Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تصوف پر اشعار

تصوف اوراس کے معاملات

اردوشاعری کے اہم تریں موضوعات میں سے رہے ہیں ۔ عشق میں فنائیت کا تصوردراصل عشق حقیقی کا پیدا کردہ ہے ۔ ساتھ ہی زندگی کی عدم ثباتی ، انسانوں کے ساتھ رواداری اورمذہبی شدت پسندی کے مقابلے میں ایک بہت لچکداررویے نے شاعری کی اس جہت کو بہت ثروت مند بنایا ہے ۔ دیکھنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ تصوف کے مضامین کو شعرا نے کس فنی ہنرمندی اورتخلیقی احساس کے ساتھ خالص شعر کی شکل میں پیش کیا ہے ۔ جدید دورکی اس تاریکی میں اس انتخاب کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے۔

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

خواجہ میر درد

بس جان گیا میں تری پہچان یہی ہے

تو دل میں تو آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا

اکبر الہ آبادی

ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے

تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے

خواجہ میر درد

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

علامہ اقبال

زحال مسکیں مکن تغافل دوراے نیناں بنائے بتیاں

کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

امیر خسرو

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی

نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی

سراج اورنگ آبادی

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

خواجہ میر درد

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے

خواجہ میر درد

شبان ہجراں دراز چوں زلف روز وصلت چو عمر کوتاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

امیر خسرو

جان سے ہو گئے بدن خالی

جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

خواجہ میر درد

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں

داغؔ دہلوی

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی

اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر

ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا

مرزا غالب

کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے

پردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے

مرزا غالب

لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر

میں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں

میر تقی میر

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

میر تقی میر

دریا سے موج موج سے دریا جدا نہیں

ہم سے جدا نہیں ہے خدا اور خدا سے ہم

راجہ گردھاری پرساد باقی

تو ہی ظاہر ہے تو ہی باطن ہے

تو ہی تو ہے تو میں کہاں تک ہوں

اسماعیل میرٹھی

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے

نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے

اختر علی اختر

کریں ہم کس کی پوجا اور چڑھائیں کس کو چندن ہم

صنم ہم دیر ہم بت خانہ ہم بت ہم برہمن ہم

فیض دکنی

ہیں وہ صوفی جو کبھی نالۂ ناقوس سنا

وجد کرنے لگے ہم دل کا عجب حال ہوا

وزیر علی صبا لکھنؤی

ان آنکھوں کو جب سے بصارت ملی ہے

سوا تیرے کچھ میں نے دیکھا نہیں ہے

آسی غازی پوری

دونوں عالم سے وہ بیگانہ نظر آتا ہے

جو ترے عشق میں دیوانہ نظر آتا ہے

پرنم الہ آبادی

کارخانہ ہے اسی حسن کا عالم سارا

بس جدھر اس نے لگایا ہے ادھر لگ گئے ہیں

فرحت احساس

تمام ہوش کی دنیا نثار ہے اس پر

تری گلی میں جسے نیند آ گئی ہوگی

فنا بلند شہری

اتنا تو جانتے ہیں کہ عاشق فنا ہوا

اور اس سے آگے بڑھ کے خدا جانے کیا ہوا

آسی غازی پوری

بجلی ترے جلووں کی گر جائے کبھی مجھ پر

اے جان مری ہستی اس آگ میں جل جائے

فنا بلند شہری

مرا سر کٹ کے مقتل میں گرے قاتل کے قدموں پر

دم آخر ادا یوں سجدۂ شکرانہ ہو جائے

بیدم شاہ وارثی

نہ دیر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہوگی

تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہوگی

فنا بلند شہری

آرزو حسرت تمنا مدعا کوئی نہیں

جب سے تم ہو میرے دل میں دوسرا کوئی نہیں

پرنم الہ آبادی

اے فناؔ ملتا ہے عاشق کو بقا کا پیغام

زندگی جب رہ الفت میں فنا ہوتی ہے

فنا بلند شہری

گوری سووے سیج پر مکھ پر ڈارے کیس

چل خسروؔ گھر آپنے رین بھئی چہوں دیس

امیر خسرو

جس پہ مرتا ہوں اسے دیکھ تو لوں جی بھر کے

اتنی جلدی تو مرے قتل میں جلاد نہ کر

بیدم شاہ وارثی

مجھے شکوہ نہیں برباد رکھ برباد رہنے دے

مگر اللہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دے

بیدم شاہ وارثی

عشق کی ابتدا بھی تم حسن کی انتہا بھی تم

رہنے دو راز کھل گیا بندے بھی تم خدا بھی تم

بیدم شاہ وارثی

جو میں دن رات یوں گردن جھکائے بیٹھا رہتا ہوں

تری تصویر سی دل میں کھنچی معلوم ہوتی ہے

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

زمیں سے آسماں تک آسماں سے لا مکاں تک ہے

خدا جانے ہمارے عشق کی دنیا کہاں تک ہے

بیدم شاہ وارثی

تصور میں وہ بار بار آ رہے ہیں

جھلک اپنی پردے سے دکھلا رہے ہیں

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

ادا سے دیکھ لیتے ہیں میں جب جانے کو کہتا ہوں

پھر اس پر کہتے ہیں ہم کب تمہیں مجبور کرتے ہیں

خواجہ عزیز الحسن مجذوب

ساقیا آنکھ ملا کر مجھے دے جام شراب

یوں تو مے سے نہ بھرے گی کبھی نیت میری

عالی بدایونی

کام کچھ تیرے بھی ہوتے تیری مرضی کے خلاف

ہاں مگر میرے خدا تیرا خدا کوئی نہیں

پرنم الہ آبادی
بولیے