aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pa.dne"
خاموش زمیں کے سینے میں خیموں کی طنابیں گڑنے لگیںمکھن سی ملائم راہوں پر بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیںفوجوں کے بھیانک بینڈ تلے چرخوں کی صدائیں ڈوب گئیں
اے دل اے بندۂ وطن ہوشیارخواب غفلت سے ہو ذرا بیداراو شراب خودی کے متوالےگھر کی چوکھٹ کے چومنے والےنام ہے کیا اسی کا حب وطنجس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگنکبھی بچوں کا دھیان آتا ہےکبھی یاروں کا غم ستاتا ہےیاد آتا ہے اپنا شہر کبھیلو کبھی اہل شہر کی ہے لگینقش ہیں دل پہ کوچہ و بازارپھرتے آنکھوں میں ہیں در و دیوارکیا وطن کیا یہی محبت ہےیہ بھی الفت میں کوئی الفت ہےاس میں انساں سے کم نہیں ہیں درنداس سے خالی نہیں چرند و پرندٹکڑے ہوتے ہیں سنگ غربت میںسوکھ جاتے ہیں روکھ فرقت میںجا کے کابل میں آم کا پوداکبھی پروان چڑھ نہیں سکتاآ کے کابل سے یاں بہی و انارہو نہیں سکتے بارور زنہارمچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سےہاتھ دھوتی ہے زندگانی سےآگ سے جب ہوا سمندر دوراس کو جینے کا پھر نہیں مقدورگھوڑے جب کھیت سے بچھڑتے ہیںجان کے لالے ان کے پڑتے ہیںگائے، بھینس اونٹ ہو یا بکریاپنے اپنے ٹھکانے خوش ہیں سبھیکہیے حب وطن اسی کو اگرہم سے حیواں نہیں ہیں کچھ کم ترہے کوئی اپنی قوم کا ہمدردنوع انساں کا سمجھیں جس کو فردجس پہ اطلاق آدمی ہو صحیحجس کو حیواں پہ دے سکیں ترجیحقوم پر کوئی زد نہ دیکھ سکےقوم کا حال بد نہ دیکھ سکےقوم سے جان تک عزیز نہ ہوقوم سے بڑھ کے کوئی چیز نہ ہوسمجھے ان کی خوشی کو راحت جاںواں جو نو روز ہو تو عید ہو یاںرنج کو ان کے سمجھے مایۂ غمواں اگر سوگ ہو تو یاں ماتمبھول جائے سب اپنی قدر جلیلدیکھ کر بھائیوں کو خوار و ذلیلجب پڑے ان پہ گردش افلاکاپنی آسائشوں پہ ڈال دے خاک
بیٹھے بے فکر کیا ہو ہم وطنواٹھو اہل وطن کے دوست بنوتم اگر چاہتے ہو ملک کی خیرنہ کسی ہم وطن کو سمجھو غیرہوں مسلمان اس میں یا ہندوبودھ مذہب ہو یا کہ ہو برہموسب کو میٹھی نگاہ سے دیکھوسمجھو آنکھوں کی پتلیاں سب کوملک ہیں اتفاق سے آزادشہر ہیں اتفاق سے آبادہند میں اتفاق ہوتا اگرکھاتے غیروں کی ٹھوکریں کیونکرقوم جب اتفاق کھو بیٹھیاپنی پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھیایک کا ایک ہو گیا بد خواہلگی غیروں کی تم پہ پڑنے نگاہپھر گئے بھائیوں سے جب بھائیجو نہ آنی تھی وہ بلا آئیپاؤں اقبال کے اکھڑنے لگےملک پر سب کے ہاتھ پڑنے لگےکبھی تورانیوں نے گھر لوٹاکبھی درانیوں نے زر لوٹاکبھی نادر نے قتل عام کیاکبھی محمود نے غلام کیاسب سے آخر کو لے گئی بازیایک شائستہ قوم مغرب کیملک روندے گئے ہیں پیروں سےچین کس کو ملا ہی غیروں سے
تمہیں جب دیکھتا ہوںتو مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیںتمہیں سنتا ہوںتو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہےتمہارا نام لیتا ہوںتو صدیوں قبل کے لاکھوں صحیفوں کے مقدس لفظ میرا ساتھ دیتے ہیںتمہیں چھو لوںتو دنیا بھر کے ریشم کا ملائم پن مری پوروں کو آ کر گدگداتا ہےتمہیں گر چوم لوںتو میرے ہونٹوں پر الوہی آسمانی نا چشیدہ ذائقے یوں پھیل جاتے ہیںکہ اس کے بعد مجھ کو شہد بھی پھیکا سا لگتا ہےتمہیں جب یاد کرتا ہوںتو ہر ہر یاد کے صدقے میں اشکوں کے پرندے چوم کر آزاد کرتا ہوںتمہیں ہنستی ہوئی سن لوںتو ساتوں سر سماعت میں سما کر رقص کرتے ہیںکبھی تم روٹھتی ہوتو مری سانسیں اٹکنے اور دھڑکن تھمنے لگتی ہے
چاند نے مجھ سے کہا اے شاعر فکر ازلمیرے بارے میں بھی لکھ دے کوئی سنجیدہ غزلہر تعلق توڑ رکھا ہے ہلال عید سےتجھ کو فرصت ہی نہیں ہے مہ وشوں کی دید سےرسم دیدار ہلال عید افسانہ ہوئیبام پر اس دم چڑھے، جس وقت فرزانہ ہوئیلے کے نذرانہ کمیٹی نے اجالا ہے مجھےگر نہیں نکلا، زبردستی نکالا ہے مجھےمیں جو بے مرضی نکل آیا تو ڈانٹا ہے بہتمولوی نے مختلف خانوں میں بانٹا ہے بہتاس کو مت فالو کرو، اس کی طریقت ماند ہےتم بریلی کے ہو اور یہ دیوبندی چاند ہےیہ جو خوں آلود ہے، افغانیوں کا چاند ہےمختلف ٹکڑوں میں پاکستانیوں کا چاند ہےاک کراچی سے ہے نکلا اک پس لاہور ہےسندھ کا چاند اور ہے پنجاب کا چاند اور ہےوہ جو ہمسائے کی بیوی ہے غزالہ چاند ہےاور اس کے ساتھ جو رہتا ہے کالا چاند ہےشاعروں نے اپنے شعروں میں بہت پیلا مجھےمیرؔ و غالبؔ نے بھی سمجھا خاک کا ڈھیلا مجھےشعر میں، رشک قمر لیلیٰ کو فرمانے لگےٹیوب لائٹ کو ہلال عید بتلانے لگےاپنی بیوی سے کہا انتیسویں کا چاند ہواور پڑوسن سے کہا تم چودھویں کا چاند ہوعام سی عورت کو مہ پارہ بنا کر رکھ دیاچاند کو ٹوٹا ہوا تارہ بنا کر رکھ دیاچاند پر جس دن سے انساں کے قدم پڑنے لگےچاندنی جن سے ہو ایسے بلب کم پڑنے لگےمیں زمیں سے دور ہوں لیکن بہت نزدیک ہوںاے زمیں والو میں تم سے دور رہ کر ٹھیک ہوںمیں زمیں پر آ گیا تو ہر بشر لے جائے گاسب سے پہلے ٹین پرسینٹ اپنے گھر لے جائے گا
تمہاری آنکھیںتمہاری کالی چمکتی آنکھیںزمانے کے ساگر میںدو آبنوسی کشتیاںجن کی تہہ میںتارے جڑے ہوئے ہیںپلکوں کے مستول تھرتھراتے ہیںہر گھڑی ہر دمہلتی ڈولتی بہتی چلی جا رہی ہیںمت روکو ان کوانہیں لمبے دور دراز سفر کرنے دودکھ کی تلملاتی لہروںآنسوؤں کے بھنور میںپھنسنے دو ان کواور انہیں پھرنت نئی انجانی آشاؤں کےسنہرے ساحلوں سےٹکرانے دوایسے ویسوں کے پاس انہیں لے جاؤجہاں خوشیوں کے ہیرےپتھر کے ساتھ ملے جلےچٹئیل میدانوں میںبکھرے پڑے ہوئے ہیںاور جہاں اونچی نوکیلی سختچٹانوں کے سینےچیر کرنازک نایاب مہکتے پھول نکل آئے ہیںگزرنے دوان مٹیالے بھورے سایوں کےنیچے سے ان کوجو دل کو ٹھہرا دیتے ہیںاور ان آسمانی نیلیروشنیوں کی ہلکی مدھم ضوپڑنے دو ان پرجن سےمن کے سب اندھیارےدھل جاتے ہیںآزاد رکھواپنی ان اچھی آنکھوں کو آزادبرکھا میں بادلصحرا میں آہوبن میں جیسے مور پپیہے ہوںپھر یہ تمہاریکالی آنکھیںآبنوس کی دو مہکتی بہکتی کشتیاںاندر دھنش کےساتوں رنگوں سے بھر جائیں گیاور ہم تم سے پوچھیں گےبتاؤیہ دو آنکھیں تمہاریہمیں کیوں اتنی اچھی لگتی ہیں
ہو سکتا ہےاس منظر سے دھوپ نکل کرچھاؤں پر قابض ہو جائےسورج کی ست رنگی کرنیںدھبوں میں بٹ جائیںوقت کا گرگٹ رنگ بدل لےساری بستیاپنی آنکھیں دیوتاؤں کو دان میں دے کر سو جائیںلیکنبہلاوے کی پہلی بارش پڑنے دوہو سکتا ہےپتھر سے خوشبو پھوٹےاور خوشبو سے انگارےہو سکتا ہے انگاروں میں جل جل کرمٹی کندن ہو جائے
تنگ پڑنے لگی زمین اگرآسماں سے معاملہ کریں گے
آج سوچا ہے کہ احساس کو زائل کر دوںاپنے شوریدہ ارادے کو اپاہج کر لوںاپنی مجروح تمنا کا مداوا نہ کروںاپنی خوابیدہ محبت کا المناک مآلاپنی بے خواب جوانی کو سنایا نہ کروںاپنے بے کیف تصور کے سہارے کے لیےایک بھی شمع سر راہ جلایا نہ کروںاپنے بے سود تخیل کو بھٹک جانے دوںزندگی جیسے گزرتی ہے گزر جانے دوںچند لمحوں میں گزرنے کو ہے ہنگامۂ شبسو گئے جام صراحی کا سہارا لے کرسرد پڑنے لگا اجڑی ہوئی محفل کا گدازتھک گئی گردش یک رنگ سے ساقی کی نظرچند بیدار فسانوں کا اثر لوٹ گیادب گیا تلخ حقیقت میں نشہ تا بہ کمرمیں ابھی آخری مے نوش ہوں میخانے میںدیکھنا کیا ہے مری سمت بڑھا جام بڑھالا صراحی کو مرے پاس شکستہ ہی سہیچھیڑ ٹوٹے ہوئے تاروں کو کراہیں تو ذراسوچتا کیا ہے انڈیل اور انڈیل اور انڈیلسرد پڑتی ہوئی محفل کے مکدر پہ نہ جااپنے بیدار تفکر کی ہلاکت پہ ہنسوںآج سوچا ہے کہ احساس کو زائل کر دوں
مگر درد کے بیج پڑتے رہیں گےمگر لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے
جدائی محبت کے دریائے خوں کی معاون ندی ہےوفا یاد کی شاخ مرجاں سے لپٹی ہوئی ہےدل آرام و عشاق سب خوف کے دائرے میں کھڑے ہیںہواؤں میں بوسوں کی باسی مہک ہےنگاہوں میں خوابوں کے ٹوٹے ہوئے آئنے ہیںدلوں کے جزیروں میں اشکوں کے نیلم چھپے ہیںرگوں میں کوئی رود غم بہہ رہا ہےمگر درد کے بیج پڑتے رہیں گےمگر لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گےیہ سب غم پرانےیہ ملنے بچھڑنے کے موسم پرانےپرانے غموں سے نئے غم الجھنے چلے ہیںلبوں پر نئے نیل دل میں نئے بیج پڑنے لگے ہیںغنیم آسمانوں میں دشمن جہازوں کی سرگوشیاں ہیںستاروں کی جلتی ہوئی بستیاں ہیںاور آنکھوں کے راڈار پر صرف تاریک پرچھائیاں ہیںہمیں موت کی تیز خوشبو نے پاگل کیا ہےامیدوں کی سرخ آبدوزوں میں سہمےتباہی کے کالے سمندر میں بہتے چلے جا رہے ہیںکراں تا کراں ایک گاڑھا کسیلا دھواں ہےزمیں تیری مٹی کا جادو کہاں ہے
اپنی محبت کے ہاں کرنےچھپ کے نکاح کے دو بولوں پر خوش ہونے اوراس ہی خوشی میں اپنے ہاتھوں کو مہندی سے رنگنے والیہر پل شوخی سے مسکاتی پاگل لڑکیاس مہندی کا رنگ پھیکا پڑنے سے پہلےتیرے سیاںچھوڑ کے بیاںاپنی ایک نئی دنیا میں مگن ہوئے ہیںاک دو دن میں تجھ سے جو کچھ لینا ہے وہ سب کچھ لے کراور طلاق کی کالک تیرے منہ پر مل کرمہر کے نام پر احساں کر کےتجھ کو ایسا زیر کریں گے کہ سب شوخیآنکھوں میں موجود یہ مستیتیری ہستیسب کچھ بس اک پل میں الٹا ہو جائے گاتیری قسمت کے دکھ جتنے سنجیدہ ہیںپاگل لڑکیتو بھی یک دم ویسی ہی سنجیدہ ہوگی
مشیرؔ انکل! کبھی محبوب کا جب نام آ جائےتو میری سانس کی ڈوری میںگرہیں پڑنے لگتی ہیںیہ میں اور آپ دونوں جانتے ہیںجس طرح جادو ہے برحقعشق برحق ہےزمینوں آسمانوںاس جہاں، باقی جہانوں میںزمان عشق برحق ہے
ملگجے سے دھندلکے میں جب تم یونیورسٹی سےلوٹ رہے ہوتے ہووہیں کیمپس کے باہرمیں بھی تو بیٹھی ہوتی ہوںکبھی نہ ختم ہونے والے انتظار میںمیں تمہیں دیکھ رہی ہوتی ہوںاور تمپاس سے ایسے گزر جاتے ہوجیسے واقف ہی نہ ہومیں وہیں دہلیز پہ بیٹھی رہ جاتی ہوںپھر پل کے پاس سے جب تم گزرتے ہوئےڈوبتے سورج کو ایک نظر دیکھتے ہودور کہیں اس ڈوبتے سورج کی سرخ تانبے ایسی روشنی سے تمہاری دہکتی جبیں پرجب دراڑیں پڑنے لگتی ہیںمیں تب بھی تمہیں دیکھ رہی ہوتی ہوںگلی کا بلب روشن کرتے ہوئےایک پل کے لیے سوچ میں پڑ جاتی ہوںاب بھلا میرے لیے من و سلویٰ کیوں اترنے لگامیں دروازہ کھولے زندگی کا انتظار کرتی ہوںمگر وہ میرے ہاتھ نہیں آتی
میں نے ایک ساحل سے ایک سیپی اٹھائیاور اپنے آنسو کو اس میں بند کر کےدور گہرے سمندر میں پھینک دیامیں نے اپنے ہاتھوں پراک تیز چھری سےلمبے سفر کی لکیر بنائیاور ایسے جوتے خریدےجو چلتے ہوئے پیروں کو ہمیشہ زخمی رکھتے ہیںاب کی دفعہ میں نے گھر بنایا ہےایسے شیشوں کاجن میں صرف اندر کا عکس رہتا ہےاور ایسی آگ کاجو ضرورت پڑنے پر خود ہی جل اٹھتی ہےاور ایسی ہوا کاجس کے لئے کوئی دروازہ کھولنے کی ضرورت نہیںاور ایسی چیزوں کاجو اپنی اپنی جگہ پر فرش سے جڑی ہوئی ہیںمیں نے اپنے موسموں کو چرا لیا ہےاور گھاس کے میدانوں کوریگستانوں کو آسمانوں کومیں نے ایک تتلی کو ایک کتاب میں چھپا لیا ہےاور اک خواب کو آنکھوں میںاور محبت کو جاننے کے لیےمیں نےایک نظم پڑھی ہےاور آواز کے لیےاک گیت گایا ہےمیں نے گھپ اندھیرے میںآنکھیں بند کر کےگھر کے شیشوں میںخود کو دیکھا ہےاور یاد کیا ہےایک آدمی کوجو گہرے سمندر میںوہ سیپی ڈھونڈنے اتر گیاجس میں میں نے اپنا آنسو قید کر کے پھینکا تھا
یہ کس نے بزم ادب کے سکون کو تاکامشاعروں میں بھی پڑنے لگا ہے اب ڈاکہمشاعرے میں ڈکیتی کا شوق رکھتے ہیںہمارے عہد کے ڈاکو بھی ذوق رکھتے ہیںادب نواز تھے ڈاکو سخن شناس تھے وہمرے وطن کی سیاست کا اقتباس تھے وہعجب ڈکیت تھے جن کا نصیب پھوٹا تھاجنہوں نے شہر کے ان مفلسوں کو لوٹا تھاپڑا وہ رن کہ اک استاد شعر بھول گیاکسی نحیف سے شاعر کا سانس پھول گیابیاض اپنی کسی نے اچھال کر رکھ دیبجائے کیش رباعی نکال کر رکھ دیادھر ڈکیت سنبھالے تھے گن اڑائی ہوئیادھر وہ پیل رہا تھا غزل چرائی ہوئییہ کس نے بزم سخن لوٹ لی خدا جانے''تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے''مشاعرے میں نہ سونا تھا اور نہ چاندی تھیسخن وروں کی تو ہر چیز ہی پرانی ہےجو سب سے قیمتی شے ہے وہ شیروانی ہےیہ اپنے شعر سناتے ہی پھوٹ لیتے ہیںمشاعرے کو ترنم سے لوٹ لیتے ہیںہمارے شعر سنیں اور شعر بیں ہو جائیںخدا کرے کہ یہ ڈاکو بھی سامعیں ہو جائیں
کون جانے کہ کیا ہے وفاکس نے ڈھونڈے سے پایا خداان جھمیلوں میں پڑنے سے کیاآؤ جینے کی باتیں کریں
بجی گھنٹی جو چھٹی کی تو ہنستے گاتے ہم نکلےکسی موٹے سے مولیٰ بخش کے سہہ کر ستم نکلےبتاؤ ہاتھ پر پڑنے سے اس کا حال کیا ہوگانظر آ جاتے ہیں جس بید کے ہم سب کا دم نکلےکبھی جب بھول کر بستے کو اپنے کھول کر بیٹھےپھٹی نکلیں کتابیں اور سب ٹوٹے قلم نکلےنتیجہ گاہ سے نکلے تو اس حالت میں ہم نکلےکہ لے کر اپنے دل میں فیل ہو جانے کا غم نکلےبہانہ ٹانگ کی تکلیف کا ایسا کیا ہم نےکہ لنگڑاتے چلے اور گر پڑے جب دو قدم نکلےنکالا ممتحن نے نقل کرنے سے تو بولے ہمبہت بے آبرو ہو کر ترے کمرے سے ہم نکلے
کہ ماند پڑنے لگے جن سے قمقموں کی چمکاندھیری رات میں ان جگنوؤں کے ساتھ آئے
میں کہ بچپن میں ایک دن گھر سےایسا بھاگا کہ بھاگتا ہی رہاشہر در شہر بے گھری کا عذابآسماں میرے نام لکھتا رہامیری خانہ بدوشیاں مجھ سےکہہ رہی ہیں کہ ٹھہر جاؤں کہیںاور کچھ تھک چکا ہوں اب میں بھیچاہتا ہوں کہ ایک شب کے لئےٹھہر کر راستے میں دم لے لوںاس سے پہلے کہ خیمہ نصب کروںچند سایہ مرے تعاقب میںدور ہی سے دکھائی دیتے ہیںاور پھر بھاری بھاری قدموں کیچاپ کانوں میں پڑنے لگتی ہےفاصلہ بھی سمٹنے لگتا ہےاور میں پھر سے پاگلوں کی طرحایک جانب کو دوڑ پڑتا ہوںاور پھر سب ڈراؤنے سایہدھند کے پیچھے ڈوب جاتے ہیںمیں کہ اس بار بھی صدا کی طرحان کے چنگل سے بچ نکلتا ہوںبچ نکلنا بھی اک عذاب سا ہےسلسلہ ختم کیوں نہیں ہوتاایک جائے امان کی خاطرکب تلک بھاگتا رہوں گا میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books