aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chhal-kapaT"
میری ماں سیب کہ طرح سرخ اور میٹھی تھیگلاب کہ طرح کومل اور معطروہ خوشبو کا آکار تھیلگی لپٹی چھل کپٹ، جھوٹیہ لفظ اس نے سنے تو تھےآزمائے نہیں تھےدہرائے نہیں تھے
سانس لینے کے لئےقصر و کاشانہ ضروری تو نہیںکوئی ویرانہ کوئی دشت ہی کافی ہےجہاںآسماں اور زمیں روز گلے ملتے ہیںصبح دم باد صباشاخ در شاخ لٹاتی ہے نمیخوشبو پھیلاتی ہے آنچل اپناکھلکھلاتی ہوئی دوشیزہ کلی کے رخسارشوخ بھونرے کی نگاہوں سے شفق ہوتے ہیںمخملیں پاؤں تلےسبزۂ بالیدہ کوئیچھمچھماتی ہوئی بارش میں نہا جاتا ہےشامدرماندہ پرندوں کی پنہ گاہوں میںقمقمے کرمک شب تاب کے روشن کر کےشب کی آغوش میں سو جاتی ہےان گنت ہیروں کی ننھی کنیاںجگمگا اٹھتی ہیں تاروں کے حسیں ماتھوں پرچاند دودھ کٹورا لے کربوڑھی نانی کی کہانی میں سما جاتی ہےکوئی آواز نہ سازکوئی نغمہ نہ الاپنہ کوئی بحث نہ تمحیص نہ تکرار کوئینہ سیاست نہ خباثت نہ شماتت کوئیاختلافات سے دورسارے مفادات سے دورسب خرافات سے دورچھل کپٹ جھوٹ نہ دھوکا نہ فریبکوئی الجھن کوئی فتنہ نہ کوئی جھنجھلاہٹکوئی شکوہ نہ گلہفکر فردا نہ ہی اندیشۂ امروز کوئیایک انجان مسرت کی کرنان چھوئے خوابوں کی ٹھنڈی بوچھاراجنبی سی کسی خواہش کا خمارکسی بے نام سے احساس کا لمسعرصۂ جاں میں اتر جاتا ہےزندہ رہنے کا عملکتنا جاں بخش نظر آتا ہےسانس لینے کے لئےقصر و کاشانہ ضروری تو نہیںکوئی ویرانہکوئی دشت ہی کافی ہےمگردشتوہ دشتجسے دیکھ کے گھر یاد نہ آئے
بھوکی آنکھیں کل کو دیکھیںجھوٹی آس لگائےآنے والی کل کب آ کر آج کی بھوک مٹائےآنے والی کل پہ بھروسہکب آئے کیا لائےبیتی کلبیتی کل کے دیپ کی لو کب آج کی جوت جگائےمایا چھل کےچھایا ڈھل کےلوٹ کے پھر نہیں آئے
آ مرے اندر آپوتر مہران کے پانیٹھنڈے میٹھے مٹیالے پانیمٹیالے جیون رنگ جلدھو دے سارا کرودھ کپٹشہروں کی دشاؤں کا سب چھلیوں سینچ مجھے کر دے میری مٹی جل تھلترے تل کی کالی چکنی مٹی سےماتھے پر تلک لگاؤںہاتھ جوڑ ڈنڈوت کروںاو من کے بھید سے گہرےہولے ہولے سانس کھینچتےاوم سمان امراو مہان ساگرمیں اتری تیرے ٹھنڈے جل میں کمر کمرتیرے ٹھنڈے میٹھے مہربان پانی سے منہ دھو لوںاور دھو لوں آنسوکھارے آنسوتیرے میٹھے پانی سے دھو لوںاو مہان مٹیالے ساگر آسن مری کتھامیں بڑی ابھاگن بھاگ مرابے درد ہاتھ میں رہا سداٹوٹا مرا مٹی سے ناطہکیسے ٹوٹااک آندھی بڑی بھیانک لال چڑیلمجھے لے اڑیاٹھا کر پٹکا اس نے کہاں سے کہاں!تیرے چرنوں میں سیس جھکاتی ایک اکیلی جانمرے ساتھ مرا کوئی میت نہیںکوئی رنگ روپ' کوئی پریت نہیںمری ان گڑھ پھیکی مرجھاتی بولی میں کوئی سنگیت نہیںمری پیڑھیوں کے بیتے یگ میرے ساتھ نہیںبس اک نردئی دھرم ہےجس کا بھرم نہیںوہ دھرم جو کہتا ہے مٹی مری بیرن ہےجو مجھے سکھاتا ہے ساگر مرا دشمن ہےہاں' دور کہیںآکاش کی اونچائی سے پرےرہتا ہے خدااتنا روکھامٹی سے جوڑ نہیں جس کاسب ناطے پریت اور بیر کے اس کی کارن میں کیسے جوڑوںمیں مٹی مرا جنم مٹیمیں مٹی کو کیسے چھوڑوںاو مٹیالے بلوان مہا ساگرمیں اکھڑی دھرتی سےبھگوان مرا رس سوکھ گیاپھر بھی سنتی ہوں اپنے لہو میں بیتے سمے کی نرم دھمکوہ سمے جو میرے جنم سے پہلے بیت گیامرے کانوں میںاک شور ہے جھرجھر بہتے ندی نالوں کااور کوئی مہک بڑی بے کل ہےجو گونج بنی مری چھاتی سے ٹکراتی ہےاو مہان ساگرجیونःرس دےاپنے تل میں جل پودا بن کر جڑ لینے دےسدا جیےاو مہان ساگر سندھوتو سدا جیےاور جئیں ترے پانی میں پھسلتی مچھلیاںشانت سکھی یوں ہیترے پانی میں ناؤ کھیتےترے بالک سدا جئیںاو پالن ہار ہمارےدھرتی کے رکھوالےان داتاتری دھرتینرم رتیلی مہربان سندھ کی دھرتیسدا جیے
پھر آ گیا ہے ملک میں قربانیوں کا مالکی اختیار قیمتوں نے راکٹوں کی چالقامت میں بکرا اونٹ کی قیمت کا ہم خیالدل بیٹھتا ہے اٹھتے ہی قربانی کا سوالقیمت نے آدمی ہی کو بکرا بنا دیابکرے کو مثل ناقۂ لیلیٰ بنا دیا
جنوری کی سردی میںیار شب نوردی میںمیرے گھر چلے آئےمیں نے بھی کمینوں کیمختلف نمونوں کیایسی میزبانی کیکرسی ورسی لگوائیچائے شائع منگوائیآگ تھوڑی دہکائیآگ کے دہکنے سےگفتگو بھی گرمائیگفتگو بھی چائے کیگفتگو الاؤ کیاور پھر الاؤ سےاک بدن کی یاد آئیمیں نے ذکر چھیڑا پھرحشر کا قیامت کااس بدن کی قامت کااس بدن کی رنگت کایارو کیسے بتلاؤںاس بدن کے زیر و بمجسم پہ اگا ریشمناف میں رکی شبنمیار وہ بدن جس دمبازووں میں آتا تھاکیا ستم نہ ڈھاتا تھاآگ ہی لگاتا تھاہائے وہ رہا جب تکہم نے ہجر والوں کیراگنی نہیں گائیسردیاں نہیں آئیںسردیوں سے یاد آیالکڑیوں کے شعلے سبماند پڑ گئے لیکنیار میرے جل اٹھےسب کے سب مچل اٹھے
زمانہ تیز دھار ہےجو چل گیا سو پار ہےاسی سے کوئی سیکھ لےاور اپنا کند تیکھ لےنہیں تو کٹوہ عشق کیا ہے دوستاجو غم نہیں پروستایہ ذائقہ تو چکھ ذرازباں پہ اس کو رکھ ذرامزہ تو لےبدن پہ جو لباس ہےدھنی ہوئی کپاس ہےتو یہ فنا میں ہے بقاکہ اس کا نام ہے قضا
شخصیتہاتھوں میں کانپیہونٹ ناری بن گئےآسماں ٹوٹازمیں پگھلیبدن کی چاندنیصوفے پہ اوندھی گر پڑیاک کرن جانے کہاں سےروشنی کی نہر میں آ کر گریدیوتا قامت بدنتحلیل ہو کر جام میںان گنت رتیلے خوابوں کا خدا بن ہی گیااور شہر سنگ میںپھر موم کا جادو چلاچاقو چلا
چپ چاپ رہوورنہ خاموشی کی چادرچاک ہو جائے گیممکن ہے اس کی یہ پاکی بھیپاکی نہ رہ جائےاور یہیں پھر دن کے ڈھلنے پراحساس گنہ بڑھ جائےپاکی، پاکی نہ رہ جائےاور یہیں یہ خاموشی کی چادراوڑھ نہ پائےکوڑھ من کا وہ بن جائےبہتر ہے چپ چاپ رہواس خاموشی کی چادر کوگرد انا سے دور رکھوخود کو دنیا سے دور رکھودنیا خود بن جاؤاپنے اندر تہہ در تہہ باطن میںایک جہاں آباد کرواخلاق و صداقتصبر و قناعتعبد و ریاضتسمتیں بن جائیںارض و سما بن جائیںخود کو خود میں تحلیل کرواپنی پھر تکمیل کرو
ذات کا آئینہ خانہجس میں روشن اک چراغ آرزوچار سوزعفرانی روشنی کے دائرے
اندھیرا ڈانٹ کر بولاسنو سورج کی اے ننھی کرناب گھر چلی جاؤتمہاری راجدھانی پرحکومت اب مری ہوگیکرن نے مسکرا کردیو قامت اور پر ہیبتاندھیرے پر نظر ڈالیتحمل سے یقیں اور حوصلے کوبھر کے اپنے نرم لہجے میں کہادیکھو چلی تو جاؤں گی لیکنہر اک دل میں رہوں گیاک نئی امید کی صورتہر اک گھر میں ملوں گیتم سے لڑتا اک دیا بن کرستاروں سے کبھی چھلکوں گیان کی روشنی بن کرکبھی میں چاند سے نکلوں گیاس کی چاندنی بن کرسنومیں جا کے بھی موجود ہوں گیاور تمموجود ہو کر بھی نہیں ہو گے
آلی آئی بسنت بہاررنگ رنگ کے پھول کھلے ہیںمسکاتے کلیوں سے ملے ہیںپریم کی مدرا پی پاگل ہوبھنور کریں گنجارآلی آئی بسنت بہار
آسمان کے سینے میں غم چرخا کات رہا ہےسنگ میلپہروں چلتا ہے اور ساکت ہےرات مجھ سے پہلے جاگ گئی ہےلباس پر پڑے ہوئے دھبےمیرے بچوں کے دکھ تھے
دیکھنے کی تو کسے تاب ہے لیکن اب تکجب بھی اس راہ سے گزرو تو کسی دکھ کی کسکٹوکتی ہے کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھیاور اس صحن میں ہرسو یونہی پہلے کی طرحفرش نومیدیٔ دیدار بچھا ہے اب بھیاور کہیں یاد کسی دل زدہ بچے کی طرحہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھی ہے فریاد کناں
اے چاند مجھے اتنا تو بتاتو نے بھی پریم کیا تھا کیاان سونی لمبی راتوں میں کس کی راہ تکتا رہتا ہےمن تیرا گھائل ہے اس کی پیڑا چپ چاپ تو سہتا ہےکیا کارن ہے نہیں کہتا ہےتاروں نے اشاروں سے جو کہاتو نے بھی پریم کیا تھا کیااے چاند مجھے اتنا تو بتادل کی دھڑکن کی گاتھا میں من کی تڑپن کے افسانےیہ پاپی دنیا کیا سمجھے یہ جگ ہتیارا کیا جانےمیں تو دونوں ہیں دیوانےکچھ میری سن کچھ اپنی سناتو نے بھی پریم کیا تھا کیااے چاند مجھے اتنا تو بتاجب تیری رو پہلی نگری میں کھلتی ہے سنہری پھلواریایسے کسی دودھ کی گنگا میں جیوں دیپ ترنگیں ہوں جاریآکاش کمل باری باریکہتے ہیں کس کی برہ کتھاتو نے بھی پریم کیا تھا کیااے چاند مجھے اتنا تو بتاسن کسی دیوگی ہردے کی جوالا ایسے بجھ سکتی ہےنینوں کے جل سے آہوں سے یہ اور بھڑکنے لگتی ہےوہ کون ہے کس میں شکتی ہےجل سکے نہ دے جو اسے جلاتو نے بھی پریم کیا تھا کیااے چاند مجھے اتنا تو بتاتیری اجلی سی بستی میں بھی شاید ایسا ہوتا ہےتب کپٹ بھرے من ہنستے ہیں جب پریمی چپکے روتا ہےکس لئے نہیں تو سوتا ہےسب جان لیا تو لاکھ چھپاتو نے بھی پریم کیا تھا کیااے چاند مجھے اتنا تو بتا
یہ آنکھیں بالکل ویسی ہیںجیسی مرے خواب میں آتی تھیںپیشانی تھوڑی ہٹ کر ہےپر ہونٹوں پر مسکان کی بنتی مٹتی لہریں ویسی ہیںآواز کا زیر و بم بھی بالکل ویسا ہےاور ہاتھ جنہیں میں خواب میں بھیچھونا چاہوں تو کانپ اٹھوںیہ ہاتھ بھی بالکل ویسے ہیںیہ چہرہ بالکل ویسا ہےپر اس پر چھائی خاموشی کچھ ان دیکھیاور اس چہرے پر شام ذرا سی گہری ہےان شانوں کا پھیلاؤ تھوڑا کم ہےلیکن قامت بالکل ویسی ہےاور تم سے مل کر میرے دل کی حالت بالکل ویسی ہے
شہسوارننھا منا شہسوارایستادہ ہےخمیدہ پشت پر میریجوں ہی جھکتا ہوںوہ ترغیب دیتا ہےمجھے چلنے کیآوازوں کی سرگم سےمیں چلتا ہوںمیں واماندہ قدم چلتا ہوںوہ مہمیز کی جنبش سے کہتا ہے کہ دوڑواور دوڑو، تیز تر، سرپٹ چلوباد نغمہ کار سے باتیں کرواس کا میں رخش رضاتیز تر کرتا ہوں رفتار خراممجھ کو پہنچانا ہے آجاس کو رنگوں تتلیوں کے دیس میںجادو نگر میںمیرے سائے کا بھی اب شاید جہاںمنتظر کوئی نہیںمنتظر ہیں اس کے لیکن، میرے ننھے دوست کےدیو قامت سبز وارفتہ وقاردور تک سرگوشیاں کرتے ہوئے اشجاررقص برگ و بارجا رہا ہے خواب کی رفتار سےدیوانہ وارمیرا ننھا شہسوار
ہر طرف کترنیں ہیںوہ گڑیا یہیں تھی مگر اب دکھائی نہیں دے رہیاور یہ دھاگے، یقیناً وہ گیسو ہیں جن کے لیے میری راتیں کٹیںروئی دھنکی ہوئی ہےکہیں خون کا کوئی دھبہ نہیںاک طرف اس کی پوشاک ادھڑی پڑی ہےادھر اس کی آنکھیں، کٹے ابروؤں سے الگ،خوف و دہشت میں لتھڑی ہوئیہر طرف کترنیں ہیںبدن ریشہ ریشہ ہےنیچے کا دھڑ چیل کوے اٹھا لے گئےلبوں کا لہو جم گیا ہے(لہو، جو یقیناً کسی اور کا ہے)گلے پر کسی گرگ کے دانت کھینچے ہوئے ہیںوہ گڑیا نہیں ہے مگر ہر طرف کترنیں ہیںمیں آئندہ گڑیا کی خاطر کپاس اور دھاگے نہیں لاؤں گاکترنیں لے کے اپنی کسی اور جانب نکل جاؤں گا
اک مدت سے اک کوزہ گرگھومتے چاک پرخواہشوں آرزؤں کی اکمورتی سی بناتا رہااس کا فناس کی شہرت کا باعث بنااس کو عزت ملی اور دولت ملیچین سے ہو رہی تھی بسر زندگیپھر اچانک عجب سی اک آواز دل میں اٹھیاور اٹھلا کے بولیسنو اے کوزہ گرخوبصورت بہت ہیں تمہارے صنمپر یہ قامت میں تم سے ہیں کمتر بہتاپنے فن کی انا کے تکبر کو اوڑھے ہوئےکوزہ گر نے یہ خود سے کہاایک ایسی بھی مورت کی تخلیق ہوجو اجاگر کرے قدر و قیمت مریجس کا قد اور آکار میرے برابر کا ہوتب گڑھی اس نے مورت پہ مورت نئیان کا آکار بڑھتا گیاپھر یہاں تک بڑھااس کی سب مورتیںاس کے قد سے بڑی ہو گئیںچاک چھوٹا تھا اور ہاتھ بھی اس کے اپنے پرانے ہی تھےپھر ہوا یہ کہ وہ آخری مورتیایک تودے سے یوں ٹوٹ کر گر پڑیچاک اور کوزہ گرڈھیر میں دب گئے
وقت کی آستینوں میں پلتے ہوئے قہقہےجھاڑ دواپنے لب گاڑ دوآئنوں میں بکھرتی ہوئیاپنی بے چہرگی کے ٹہلتے ہوئے سائے پرمسکراہٹ اجالو نئی صبح تعمیر کرنے کا چارہ کرواستخارہ کروساری افسردگی اور سراسیمگیسنسناتے ہوئےاپنی قامت سے گھٹ کر کئیمنہدم دائروں میں بدل جائے گییہ جو حالات کی دشت آنکھوں سے ہم پر لپکتی ہوئیلو ہے کٹ جائے گیپیاس چھٹ جائے گیبے اماں موسموں کے بدن پر چہکتے ہوئے سلسلےکرب آلود لہجے بھی کھل جائیں گےحوصلے گائیں گےوقت کے زرد ماتھے پہ بل آئے گاناامیدی کا ہر ایک امکان جل جائے گاروشنی کا شجراپنی شاخوں کو پھیلائے گاآسماں اپنے دامن سے پنہاں گہرسب پہ برسائے گازیست کو نوری خوشبو سے مہکائے گامسکراہٹ اجالو نئی صبح تعمیر کرنے کا چارہ کرواشک تارا کرو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books