Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

حبیب موسوی

حبیب موسوی کے اشعار

2.3K
Favorite

باعتبار

دل میں بھری ہے خاک میں ملنے کی آرزو

خاکستری ہوا ہے ہماری قبا کا رنگ

دل میں بھری ہے خاک میں ملنے کی آرزو

خاکستری ہوا ہے ہماری قبا کا رنگ

جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہد

میکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایا

جا سکے نہ مسجد تک جمع تھے بہت زاہد

میکدے میں آ بیٹھے جب نہ راستا پایا

مے کدہ ہے شیخ صاحب یہ کوئی مسجد نہیں

آپ شاید آئے ہیں رندوں کے بہکائے ہوئے

مے کدہ ہے شیخ صاحب یہ کوئی مسجد نہیں

آپ شاید آئے ہیں رندوں کے بہکائے ہوئے

دل لیا ہے تو خدا کے لئے کہہ دو صاحب

مسکراتے ہو تمہیں پر مرا شک جاتا ہے

دل لیا ہے تو خدا کے لئے کہہ دو صاحب

مسکراتے ہو تمہیں پر مرا شک جاتا ہے

جب کہ وحدت ہے باعث کثرت

ایک ہے سب کا راستا واعظ

جب کہ وحدت ہے باعث کثرت

ایک ہے سب کا راستا واعظ

قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیں

ناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئے

قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیں

ناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئے

گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ

خزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹ

گلوں کا دور ہے بلبل مزے بہار میں لوٹ

خزاں مچائے گی آتے ہی اس دیار میں لوٹ

میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے

زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے

میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے

زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے

جو لے لیتے ہو یوں ہر ایک کا دل باتوں باتوں میں

بتاؤ سچ یہ چالاکی تمہیں کس نے سکھائی تھی

جو لے لیتے ہو یوں ہر ایک کا دل باتوں باتوں میں

بتاؤ سچ یہ چالاکی تمہیں کس نے سکھائی تھی

لب جاں بخش تک جا کر رہے محروم بوسہ سے

ہم اس پانی کے پیاسے تھے جو تڑپاتا ہے ساحل پر

لب جاں بخش تک جا کر رہے محروم بوسہ سے

ہم اس پانی کے پیاسے تھے جو تڑپاتا ہے ساحل پر

دشت و صحرا میں حسیں پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے

آج کل خانۂ امید ہے ویراں کس کا

دشت و صحرا میں حسیں پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے

آج کل خانۂ امید ہے ویراں کس کا

رندوں کو وعظ پند نہ کر فصل گل میں شیخ

ایسا نہ ہو شراب اڑے خانقاہ میں

رندوں کو وعظ پند نہ کر فصل گل میں شیخ

ایسا نہ ہو شراب اڑے خانقاہ میں

بہت دنوں میں وہ آئے ہیں وصل کی شب ہے

موذن آج نہ یا رب اٹھے اذاں کے لئے

بہت دنوں میں وہ آئے ہیں وصل کی شب ہے

موذن آج نہ یا رب اٹھے اذاں کے لئے

زباں پر ترا نام جب آ گیا

تو گرتے کو دیکھا سنبھلتے ہوئے

زباں پر ترا نام جب آ گیا

تو گرتے کو دیکھا سنبھلتے ہوئے

غربت بس اب طریق محبت کو قطع کر

مدت ہوئی ہے اہل وطن سے جدا ہوئے

غربت بس اب طریق محبت کو قطع کر

مدت ہوئی ہے اہل وطن سے جدا ہوئے

یہ ثابت ہے کہ مطلق کا تعین ہو نہیں سکتا

وہ سالک ہی نہیں جو چل کے تا دیر و حرم ٹھہرے

یہ ثابت ہے کہ مطلق کا تعین ہو نہیں سکتا

وہ سالک ہی نہیں جو چل کے تا دیر و حرم ٹھہرے

چاندنی چھپتی ہے تکیوں کے تلے آنکھوں میں خواب

سونے میں ان کا دوپٹہ جو سرک جاتا ہے

چاندنی چھپتی ہے تکیوں کے تلے آنکھوں میں خواب

سونے میں ان کا دوپٹہ جو سرک جاتا ہے

کرو باتیں ہٹاؤ آئنہ بس بن چکے گیسو

انہیں جھگڑوں ہی میں اس دن بھی کتنی رات آئی تھی

کرو باتیں ہٹاؤ آئنہ بس بن چکے گیسو

انہیں جھگڑوں ہی میں اس دن بھی کتنی رات آئی تھی

بتان سرو قامت کی محبت میں نہ پھل پایا

ریاضت جن پہ کی برسوں وہ نخل بے ثمر نکلے

بتان سرو قامت کی محبت میں نہ پھل پایا

ریاضت جن پہ کی برسوں وہ نخل بے ثمر نکلے

تیزیٔ بادہ کجا تلخیٔ گفتار کجا

کند ہے نشتر ساقی سے سنان واعظ

تیزیٔ بادہ کجا تلخیٔ گفتار کجا

کند ہے نشتر ساقی سے سنان واعظ

شمع کا شانۂ اقبال ہے توفیق کرم

غنچہ گل ہوتے ہی خود صاحب زر ہوتا ہے

شمع کا شانۂ اقبال ہے توفیق کرم

غنچہ گل ہوتے ہی خود صاحب زر ہوتا ہے

فصل گل آئی اٹھا ابر چلی سرد ہوا

سوئے مے خانہ اکڑتے ہوئے مے خوار چلے

فصل گل آئی اٹھا ابر چلی سرد ہوا

سوئے مے خانہ اکڑتے ہوئے مے خوار چلے

پلا ساقی مئے گل رنگ پھر کالی گھٹا آئی

چھپانے کو گنہ مستوں کے کعبہ کی ردا آئی

پلا ساقی مئے گل رنگ پھر کالی گھٹا آئی

چھپانے کو گنہ مستوں کے کعبہ کی ردا آئی

کسی صورت سے ہوئی کم نہ ہماری تشویش

جب بڑھی دل سے تو آفاق میں پھیلی تشویش

کسی صورت سے ہوئی کم نہ ہماری تشویش

جب بڑھی دل سے تو آفاق میں پھیلی تشویش

تھوڑی تھوڑی راہ میں پی لیں گے گر کم ہے تو کیا

دور ہے مے خانہ یہ زاد سفر شیشہ میں ہے

تھوڑی تھوڑی راہ میں پی لیں گے گر کم ہے تو کیا

دور ہے مے خانہ یہ زاد سفر شیشہ میں ہے

Recitation

بولیے