Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Abul Hasanat Haqqi's Photo'

ابو الحسنات حقی

کانپور, انڈیا

ابو الحسنات حقی کے اشعار

1.2K
Favorite

باعتبار

وہ مہربان نہیں ہے تو پھر خفا ہوگا

کوئی تو رابطہ اس کو بحال رکھنا ہے

یہ سچ ہے اس سے بچھڑ کر مجھے زمانہ ہوا

مگر وہ لوٹنا چاہے تو پھر زمانہ بھی کیا

بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشق

بے زروں کو لعل و زر دیتا ہے عشق

میں اپنی ماں کے وسیلے سے زندہ تر ٹھہروں

کہ وہ لہو مرے صبر و رضا میں روشن ہے

میں قتل ہو کے بھی شرمندہ اپنے آپ سے ہوں

کہ اس کے بعد تو سارا زوال ہے اس کا

میں اپنے زہر سے واقف ہوں وہ سمجھتا نہیں

ہے میرے کیسۂ صد کام میں شرافت بھی

مجھ کو درویش سمجھنے والا

خوش گمانی کا صلا چاہتا ہے

نقش تو سارے مکمل ہیں اب الجھن یہ ہے

کس کو آباد کرے اور کسے ویرانی دے

میری وحشت بھی سکوں نا آشنا میری طرح

میرے قدموں سے بندھی ہے ذمہ داری اور کیا

وہ کشتی سے دیتے تھے منظر کی داد

سو ہم نے بھی گھر کو سفینہ کیا

خود اپنی لوح تمنا پہ کھل کے دیکھوں گا

کسی کے جبر نے لکھا تھا رائیگاں مجھ کو

یہ بات الگ ہے کسی دھارے پہ نہیں ہے

دنیا کسی کمزور اشارے پہ نہیں ہے

ضمیر خاک شہہ دو سرا میں روشن ہے

مرا خدا مرے حرف دعا میں روشن ہے

وہ بے خبر ہے مری جست و خیز سے شاید

یہ کون ہے جو مقابل مرے کھڑا ہوا ہے

پھول کی پتی پہ کوئی زخم ڈال

آئنے میں رنگ کا اظہار کر

دیوار کا بوجھ بام پر ہے

یہ گھر بھی ہوا خراب کیسا

کبھی وہ خوش بھی رہا ہے کبھی خفا ہوا ہے

کہ سارا مرحلہ طے مجھ سے برملا ہوا ہے

یہ عجز ہے کہ قناعت ہے کچھ نہیں کھلتا

بہت دنوں سے وہ خیر و خبر سے باہر ہے

دور رہتا ہے مگر جنبش لب بوس و کنار

ڈوبتا رہتا ہے دریا میں کنارا کیا کیا

مجھے بھی رفتہ رفتہ آ گیا ہے

خود اپنے کام کو دشوار کرنا

میرے جنوں کا سلسلہ مرحلہ وار ہو گیا

پہلے زمین بجھ گئی بعد میں آسماں بجھا

شب کو ہر رنگ میں سیلاب تمہارا دیکھیں

آنکھ کھل جائے تو دریا نہ کنارا دیکھیں

کبھی نہ خالی ملا بوئے ہم نفس سے دماغ

تمام باغ میں جیسے کوئی چھپا ہوا ہے

اپنے منظر سے الگ ہوتا نہیں ہے کوئی رنگ

اپنی آنکھوں کے سوا باد بہاری اور کیا

وہ آ رہا تھا مگر میں نکل گیا کہیں اور

سو زخم ہجر سے بڑھ کر عذاب میں نے دیا

بجتی ہوئی خون کی روانی

خواہش کی گرفت میں بدن ہے

جانے کیا صورت حالات رقم تھی اس میں

جو ورق چاک ہوا اس کو دوبارا دیکھیں

وہ ایک ڈوبتی آواز باز گشت کہ آ

سوال میں نے کیا تھا جواب میں نے دیا

بدن خود اپنی ہی تجسیم کر نہیں پاتے

قریب آیا تو آنکھوں کو خواب میں نے دیا

حقیؔٔ دل گرفتہ کے بس میں نہ جانے کب نہیں

ہجر میں شاد کام تھا وصل کے درمیاں بجھا

Recitation

بولیے