aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sahaa"
فراق گورکھپوری
1896 - 1982
شاعر
میراجی
1912 - 1949
صبا اکبرآبادی
1908 - 1991
سارا شگفتہ
1954 - 1984
کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر
1909 - 1992
صبا افغانی
1922 - 1986
جاوید صبا
born.1958
تعشق لکھنوی
1824 - 1892
سحر انصاری
born.1939
وزیر علی صبا لکھنؤی
1793 - 1855
اجے سحاب
born.1969
صدا انبالوی
born.1951
نویش ساہو
born.1994
سدرہ سحر عمران
born.1986
صہبا اختر
1931 - 1996
یہ انتظار کا دکھ اب سہا نہیں جاتاتڑپ رہی ہے محبت رہا نہیں جاتا
جاگ اٹھا ہے سارا عالمجاگ اٹھی ہے رات ملن کی
تھے خاک راہ بھی ہم لوگ قہر طوفاں بھیسہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا
ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہےکس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے
دو اجالوں کو ملاتی ہوئی اک راہ گزاربے چراغی کے بڑے رنج سہا کرتی ہے
اپنے غیر روایتی خیالات کے لئے معروف پاکستانی شاعرہ ۔ کم عمری میں خود کشی کی۔
نام خواجہ محمد امیر، تخلص صباؔ ۔۱۴؍اگست۱۹۰۸ ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ شاعری کا آغاز ۱۹۲۰ء سے ہوا اور اپنے عربی فارسی کے استاد اخضر اکبرآبادی کی شاگردی اختیار کی۔ ۱۹۳۰ء میں محکمہ تعلیم میں بطور کلرک ملازم ہوگئے۔ بعدازاں متعدد تجارتی اور کاروباری اداروں سے منسلک رہے۔ تقسیم ہندکے بعد پاکستان آگئے اور کراچی میں بودوباش اختیار کی۔۱۹۶۱ء میں تقریباً ایک برس محترمہ فاطمہ جناح کے پرائیوٹ سکریٹری رہے۔ بھر جناح کالج اور دوسرے تعلیمی اداروں میں ۱۹۷۳ء تک کام کرتے رہے۔ غزل، رباعی، نظم ، مرثیہ ہرصنف سخن میں طبع آزمائی کی۔ وہ ایک قادر الکلام شاعر تھے۔ ان کے مجموعہ ہائے کلام’’اوراق گل‘‘ اور ’’چراغ بہار‘‘ کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ انھوں نے پورے دیوان غالب کی تضمین کے علاوہ عمر خیام کی کوئی بارہ سو رباعیات کو اردو رباعی میں ترجمہ کیا ہے جس کا ایک مختصر انتخاب ’دست زرفشاں‘ کے نام سے شائع ہوگیا ہے۔ صبا صاحب کے ترجمے کی دوسری کتاب’’ہم کلام‘‘ ہے جس میں غالب کی رباعیات کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے ۔ ان کی مرثیوں کی تین کتابیں ’سربکف‘، ’شہادت‘اور ’خوناب‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔ صبا اکبرآبادی ۲۹؍اکتوبر۱۹۹۱ء کو اسلام آباد میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
ممتاز فلم ساز و ہدایت کار، فلم نغمہ نگار اور افسانہ نگار۔ مرزا غالب پر ٹیلی ویژن سیریل کے لئے مشہور۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ
सहाسہا
سنسکرت
رہا سہا جس میں یہ بطور تابع آتا ہے
नहाنَہا
نہانا (رک) کا فعل امر، تراکیب میں مستعمل
रहाرَحیٰ
عربی
چکّی ، آسیا ، چکّی کا پاٹ.
रहाرہا
ہندی
رہنا کا ماضی، تراکیب میں مستعمل
سہہ رنگ
الف انصاری
مثنوی سحر البیان
میر حسن
مثنوی
250، سالہ انسان
آیۃ اللہ العظمٰی خمینی
اسلامیات
آر۔ پروگرامنگ ایک تعارف
ثنا رشید
سائنس
اندر سبھا امانت
امانت لکھنوی
رومانوی
مخزن تصوف
عبدالرحمٰن حیا
سماع اور دیگر اصطلاحات
اصلی جواہر خمسہ کامل
شاہ محمد غوث گوالیاری
تصوف
ہمعات
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
اندر سبھا
کشف المحجوب اردو
شیخ علی ہجویری
ایک تھی سارا
امرتا پریتم
سوانح حیات
برگ صحرا
محسن نقوی
غزل
الطاف القدس فی معرفۃ لطائف النفس
فلسفہ تصوف
چنندہ شاعری
انتخاب
مثنوی میر حسن
درد وہ بھی سہا ہے تیرے لیےمیری قسمت میں جو لکھا بھی نہیں
جہاں زاد میں نے حسن کوزہ گر نےبیاباں بیاباں یہ درد رسالت سہا ہے
پیار محبت لاگ لگاؤ کے بارے میں مت سوچورہا سہا جو بھرم بچا ہے یوں وہ بھی اٹھ جائے گا
برا سہی میں پہ نیت بری نہیں میریمرے گناہ بھی کار ثواب میں لکھنا
آپ کی راہ میں کیا کیا نہ سہا تھا ہم نےآپ نے پھر بھی وفادار نہیں مانا تھا
تم نے صرف بچھڑ جانے کا کرب سہا ہےپا کر کھو دینے کے دکھ سے ناواقف ہو
جہاں میں آئے نہ کوئی کمی محبت کیصدا لگاتا رہوں گا یوں ہی محبت کی
وہ کون سی جفا ہے کہ جو تم نے کی نہیںوہ کون سا ستم ہے جو میں نے سہا نہیں
کچھ اب ہی اس کی جورو و تعدی نہیں نئیہر عید میں ہمیں تو سدا یاس ہی رہی
سہا جاتا نہیں ہم سے غم ہجر مسلسلذرا سی دیر کو تیری رفاقت چاہئے ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books