ADVERTISEMENT

خراج پر شعر

اچھے لوگ کبھی نہیں مرتے

وہ اپنی مادی جسمانی صورت سے تو آزاد ہو جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں دلوں میں ہمیشہ گھر کئے رہتی ہیں اور ہم انہیں وقتا فوقتا یاد کرتے رہتے ہیں ۔ یہاں ہم کچھ ایسے ہی شعر پیش کر رہے ہیں جو گزرے ہوؤں کو یاد کرنے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کی مختلف صورتوں ، جذبوں اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں ۔

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

جون ایلیا

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

علامہ اقبال

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

کیفی اعظمی

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

یہ میر تقی میر کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس شعر کی بنیاد ’’مت سہل ہمیں جانو‘‘ پر ہے۔ سہل کا مطلب آسان بھی ہے اور کم تر بھی۔ مگر اس شعر میں یہ لفظ کم تر کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ فلک کا مطلب آسمان ہے اور فلک کے پھرنے سے مراد گشت کرنے کا بھی ہیں اور مارا مارا پھرنے کے بھی۔ مگر اس شعر میں فلک کے پھرنے سے غالب مراد مارامارا پھرنے کے ہی ہیں۔ خاک کا مطلب زمین ہے اور خاک کا لفظ میر نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ انسان کو خاک سے بنا ہوا یعنی خاکی کہا جاتا ہے۔

شعر میں خاص بات یہ کہ شاعر نے ’’فلک‘‘، ’’خاک‘‘ اور ’’انسان‘‘ کے الفاظ سے بہت کمال کا خیال پیش کیا ہے۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہوئے کہ اے انسان ! ہم جیسے لوگوں کو سہل مت سمجھو، ہم جیسے لوگ تب خاک سے پیدا ہوتے ہیں جب آسمان برسوں تک بھٹکتا ہے۔

میر تقی میر
ADVERTISEMENT

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

خالد شریف

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں

اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

رئیس فروغ

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

رحمان فارس

جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ

آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

سرور بارہ بنکوی
ADVERTISEMENT

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا

آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

پروین شاکر

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں

روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

حیدر علی آتش

اب نہیں لوٹ کے آنے والا

گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا

اختر نظمی

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے

محمود رامپوری
ADVERTISEMENT

تیری محفل سے جو نکلا تو یہ منظر دیکھا

مجھے لوگوں نے بلایا مجھے چھو کر دیکھا

راحت اندوری

جانے والے کبھی نہیں آتے

جانے والوں کی یاد آتی ہے

سکندر علی وجد

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا

الطاف حسین حالی

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

غالب کا یہ مشہور شعر معنوی اور فنی دونوں سطحوں پر کمال کا درجہ رکھتا ہے۔ شعر کی مناسبتیں بڑی دلچسپ ہیں۔ لالہ و گل کی مناسبت سے صورتیں اور ان دونوں کی رعایت سے خاک، نمایاں کی مناسبت سے پنہاں اور ان دونوں کی رعایت سے ’خاک‘ ہر پہلو سے غور طلب ہے۔ انسانی صورتوں کو لالہ و گل سے مشابہ کرنا اور پھر ان کی نمود کے لئے خاک کو ذریعہ بنانا غالب کا ہی کمال ہے۔ اور اس سے بڑھ کر کمال یہ ہے کہ لالہ و گل کو انسانی صورتوں کا مرہونِ منت بتایا ہے۔ اور وہ بھی تب جب وہ خاک میں مل جاتی ہیں۔

’’سب کہاں کچھ‘‘ کہہ کر گویا یہ بات باور کرائی ہے کہ یہ جو لالہ و گل ہیں یہ ان انسانی صورتوں میں سے کچھ ہی میں نمودار ہوئے ہیں جو مرنے کے بعد قبر میں سماتی ہیں۔ ‘‘ ’’خاک میں کیا صورتیں ہوں گی‘‘ مطلب کیسے کیسے حسین و جمیل لوگ خاک میں مل گئے۔ شعر کا مفہوم یہ ہے کہ زمین میں مرنے کے بعد بڑے خوبصورت لوگ مل جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ہی لالہ و گل کی صورتوں میں نمایاں ہوجاتی ہیں۔ گویا لالہ و گل کی صوررت میں وہ پری جمال لوگ دوسرا جنم لیتے ہیں یا اگر ان خوبصورت لوگوں میں سے سب کے سب لالہ وگل کی صورت میں نمایاں ہوں گیں تو ساری زمین بھر جائے گی۔

مرزا غالب
ADVERTISEMENT

جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتی

کچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں

مخمور دہلوی

وہ اب وہاں ہے جہاں راستے نہیں جاتے

میں جس کے ساتھ یہاں پچھلے سال آیا تھا

بشیر بدر

یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی

جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا

آفتاب اقبال شمیم

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

محمد رفیع سودا
ADVERTISEMENT

کل اس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی

گمان تک نہ ہوا وہ بچھڑنے والا ہے

امید فاضلی

تمہاری موت نے مارا ہے جیتے جی ہم کو

ہماری جان بھی گویا تمہاری جان میں تھی

شکیل اعظمی

جھونکے نسیم خلد کے ہونے لگے نثار

جنت کو اس گلاب کا تھا کب سے انتظار

خالد مینائی