فلسفیانہ اشعار

فلسفے کے عنوان کے تحت جو اشعار ہیں وہ زندگی کے باریک اور اہم ترین گوشوں پر سوچ بچار کا نتیجہ ہیں ۔ ان شعروں میں آپ دیکھیں گے کہ زندگی کے عام سے اور روز مرہ کے معاملات کو شاعر فکر کی کس گہری سطح پر جاکر دیکھتا ، پرکھتا اور نتائج اخذ کرتا ہے ۔ اس قسم کی شاعری کو پڑھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سے ہمارے اپنے ذہن ودماغ کی پرتیں کھلتی ہیں اور ہم اپنے آس پاس کی دنیا کو ایک الگ نظر سے دیکھنے کے اہل ہوجاتے ہیں ۔

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی

جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

ندا فاضلی

اپنے ہونے کا کچھ احساس نہ ہونے سے ہوا

خود سے ملنا مرا اک شخص کے کھونے سے ہوا

مصور سبزواری

ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ

رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ

احمد فراز

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں

کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں

علامہ اقبال

نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم

رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم

فانی بدایونی

بتوں کو پوجنے والوں کو کیوں الزام دیتے ہو

ڈرو اس سے کہ جس نے ان کو اس قابل بنایا ہے

مخمور سعیدی

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں

میں اپنے وجود کی سزا ہوں

اطہر نفیس

جانے کتنے لوگ شامل تھے مری تخلیق میں

میں تو بس الفاظ میں تھا شاعری میں کون تھا

بھارت بھوشن پنت

مدت کے بعد آج میں آفس نہیں گیا

خود اپنے ساتھ بیٹھ کے دن بھر شراب پی

فاضل جمیلی

میں بھی یہاں ہوں اس کی شہادت میں کس کو لاؤں

مشکل یہ ہے کہ آپ ہوں اپنی نظیر میں

فرحت احساس

روپ کی دھوپ کہاں جاتی ہے معلوم نہیں

شام کس طرح اتر آتی ہے رخساروں پر

عرفان صدیقی

گر جوش پہ ٹک آیا دریاؤ طبیعت کا

ہم تم کو دکھا دیں گے پھیلاؤ طبیعت کا

مصحفی غلام ہمدانی

مرے فسوں نے دکھائی ہے تیرے رخ کی سحر

مرے جنوں نے بنائی ہے تیرے زلف کی شام

میکش اکبرآبادی