تم سب کو اتنا دے کے اب میں بھی یہاںختم کرنا چاہتا ہوں خود پہ ہی اپنا بیاںوسوسوں کے تم مرض میں مبتلا ہونا نہیںاس خدا سے کچھ بھی ہو بے آسرا ہونا نہیں
کہساروں آبشاروںسلگتے صحراؤںگہرے پھیلے سمندروں میںاب اونچی عمارتوںقہوہ خانوں باروںپھسلتی کاروں چمکتی سڑکوںگھڑی کے محدود ہندسوں میںسمٹ گیا ہےوہ جس کی انگلی سے چاند شق ہووہ جس کے زخمی دہن سےدشمن کی فوج پررحمتوں کی ٹھنڈی پھوار برسےوہ جس کی مٹھی میںوہ جہاں کی تمام دولتتمام ثروت سمٹ گئی ہووہ اپنے خالی شکم میں پتھر کا بوجھ باندھےکہاں ہیں اس کے غلامآخر کہاں ہیں اس کےوہ نصف باقی بھی مل چکا تھایہ نصف حاصل بھی چھن چکا ہےحصول کل سہل ہی تھا لیکنوہ ایک منظرپھسلتی کاروں چمکتی سڑکوں کی ہاؤ ہو میںوہ ایک منظرغلام ناقہ نشین ہو اورنکیل آقا کے ہاتھ میں ہوکہاں سے آئے
جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کےاشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیںنا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاببازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گیجب ارض خدا کے کعبے سےسب بت اٹھوائے جائیں گےہم اہل صفا مردود حرممسند پہ بٹھائے جائیں گےسب تاج اچھالے جائیں گےسب تخت گرائے جائیں گےبس نام رہے گا اللہ کاجو غائب بھی ہے حاضر بھیجو منظر بھی ہے ناظر بھیاٹھے گا انا الحق کا نعرہجو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
کسی کے دور جانے سےتعلق ٹوٹ جانے سےکسی کے مان جانے سےکسی کے روٹھ جانے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتاکسی کو آزمانے سےکسی کے آزمانے سےکسی کو یاد رکھنے سےکسی کو بھول جانے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتاکسی کو چھوڑ دینے سےکسی کے چھوڑ جانے سےنا شمع کو جلانے سےنا شمع کو بجھانے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتااکیلے مسکرانے سےکبھی آنسو بہانے سےنا اس سارے زمانے سےحقیقت سے فسانے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتاکسی کی نارسائی سےکسی کی پارسائی سےکسی کی بے وفائی سےکسی دکھ انتہائی سےمجھے اب ڈر نہیں لگتانا تو اس پار رہنے سےنا تو اس پار رہنے سےنا اپنی زندگانی سےنا اک دن موت آنے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتا
پہلے بھی تو گزرے ہیںدور نارسائی کے ''بے ریا'' خدائی کےپھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندییہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندیتم مگر یہ کیا جانولب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیںہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کرنور کی زباں بن کرہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کرروشنی سے ڈرتے ہوروشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیںروشنی سے ڈرتے ہوشہر کی فصیلوں پردیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخررات کا لبادہ بھیچاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخراژدہام انساں سے فرد کی نوا آئیذات کی صدا آئیراہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکےاک نیا جنوں لپکےآدمی چھلک اٹھےآدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھوتم ابھی سے ڈرتے ہو؟ہاں ابھی تو تم بھی ہوہاں ابھی تو ہم بھی ہیںتم ابھی سے ڈرتے ہو
چشم نم جان شوریدہ کافی نہیںتہمت عشق پوشیدہ کافی نہیںآج بازار میں پا بہ جولاں چلودست افشاں چلو مست و رقصاں چلوخاک بر سر چلو خوں بداماں چلوراہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلوحاکم شہر بھی مجمع عام بھیتیر الزام بھی سنگ دشنام بھیصبح ناشاد بھی روز ناکام بھیان کا دم ساز اپنے سوا کون ہےشہر جاناں میں اب با صفا کون ہےدست قاتل کے شایاں رہا کون ہے
راستے میں رک کے دم لے لوں مری عادت نہیںلوٹ کر واپس چلا جاؤں مری فطرت نہیںاور کوئی ہم نوا مل جائے یہ قسمت نہیںاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
ستارے جو دمکتے ہیںکسی کی چشم حیراں میںملاقاتیں جو ہوتی ہیںجمال ابر و باراں میںیہ نا آباد وقتوں میںدل ناشاد میں ہوگیمحبت اب نہیں ہوگییہ کچھ دن بعد میں ہوگیگزر جائیں گے جب یہ دنیہ ان کی یاد میں ہوگی
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books