تمام
تعارف
غزل114
نظم433
شعر136
ای-کتاب1302
ٹاپ ٢٠ شاعری 21
تصویری شاعری 22
اقوال10
آڈیو 58
ویڈیو 463
قطعہ10
رباعی23
قصہ13
گیلری 10
بلاگ2
دیگر
علامہ اقبال کی ٹاپ ٢٠ شاعری
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنی نااہلی کا اعتراف کرکے عاجزی دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی اپنے شوقِ دید اور ثابت قدم انتظار کو دلیل بناتا ہے۔ محبوب سے التجا ہے کہ قابلیت نہ سہی، سچی طلب تو پرکھ لے۔ یہاں دید محض ملاقات نہیں بلکہ قرب کی علامت ہے۔ اصل جذبہ تڑپتی ہوئی امید اور وفادار آرزو ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اپنی نااہلی کا اعتراف کرکے عاجزی دکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی اپنے شوقِ دید اور ثابت قدم انتظار کو دلیل بناتا ہے۔ محبوب سے التجا ہے کہ قابلیت نہ سہی، سچی طلب تو پرکھ لے۔ یہاں دید محض ملاقات نہیں بلکہ قرب کی علامت ہے۔ اصل جذبہ تڑپتی ہوئی امید اور وفادار آرزو ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں نرگس کو آنکھ کی علامت بنا کر بے نوری کو روحانی و فکری اندھا پن کہا گیا ہے۔ چمن سے مراد معاشرہ ہے جہاں سچی بصیرت رکھنے والا رہنما بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ شعر کا جذبہ ایک طرف محرومی اور حسرت ہے، دوسری طرف اس نادر بصیرت کے ظہور کی امید بھی۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں نرگس کو آنکھ کی علامت بنا کر بے نوری کو روحانی و فکری اندھا پن کہا گیا ہے۔ چمن سے مراد معاشرہ ہے جہاں سچی بصیرت رکھنے والا رہنما بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ شعر کا جذبہ ایک طرف محرومی اور حسرت ہے، دوسری طرف اس نادر بصیرت کے ظہور کی امید بھی۔
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاہین بلند حوصلے اور خوددار طبیعت کی علامت ہے، جس کی پہچان رُک جانا نہیں بلکہ اوپر اٹھتے رہنا ہے۔ شاعر تسکین اور ٹھہراؤ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ “اور بھی ہیں” یہ بتاتا ہے کہ منزلیں ختم نہیں ہوتیں، نئے افق کھلتے رہتے ہیں۔ جذبہ امید اور مسلسل جدوجہد کا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاہین بلند حوصلے اور خوددار طبیعت کی علامت ہے، جس کی پہچان رُک جانا نہیں بلکہ اوپر اٹھتے رہنا ہے۔ شاعر تسکین اور ٹھہراؤ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ “اور بھی ہیں” یہ بتاتا ہے کہ منزلیں ختم نہیں ہوتیں، نئے افق کھلتے رہتے ہیں۔ جذبہ امید اور مسلسل جدوجہد کا ہے۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں حوصلہ اور بلند ہمتی کی تلقین ہے کہ جو حد ہمیں آخری لگتی ہے وہ بھی ایک پڑاؤ ہے، انجام نہیں۔ “ستارے” ظاہری بلندی اور حدود کی علامت ہیں اور ان سے آگے نئی جہتیں ہیں۔ دوسرے مصرعے میں عشق کو مسلسل کسوٹی بنایا گیا ہے: سچی محبت ہر مرحلے پر نئی آزمائش مانگتی ہے۔ لہجہ امید بھی ہے اور عزم بھی کہ سفر ابھی جاری ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں زندگی کی حقیقت کو باہر نہیں بلکہ باطن میں تلاش کرنے کی تلقین ہے۔ “ڈوبنا” خودی کی گہرائی تک پہنچنے کا استعارہ ہے، جہاں معنی اور سمت ملتی ہے۔ دوسرے مصرع میں وابستگی کی نفی نہیں، بلکہ غلامانہ وابستگی سے انکار ہے: اپنا ہونا، خود پر قائم ہونا۔ جذبہ بیداری، خودمختاری اور مقصدیت کا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں زندگی کی حقیقت کو باہر نہیں بلکہ باطن میں تلاش کرنے کی تلقین ہے۔ “ڈوبنا” خودی کی گہرائی تک پہنچنے کا استعارہ ہے، جہاں معنی اور سمت ملتی ہے۔ دوسرے مصرع میں وابستگی کی نفی نہیں، بلکہ غلامانہ وابستگی سے انکار ہے: اپنا ہونا، خود پر قائم ہونا۔ جذبہ بیداری، خودمختاری اور مقصدیت کا ہے۔
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں عاشق کی طلب انتہائی اور بے حد ہے: وہ عشق کا صرف حصہ نہیں بلکہ اس کی انتہا چاہتا ہے۔ دوسرے مصرع میں وہ خود اپنی خواہش کی جسارت کو سادگی کہہ کر مان لیتا ہے۔ “انتہا” کمالِ محبت اور مکمل سرسپردگی کی علامت ہے، اور “سادگی” میں خود آگہی کی لطیف طنز بھی جھلکتی ہے۔ جذبات کا مرکز آرزو، وفاداری اور عاجزی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال کے نزدیک خلوص سے نکلی ہوئی بات اپنی تاثیر خود لے کر آتی ہے۔ “بےپر اڑان” سے مراد یہ ہے کہ ظاہری سہارے—مرتبہ، لفاظی یا وسیلے—نہ ہوں تب بھی سچی بات بلند ہو کر دلوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس شعر کا جذبہ باطنی قوت اور سچائی پر اعتماد ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال کے نزدیک خلوص سے نکلی ہوئی بات اپنی تاثیر خود لے کر آتی ہے۔ “بےپر اڑان” سے مراد یہ ہے کہ ظاہری سہارے—مرتبہ، لفاظی یا وسیلے—نہ ہوں تب بھی سچی بات بلند ہو کر دلوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اس شعر کا جذبہ باطنی قوت اور سچائی پر اعتماد ہے۔
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں آسان ظلم اور مشکل شفقت کا تقابل ہے۔ نشہ ہر اُس ترغیب یا اثر کی علامت ہے جو آدمی کو کمزور کرے، اور ساقی اختیار رکھنے والے شخص کی علامت بن جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے گرانا عام بات ہے؛ کمال یہ ہے کہ جو گر رہے ہوں انہیں سہارا دے کر بچایا جائے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں آسان ظلم اور مشکل شفقت کا تقابل ہے۔ نشہ ہر اُس ترغیب یا اثر کی علامت ہے جو آدمی کو کمزور کرے، اور ساقی اختیار رکھنے والے شخص کی علامت بن جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے گرانا عام بات ہے؛ کمال یہ ہے کہ جو گر رہے ہوں انہیں سہارا دے کر بچایا جائے۔
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر دل اور عقل کے بیچ توازن سکھاتا ہے۔ عقل کو پاسبان کہہ کر بتایا کہ وہ دل کو لغزشوں سے بچا سکتی ہے، مگر ہر وقت کی سخت نگرانی جذبے، محبت اور جرات کو دبا بھی دیتی ہے۔ اس لیے کبھی کبھی دل کی اپنی آواز پر بھروسہ کر کے اسے آزادی دینا ضروری ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر دل اور عقل کے بیچ توازن سکھاتا ہے۔ عقل کو پاسبان کہہ کر بتایا کہ وہ دل کو لغزشوں سے بچا سکتی ہے، مگر ہر وقت کی سخت نگرانی جذبے، محبت اور جرات کو دبا بھی دیتی ہے۔ اس لیے کبھی کبھی دل کی اپنی آواز پر بھروسہ کر کے اسے آزادی دینا ضروری ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر اس نظام پر ضرب ہے جہاں پیداوار تو بہت ہو مگر دہقاں محروم رہے۔ کھیت یہاں معاشی و سماجی ڈھانچے کی علامت ہے، اور خوشۂ گندم اس کی ظاہری کامیابی۔ “جلا دو” ایک استعاراتی اعلان ہے کہ ایسی ناانصافی کو قبول نہ کرو، ضرورت پڑے تو اس نفع بخش مگر ظالمانہ نظام کو ہی ختم کر دو۔ جذبہ احتجاج، غیرت اور انصاف طلبی کا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر اس نظام پر ضرب ہے جہاں پیداوار تو بہت ہو مگر دہقاں محروم رہے۔ کھیت یہاں معاشی و سماجی ڈھانچے کی علامت ہے، اور خوشۂ گندم اس کی ظاہری کامیابی۔ “جلا دو” ایک استعاراتی اعلان ہے کہ ایسی ناانصافی کو قبول نہ کرو، ضرورت پڑے تو اس نفع بخش مگر ظالمانہ نظام کو ہی ختم کر دو۔ جذبہ احتجاج، غیرت اور انصاف طلبی کا ہے۔
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال کے نزدیک فتح کا راستہ ہتھیار نہیں بلکہ باطنی صفات ہیں: مضبوط یقین، پیہم کوشش اور وسیع محبت۔ “جہادِ زندگانی” سے مراد زندگی کا دائمی امتحان اور کشمکش ہے جس میں انسان خود کو سنوارتا ہے۔ شاعر ان اوصاف کو “شمشیریں” کہہ کر بتاتا ہے کہ اصل قوت کردار میں ہوتی ہے۔ یہ شعر حوصلہ، عمل اور امید کی تلقین کرتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
علامہ اقبال کے نزدیک فتح کا راستہ ہتھیار نہیں بلکہ باطنی صفات ہیں: مضبوط یقین، پیہم کوشش اور وسیع محبت۔ “جہادِ زندگانی” سے مراد زندگی کا دائمی امتحان اور کشمکش ہے جس میں انسان خود کو سنوارتا ہے۔ شاعر ان اوصاف کو “شمشیریں” کہہ کر بتاتا ہے کہ اصل قوت کردار میں ہوتی ہے۔ یہ شعر حوصلہ، عمل اور امید کی تلقین کرتا ہے۔
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر بہشت کی آسودگی سے دور کیے جانے پر سوال اٹھاتا ہے اور اسے انسانی زندگی کی جدوجہد و ذمہ داریوں کا استعارہ بناتا ہے۔ سفر یہاں مقصدِ حیات اور مشن کی علامت ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ محبوب/اصل وطن کو تسلی دیتا ہے کہ دنیا کا کام دراز ہے مگر واپسی ضرور ہوگی۔ کیفیت میں ہجر کی تڑپ بھی ہے اور فرض نبھانے کا عزم بھی۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر بہشت کی آسودگی سے دور کیے جانے پر سوال اٹھاتا ہے اور اسے انسانی زندگی کی جدوجہد و ذمہ داریوں کا استعارہ بناتا ہے۔ سفر یہاں مقصدِ حیات اور مشن کی علامت ہے۔ دوسرے مصرعے میں وہ محبوب/اصل وطن کو تسلی دیتا ہے کہ دنیا کا کام دراز ہے مگر واپسی ضرور ہوگی۔ کیفیت میں ہجر کی تڑپ بھی ہے اور فرض نبھانے کا عزم بھی۔
-
موضوع : انتظار
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
Interpretation:
Rekhta AI
یہاں انسانِ خاکی کو “ٹوٹا ہوا تارا” کہا گیا ہے جو بظاہر کمزور اور گرا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے عروج سے آسمانی ستارے بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ “مہِ کامل” کمال، تکمیل اور پوری روشنی کی علامت ہے۔ شعر کا مرکزی جذبہ یہ ہے کہ انسان اپنی محنت اور خودی سے اتنا بلند ہو سکتا ہے کہ قائم شدہ مراتب اور حدیں بھی لرز اٹھیں۔
Interpretation:
Rekhta AI
یہاں انسانِ خاکی کو “ٹوٹا ہوا تارا” کہا گیا ہے جو بظاہر کمزور اور گرا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے عروج سے آسمانی ستارے بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ “مہِ کامل” کمال، تکمیل اور پوری روشنی کی علامت ہے۔ شعر کا مرکزی جذبہ یہ ہے کہ انسان اپنی محنت اور خودی سے اتنا بلند ہو سکتا ہے کہ قائم شدہ مراتب اور حدیں بھی لرز اٹھیں۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر ایک مخاطَب سے شکوہ کرتا ہے کہ اس نے پردہ اٹھا کر اسے فاش کر دیا۔ “سینۂ کائنات” میں “راز” ہونے سے مراد اپنی اندرونی حقیقت، خودی یا باطنی کیفیت ہے جو پوشیدہ رہ کر ہی معنی رکھتی تھی۔ اب اس انکشاف سے اس کی انفرادیت اور حرمت مجروح ہوئی ہے۔ اسی لیے یہ عمل اسے غضب اور ظلم محسوس ہوتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر ایک مخاطَب سے شکوہ کرتا ہے کہ اس نے پردہ اٹھا کر اسے فاش کر دیا۔ “سینۂ کائنات” میں “راز” ہونے سے مراد اپنی اندرونی حقیقت، خودی یا باطنی کیفیت ہے جو پوشیدہ رہ کر ہی معنی رکھتی تھی۔ اب اس انکشاف سے اس کی انفرادیت اور حرمت مجروح ہوئی ہے۔ اسی لیے یہ عمل اسے غضب اور ظلم محسوس ہوتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر ایک ایسی بےقراری بیان کرتا ہے جو آرام اور ٹھہراؤ کو قبول نہیں کرتی۔ “خانماں برباد” ہونا یہاں مجبوری نہیں بلکہ انتخاب ہے، اور “نشیمن” گھر، وابستگی اور تحفظ کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ خود اپنے بنائے ہوئے ٹھکانوں کو جلا کر آزادی اور مسلسل سفر کو ترجیح دیتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر ایک ایسی بےقراری بیان کرتا ہے جو آرام اور ٹھہراؤ کو قبول نہیں کرتی۔ “خانماں برباد” ہونا یہاں مجبوری نہیں بلکہ انتخاب ہے، اور “نشیمن” گھر، وابستگی اور تحفظ کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ خود اپنے بنائے ہوئے ٹھکانوں کو جلا کر آزادی اور مسلسل سفر کو ترجیح دیتا ہے۔
-
موضوع : دیوانگی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں عاشقوں کی انفرادیت پر حیرت بھی ہے اور تحسین بھی۔ ان کی “انوکھی وضع” اس بات کی علامت ہے کہ سچا عشق عام لوگوں کے طور طریقوں اور مصلحتوں سے بلند ہوتا ہے۔ شاعر “یارب” کہہ کر اس فرق کو ایک روحانی نسبت بنا دیتا ہے، گویا یہ لوگ کسی اور ہی جہان/بستی کے ہیں۔ مرکزی جذبہ: عشق کی غیر معمولی کیفیت پر تعجب اور احترام۔
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں عاشقوں کی انفرادیت پر حیرت بھی ہے اور تحسین بھی۔ ان کی “انوکھی وضع” اس بات کی علامت ہے کہ سچا عشق عام لوگوں کے طور طریقوں اور مصلحتوں سے بلند ہوتا ہے۔ شاعر “یارب” کہہ کر اس فرق کو ایک روحانی نسبت بنا دیتا ہے، گویا یہ لوگ کسی اور ہی جہان/بستی کے ہیں۔ مرکزی جذبہ: عشق کی غیر معمولی کیفیت پر تعجب اور احترام۔
-
موضوع : عاشق
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ