فگار اناوی کے اشعار
مایوس دلوں کو اب چھیڑو بھی تو کیا حاصل
ٹوٹے ہوئے پیمانے فریاد نہیں کرتے
فضا کا تنگ ہونا فطرت آزاد سے پوچھو
پر پرواز ہی کیا جو قفس کو آشیاں سمجھے
دل ہے مرا رنگینیٔ آغاز پہ مائل
نظروں میں ابھی جام ہے انجام نہیں ہے
اک تیرا آسرا ہے فقط اے خیال دوست
سب بجھ گئے چراغ شب انتظار میں
ان پہ قربان ہر خوشی کر دی
زندگی نذر زندگی کر دی
ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی
رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں
کیا ملا عرض مدعا سے فگارؔ
بات کہنے سے اور بات گئی
حسرت دل نامکمل ہے کتاب زندگی
جوڑ دے ماضی کے سب اوراق مستقبل کے ساتھ
غم و الم سے جو تعبیر کی خوشی میں نے
بہت قریب سے دیکھی ہے زندگی میں نے
عجیب کشمکش ہے کیسے حرف مدعا کہوں
وہ پوچھتے ہیں حال دل میں سوچتا ہوں کیا کہوں
بقدر ذوق میرے اشک غم کی ترجمانی ہے
کوئی کہتا ہے موتی ہے کوئی کہتا ہے پانی ہے
پھولوں کو گلستاں میں کب راس بہار آئی
کانٹوں کو ملا جب سے اعجاز مسیحائی
ایک خواب و خیال ہے دنیا
اعتبار نظر کو کیا کہئے
شکست دل کی ہر آواز حشر آثار ہوتی ہے
مگر سوئی ہوئی دنیا کہاں بیدار ہوتی ہے
قدم قدم پہ دونوں جرم عشق میں شریک ہیں
نظر کو بے خطا کہوں کہ دل کو بے خطا کہوں
دل مرا شاکیٔ جفا نہ ہوا
یہ وفادار بے وفا نہ ہوا
کسی سے شکوۂ محرومئی نیاز نہ کر
یہ دیکھ لے کہ تری آرزو تو خام نہیں
دل چوٹ سہے اور اف نہ کرے یہ ضبط کی منزل ہے لیکن
ساغر ٹوٹے آواز نہ ہو ایسا تو بہت کم ہوتا ہے
آداب عاشقی سے تو ہم بے خبر نہ تھے
دیوانے تھے ضرور مگر اس قدر نہ تھے
قدم اپنے حریم ناز میں اس شوق سے رکھنا
کہ جو دیکھے مرے دل کو تمہارا آستاں سمجھے
دیوانے کو مجاز و حقیقت سے کیا غرض
دیر و حرم ملے نہ ملے تیرا در ملے
ہیں یہ جذبات مرے درد بھرے دل کے فگار
لفظ بن بن کے جو اشعار تک آ پہنچے ہیں
کس کام کا ایسا دل جس میں رنجش ہے غبار ہے کینہ ہے
ہم کو ہے ضرورت اس دل کی سب جس کو کہیں آئینہ ہے
دل کی بنیاد پہ تعمیر کر ایوان حیات
قصر شاہی تو ذرا دیر میں ڈھ جاتے ہیں
محفل کون و مکاں تیری ہی بزم ناز ہے
ہم کہاں جائیں گے اس محفل سے اٹھ جانے کے بعد
میری جبین شوق نے سجدے جہاں کئے
وہ آستاں بنا جو کبھی آستاں نہ تھا
سر محفل ہمارے دل کو لوٹا چشم ساقی نے
ادھر تقدیر گردش میں ادھر گردش میں جام آیا
ترے غم کے سامنے کچھ غم دو جہاں نہیں ہے
ہے جہاں ترا تصور وہاں این و آں نہیں ہے
یقین وعدۂ فردا ہمیں باور نہیں آتا
زباں سے لاکھ کہئے آپ کے تیور نہیں کہتے
کعبہ بھی گھر اپنا ہے صنم خانہ بھی اپنا
ہر حسن کا جلوہ مرا ایمان نظر ہے
پرتو حسن سے ذرے بھی بنے آئینے
کتنے جلوے کئے ارزاں تری رعنائی نے
کعبے میں ہو یا بت خانے میں ہونے کو تو سر خم ہوتا ہے
ہوتا ہے جہاں تو جلوہ نما کچھ اور ہی عالم ہوتا ہے