Afzal Khan's Photo'

افضل خان

1975 | بہاول پور, پاکستان

3.7K
Favorite

باعتبار

تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں

ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں

بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو

محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا

شکست زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا

تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا

اب جو پتھر ہے آدمی تھا کبھی

اس کو کہتے ہیں انتظار میاں

اتنی ساری یادوں کے ہوتے بھی جب دل میں

ویرانی ہوتی ہے تو حیرانی ہوتی ہے

بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی

وگرنہ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں

مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی

محبت کی کہانی میں اداکاری نہیں کرنی

لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی

یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی

ہمارا دل ذرا اکتا گیا تھا گھر میں رہ رہ کر

یونہی بازار آئے ہیں خریداری نہیں کرنی

میں خود بھی یار تجھے بھولنے کے حق میں ہوں

مگر جو بیچ میں کمبخت شاعری ہے نا

کسی نے خواب میں آکر مجھے یہ حکم دیا

تم اپنے اشک بھی بھیجا کرو دعاؤں کے ساتھ

یہ محبت کے محل تعمیر کرنا چھوڑ دے

میں بھی شہزادہ نہیں ہوں تو بھی شہزادی نہیں

تو روز جس کے تجسس میں آ رہا ہے یہاں

ہزار بار بتایا ہے وہ نہیں ہوں میں

نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ

میں تجھ کو بھول گیا چھوڑتے ہوئے سگریٹ

اسی لیے ہمیں احساس جرم ہے شاید

ابھی ہماری محبت نئی نئی ہے نا

ڈبو رہا ہے مجھے ڈوبنے کا خوف اب تک

بھنور کے بیچ ہوں دریا کے پار ہوتے ہوئے

ساتھیو اب مجھے رستے میں اترنا ہوگا

ڈوبتی ناؤ بچانے کا نہیں حل کوئی اور

جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں

شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے

یہ کہہ دیا ہے مرے آنسوؤں نے تنگ آ کر

ہمیں بوقت ضرورت نکالئے صاحب

تو مجھے تنگ نہ کر اے دل آوارہ مزاج

تجھ کو اس شہر میں لانا ہی نہیں چاہیے تھا

یہ جو کچھ لوگ خیالوں میں رہا کرتے ہیں

ان کا گھر بار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

تیرے جانے سے زیادہ ہیں نہ کم پہلے تھے

ہم کو لاحق ہیں وہی اب بھی جو غم پہلے تھے

ہمارے سانس بھی لے کر نہ بچ سکے افضل

یہ خاکدان میں دم توڑتے ہوئے سگریٹ

تبھی تو میں محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا

یہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا

یہ نکتہ اک قصہ گو نے مجھ کو سمجھایا

ہر کردار کے اندر ایک کہانی ہوتی ہے

تری مسند پہ کوئی اور نہیں آ سکتا

یہ مرا دل ہے کوئی خالی اسامی تو نہیں

دالان میں سبزہ ہے نہ تالاب میں پانی

کیوں کوئی پرندہ مری دیوار پہ اترے

پرندے لڑ ہی پڑے جائیداد پر آخر

شجر پہ لکھا ہوا ہے شجر برائے فروخت

بھاؤ تاؤ میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی

ہاں مگر تجھ سے خریدار کو نا کیسے ہو

یہ بھی خود کو حوصلہ دینے کا حیلہ ہے کہ میں

انگلیوں سے لکھ رہا ہوں چار سو لا تقنطو

ذرا یہ دوسرا مصرع درست فرمائیں

مرے مکان پہ لکھا ہے گھر برائے فروخت

سزائے موت پہ فریاد سے تو بہتر ہے

گلے لگا کے کہوں دار کو مبارک باد

اک وڈیرہ کچھ مویشی لے کے بیٹھا ہے یہاں

گاؤں کی جتنی بھی آبادی ہے آبادی نہیں

چھوڑ کر مجھ کو ترے صحن میں جا بیٹھا ہے

پڑ گئی جیسے ترے سایۂ دیوار میں جان