تصوف پر غزلیں

تصوف اوراس کے معاملات

اردوشاعری کے اہم تریں موضوعات میں سے رہے ہیں ۔ عشق میں فنائیت کا تصوردراصل عشق حقیقی کا پیدا کردہ ہے ۔ ساتھ ہی زندگی کی عدم ثباتی ، انسانوں کے ساتھ رواداری اورمذہبی شدت پسندی کے مقابلے میں ایک بہت لچکداررویے نے شاعری کی اس جہت کو بہت ثروت مند بنایا ہے ۔ دیکھنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ تصوف کے مضامین کو شعرا نے کس فنی ہنرمندی اورتخلیقی احساس کے ساتھ خالص شعر کی شکل میں پیش کیا ہے ۔ جدید دورکی اس تاریکی میں اس انتخاب کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے۔

ہر طرف یار کا تماشا ہے

سراج اورنگ آبادی

میں یار کا جلوا ہوں

بیدم شاہ وارثی

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا

شاہ نیاز احمد بریلوی

سینہ صافی کی ہے جسے عینک

سراج اورنگ آبادی
بولیے