تصوف پر شاعری

تصوف اوراس کے معاملات اردوشاعری کے اہم تریں موضوعات میں سے رہے ہیں ۔ عشق میں فنائیت کا تصوردراصل عشق حقیقی کا پیدا کردہ ہے ۔ ساتھ ہی زندگی کی عدم ثباتی ، انسانوں کے ساتھ رواداری اورمذہبی شدت پسندی کے مقابلے میں ایک بہت لچکداررویے نے شاعری کی اس جہت کو بہت ثروت مند بنایا ہے ۔ دیکھنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ تصوف کے مضامین کو شعرا نے کس فنی ہنرمندی اورتخلیقی احساس کے ساتھ خالص شعر کی شکل میں پیش کیا ہے ۔ جدید دورکی اس تاریکی میں اس انتخاب کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے۔

بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے

تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

اکبر الہ آبادی

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

do not be deceived by it damp disposition

if I wring my cloak, angels will do ablution

do not be deceived by it damp disposition

if I wring my cloak, angels will do ablution

خواجہ میر درد

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

علامہ اقبال

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں

داغؔ دہلوی

جان سے ہو گئے بدن خالی

جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

خواجہ میر درد

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

خواجہ میر درد

زحال مسکیں مکن تغافل دوراے نیناں بنائے بتیاں

کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

امیر خسرو

شبان ہجراں دراز چوں زلف روز وصلت چو عمر کوتاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

امیر خسرو

کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے

پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے

مرزا غالب

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی

نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی

سراج اورنگ آبادی

ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے

تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے

خواجہ میر درد

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے

خواجہ میر درد

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے

نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے

اختر علی اختر

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی

اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

میر تقی میر

لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر

میں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں

میر تقی میر

تو ہی ظاہر ہے تو ہی باطن ہے

تو ہی تو ہے تو میں کہاں تک ہوں

اسماعیلؔ میرٹھی

کریں ہم کس کی پوجا اور چڑھائیں کس کو چندن ہم

صنم ہم دیر ہم بت خانہ ہم بت ہم برہمن ہم

میر شمس الدین محمد فیض

دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر

ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا

مرزا غالب

دریا سے موج موج سے دریا جدا نہیں

ہم سے جدا نہیں ہے خدا اور خدا سے ہم

راجہ گردھاری پرساد باقی

ہیں وہ صوفی جو کبھی نالۂ ناقوس سنا

وجد کرنے لگے ہم دل کا عجب حال ہوا

وزیر علی صبا لکھنؤی