ADVERTISEMENT

اشعار پرازل

میں بستر خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاس

صبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر

جون ایلیا

ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ

چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

محسن نقوی

ادائیں تا ابد بکھری پڑی ہیں

ازل میں پھٹ پڑا جوبن کسی کا

بیان میرٹھی

میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں

ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا

شبلی نعمانی
ADVERTISEMENT

دست جنوں نے پھاڑ کے پھینکا ادھر ادھر

دامن ابد میں ہے تو گریباں ازل میں ہے

ارشد علی خان قلق

ازل سے تا بہ ابد ایک ہی کہانی ہے

اسی سے ہم کو نئی داستاں بنانی ہے

کالی داس گپتا رضا

واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں

منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم

ذوالفقار عادل

ازل سے ہم نفسی ہے جو جان جاں سے ہمیں

پیام دم بدم آتا ہے لا مکاں سے ہمیں

ساحر دہلوی
ADVERTISEMENT

کتنے مہ و انجم ہیں ضیا پاش ازل سے

لیکن نہ ہوئی کم دل انساں کی سیاہی

قادر صدیقی

روک لیتا ہے ابد وقت کے اس پار کی راہ

دوسری سمت سے جاؤں تو ازل پڑتا ہے

عرفان ستار

ازل سے میری حفاظت کا فرض ہے ان پر

سبھی دکھوں کو میرے آس پاس ہونا ہے

راہل جھا

خط پیشانی میں سفاک ازل کے دن سے

تیری تلوار سے لکھی ہے شہادت میری

شباب
ADVERTISEMENT