Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عشق میں میر صاحب

میر صاحب کو اردو کا خدائے سخن کہا جاتا ہے اور بجا کہا جاتا ہے؛ یہ منتخب اشعار پڑھئے اور میر کو ایک عاشق کو طور پر دیکھنے کا لطف لیجئے

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

میر تقی میر

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

میر تقی میر

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

میر تقی میر

پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

میر تقی میر

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

میر تقی میر

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت

دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت

میر تقی میر

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں

تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

میر تقی میر

عشق کرتے ہیں اس پری رو سے

میرؔ صاحب بھی کیا دوانے ہیں

میر تقی میر

مصائب اور تھے پر دل کا جانا

عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے

میر تقی میر

ہم نے اپنی سی کی بہت لیکن

مرض عشق کا علاج نہیں

میر تقی میر

کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس

ہم نے دیدار کی گدائی کی

میر تقی میر

لگا نہ دل کو کہیں کیا سنا نہیں تو نے

جو کچھ کہ میرؔ کا اس عاشقی نے حال کیا

میر تقی میر

میرؔ جی زرد ہوتے جاتے ہو

کیا کہیں تم نے بھی کیا ہے عشق

میر تقی میر

ہم طور‌ عشق سے تو واقف نہیں ہیں لیکن

سینے میں جیسے کوئی دل کو ملا کرے ہے

میر تقی میر

لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے

ہے خیر میرؔ صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا

میر تقی میر

زیر شمشیر ستم میرؔ تڑپنا کیسا

سر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا

میر تقی میر

عشق کا گھر ہے میرؔ سے آباد

ایسے پھر خانماں خراب کہاں

میر تقی میر

عالم عالم عشق و جنوں ہے دنیا دنیا تہمت ہے

دریا دریا روتا ہوں میں صحرا صحرا وحشت ہے

میر تقی میر

سمجھے تھے ہم تو میر کو عاشق اسی گھڑی

جب سن کے تیرا نام وہ بیتاب سا ہوا

میر تقی میر

کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تاب

شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا

میر تقی میر

کہنا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منہ

کل میر کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانہ تھا

میر تقی میر

کیا جانئے کہ عشق میں خوں ہو گیا کہ داغ

چھاتی میں اب تو دل کی جگہ ایک درد ہے

میر تقی میر

رہا تھا دیکھ اودھر میر چلتے

عجب اک ناامیدی تھی نظر میں

میر تقی میر

جیسے بجلی کے چمکنے سے کسو کی سدھ جائے

بے خودی آئی اچانک ترے آ جانے سے

میر تقی میر

گر اس کے اور کوئی گرمی سے دیکھتا ہے

اک آگ لگ اٹھے ہے اپنے تو تن بدن میں

میر تقی میر
بولیے