aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saaya-e-baal-e-humaa-e-ra.nj"
سودائے عشق میں یہ سعادت حصول ہےبخت سیہ ہے سایۂ بال ہمائے رنج
منڈلا رہے تھے جن کے سروں پر کلاغ و بوموہ فیضیاب سایۂ بال ہما ہوئے
اسی کے سایہ میں پاتا ہے پرورش اقبالمثال سایۂ بال ہما سدیشی ہے
وہ بے دماغ منت اقبال ہوں کہ میںوحشت بہ داغ سایۂ بال ہما کروں
یک بخت اوج نذر سبک باری اسدؔسر پر وبال سایۂ بال ہما نہ مانگ
احسان کرنا ،احسان کرکے اس کا بدلہ چاہنا ،احسان فراموش ہوجانا ، احسان کے پردے میں تکلیف پہنچانا یہ سارے تجربے روز مرہ کے انسانی تجربے ہیں ۔ ہم ان سے گزرتے بھی ہیں اور اپنی عام زندگی میں ان کا گہرا احساس بھی رکھتے ہیں ۔ لیکن شاعری ان تمام تجربوں کی جس گہری سطح سے ہمیں روشناس کراتی ہے اس سے زندگی کا ایک نیا شعور حاصل ہوتا ۔ عشق و عاشقی کے بیانیے میں احسان کی اور بھی کئی مزے دار صورتیں سامنے آئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
مشہور ہوجانے کی خواہش ہر کسی کی ہوتی ہے لیکن اس خواہش کو غلط طریقوں سے پورا کرنے کی کوشش بہت سی انسانی قدروں کی پائمالی کا باعث بنتی ہے ۔ یہ شعری انتخاب شہرت کی اچھی بری صورتوں کو سامنے لاتا ہے ۔
عشقیہ شاعری میں بدن بنیادی مرکزکے طورپرسامنے آتا ہے شاعروں نے بدن کواس کی پوری جمالیات کے ساتھ مختلف اور متنوع طریقوں سے برتا ہے لیکن بدن کے اس پورے تخلیقی بیانیے میں کہیں بھی بدن کی فحاشی نمایاں نہیں ہوتی ۔ اگرکہیں بدن کے اعضا کی بات ہے بھی تواس کا اظہاراسے بدن میں عام قسم کی دلچسپی سے اوپر اٹھا دیتا ہے ۔ بدن پر شاعری کا ایک دوسرا پہلوروح کے تناظرسے جڑا ہوا ہے ۔ بدن کی کثافت سے نکل کرروحا نی ترفع حاصل کرنا صوفی شعرا کا اہم موضوع رہا ہے۔
بال ہما
میکش کشمیری
فکر بر
علیم صبا نویدی
بادصبا
رفیق شاکر
مخمس
باد صبا
مجموعہ
باد صبا کا انتظار
سید محمد اشرف
افسانہ
باد صبا کا انتظار اور دیگر کہانیاں
صدائے عندلیب بر شاخ شب
شائستہ فاخری
ناول
تاریخ مرثیہ گوئی (ما بعد انیس)
سید صفدر حسین
مرثیہ تنقید
الف باے فطن
سید ابو الحسن
نصابی کتاب
حرف و صدا
راج کھیتی
باب الحیات
بسلسلہ تقریبات صد سالہ جشن غالب
سید رغیب حسین
تنبیہ زبان دراز بجواب افشائے راز
سید ناصر علی اٹاوی
اسلامیات
اللہ تعالیٰ کے فرمان بذریعہ قرآن
نورالہدیٰ
مشور مفید ہ بہ اہل ملک
سید سراج الحسن
جوانی سایۂ بال ہما ہےجوانی میں جہاں بھی زیر پا ہے
زلف کوں وا کر کہ شاہ عشق کوںسایۂ بال ہما درکار ہے
ترا سایہ ہو جس پر اس کو ہرگزنہ آوے سایۂ بال ہما خوش
ہو گیا کیا سایۂ بال ہما سایہ ترااس قدر دور آپ کو مجھ سے نہ اے دیوار کھینچ
شاہوں کے ساتھ یہ بھی ہے تقدیر کا مذاقرزق ہما ہوں سایۂ بال ہما کے بعد
ذاکرؔ یہ تاج و تخت ہے منسوب ان کے نامجن کے سروں پہ سایۂ بال ہما بھی ہے
ہمیں شعور حقیقت نہیں سو ہم اکثرفریب جنبش بال ہما بناتے ہیں
سایۂ بال ہما کیا ڈھونڈھتا ہے اے امیرؔبیٹھ زیر سایۂ دیوار قیصر باغ میں
وسعت مشرب نیاز کلفت وحشت اسدؔیک بیاباں سایۂ بال ہما ہو جائیے
پاؤں میں اپنا ہی سایہ ہے پریشان جمیلؔسر پہ دستار پر و بال ہما خوب سہی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books