ڈاکٹر جعفر عسکری کے اشعار
نیند آتی ہی نہیں تھی آگہی کے درد سے
موت نے آغوش میں لے کر سلایا ہے مجھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
چھین لیتی ہے آدمی کا وقار
مفلسی بھی عذاب ہے یارو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مٹ جائے گی وطن سے جہالت کی تیرگی
وہ دیکھ انقلاب کا سورج قریب ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اک ماں کے دم سے زیست میں رونق تھی برقرار
اب وہ نہیں تو رونق بزم جہاں نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مذہب سے اس کے دل میں نہ پیدا ہوا گداز
یہ آدمی تو اور بھی سفاک ہو گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
برسات مفلسوں کی سدا سے رقیب ہے
کچے مکان گرنے کا موسم عجیب ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
چھانی ہے خاک ہم نے بہت کوئے یار کی
جعفرؔ اس عاشقی سے کسی کو اماں نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ملا تری اکڑ سے یہ ہونے لگا گمان
جیسے خدا زمیں پہ نمودار ہو گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اب عشق میں چھپی ہوئی لالچ ہے دہر کی
مجنوں بھی اس زمانے کا چالاک ہو گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تصادم دیکھ کر افکار نو کا جہل دوراں سے
سخن روشن خیالی کا سنانا سخت مشکل ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
یہ شب غم یہ میری تنہائی
اس رفاقت کا کون ثانی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ