aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kashti-e-umr-e-ravaa.n"
پروین ام مشتاق
born.1866
شاعر
آلِ عمر
born.1995
رخسانہ نکہت لاری ام ہانی
born.1953
مصنف
ادارۂ فرہنگ عامہ
ناشر
ایم۔ اے۔ رمن
مدیر
ام زبیر
وزارت امور خارجہ جمہوری اسلامی
مطبع مفید عام، آگرہ
ام مریم
محکمۂ تعلقات عامہ، ہریانہ
رفیق عام پریس، لاہور
شعبۂ ابلاغ عامہ، کراچی
محکمۂ تعلقات عامہ، دہلی
مطبع مفید عام، لاہور
ام ہانی اشرف
کہیں رکنے لگی ہے کشتئ عمر رواں شایدزمیں چھونے لگی ہے اب کے حد آسماں شاید
چلی جو کشتئ عمر رواں تو چلنے دیرکی تو کشتئ عمر رواں سے کچھ نہ کہا
بہت ہی سوچ کر تو کشتیٔ عمر رواں کو ڈالمقابل میں تلاطم خیز بحر بیکراں ہوگا
بحر عالم میں پہنچنا تا بہ ساحل ہے ضرورکشتیٔ عمر رواں کو کب ہے طوفاں سے غرض
ذرا دور اور ہے اے کشتئ عمر رواں ساحلکہ اس بحر جہاں میں ہر نفس ہے بادباں میرا
ایسے اشعار کا مجموعہ جس میں کسی خیال کو تسلسل سے پیش کیا جائے اسے قطعہ کہتے ہیں ۔یہ دو شعروں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں میں باہمی ربط ضروری ہوتا ہے اگر کسی غزل میں ایک سے زیادہ قطعات موجود ہوں تو اس غزل کو قطعہ بند غزل کہا جاتا ہے ۔
عید ایک تہوار ہے اس موقعے پر لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن عاشق کیلئے خوشی کا یہ موقع بھی ایک دوسری ہی صورت میں وارد ہوتا ہے ۔ محبوب کے ہجر میں اس کیلئے یہ خوشی اور زیادہ دکھ بھری ہوجاتی ہے ۔ کبھی وہ عید کا چاند دیکھ کر اس میں محبوب کے چہرے کی تلاش کرتا ہے اور کبھی سب کو خوش دیکھ کر محبوب سے فراق کی بد نصیبی پر روتا ہے ۔ عید پر کہی جانے والی شاعری میں اور بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ شعری انتخاب پڑھئے ۔
بیگم اختر کی گائی ہوئیں ١٠ مشهور غزلیں
میری حدیث عمر گریزاں
آنند نرائن ملا
اے عمر گریزاں لمحے جب کھو جائیں
رضیہ جمیل
خواتین کی تحریریں
خوراک صحت و درازی عمر
بشن داس
دیگر
کیا میں تندرست ہوں؟ صحت و درازی عمرکا راز
پنڈت ٹھاکر دت شرما
ابررواں
اویناش امن
مجموعہ
ابر رواں کی بازگشت
سردار پنچھی
غزل
اشک چکاں سے عصر رواں تک
نشور واحدی
دیدۂ آب رواں
خالد بشیر احمد
یاقوت رواں
جگدیش مہتہ درد
سر آب رواں
سید انجم جعفری
کشتئی نوح
میرزا غلام احمد قادیانی
لوح آب رواں
فاروق ارگلی
خواب رواں
جوئے رواں
گنج رواں
پھنسی ہے کشتیٔ عمر رواں عصیاں کے طوفاں میںنگاہ لطف کے خواہاں ہیں یا شاہ زمن ہم بھی
چلتی تو ہے کشتیٔ عمر رواںبحر ناکامی کا ساحل ہی نہیں
کیا خبر ہے کس کنارے اس سفر کی شام ہوکشتئ عمر رواں میں بادباں کوئی نہیں
دور ساحل نا خدا مایوس طوفاں کا شبابڈوبتی ہے کشتیٔ عمر رواں اب کیا کروں
طوفاں کی سختیاں تو کوئی سختیاں نہیںغم یہ ہے بس میں کشتیٔ عمر رواں نہیں
اشک سے دریا ہوا دریا سے طوفاں ہو گیاکشتیٔ عمر رواں کا ساز و ساماں ہو گیا
کشتیٔ عمر رواں کا حال ناکامی نہ پوچھپاس جب ساحل کے پہنچی دور ساحل ہو گیا
کشتیٔ عمر رواں کو غم ہو کیوں منجدھار کادست احمد میں ہے جب دستہ مری پتوار کا
فضائے ساحل امید اگر کچھ راس آ جاتیتو ہم کیوں نذر طوفاں کشتئ عمر رواں کرتے
ہر نفس موج فنا تیرے تھپیڑوں کے طفیلکشتئ عمر رواں پار ہوئی جاتی ہے
بادبانوں میں بھری ہے اس کے کیا باد نفسکشتئ عمر رواں کو تاب لنگر کی نہیں
دواں ہے کشتیٔ عمر رواں یوں بحر ہستی میںکہیں ابھری کہیں ڈوبی کہیں معلوم ہوتی ہے
تہہ نشیں ہو کر ملی موج حوادث سے نجاتکشتئ عمر رواں اب دامن ساحل میں ہے
یوں بھی ہم معرکۂ عمر رواں سے گزرےاک جہاں زیر کیا ایک جہاں سے گزرے
اک خلش کو حاصل عمر رواں رہنے دیاجان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books