aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kachehrii"
مویشی ہو گئے نیلام کیوں یہ کوئی کیا جانےکچہری جانے ساہوکار جانے یا خدا جانے
ملے کچہری میں اک روز شیخ خیراتیہے اک زمانے سے ان کی مری علیک سلیکنہیں ہے جھوٹی گواہی سے اجتناب انہیںکیا نہ آج تک اس پر مگر کسی نے اٹیکعلاوہ اس کے امیروں کے ہیں یہ سپلائرکہ مال کرتے ہیں یہ ان کی حسب منشا پیکہو جس میں فائدہ وہ کام کر گزرتے ہیںکبھی فرنٹ میں جا کر نہیں ہیں ہوتے بیکحجاز جاتے ہیں ہر سال سونا لانے کویہ بزنس آج تک ان کی کبھی ہوئی نہ سلیکیہ حج کے دن بھی ہیں لبیک کے عوض کہتےخدا کے گھر میں فقط ربنا بلیک بلیک
دیکھوں جو آسماں سے تو اتنی بڑی زمیںاتنی بڑی زمین پہ چھوٹا سا ایک شہرچھوٹے سے ایک شہر میں سڑکوں کا ایک جالسڑکوں کے جال میں چھپی ویران سی گلیویراں گلی کے موڑ پہ تنہا سا اک شجرتنہا شجر کے سائے میں چھوٹا سا اک مکانچھوٹے سے اک مکان میں کچی زمیں کا صحنکچی زمیں کے صحن میں کھلتا ہوا گلابکھلتے ہوئے گلاب میں مہکا ہوا بدنمہکے ہوئے بدن میں سمندر سا ایک دلاس دل کی وسعتوں میں کہیں کھو گیا ہوں میںیوں ہے کہ اس زمیں سے بڑا ہو گیا ہوں میں
چلو چھوڑومحبت جھوٹ ہےعہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کاطلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہےخلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہےخمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش!غبار ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہچلو چھوڑوکہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہچاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گامجھے احساس ہی کب تھاکہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گیچلو چھوڑووہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھےوہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گےتمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکنتمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیںچلو چھوڑوسفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سےچلو چھوڑومرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہےتم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دوتم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دومرے خوابوں کو مرنے دونئی تصویر دیکھوپھر نیا مکتوب لکھوپھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑومرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھومری یادوں سے کچے رابطے توڑوچلو چھوڑومحبت جھوٹ ہےعہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سےتجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرےذرا سی چیز ہے اس پر غرور! کیا کہنا!یہ عقل اور یہ سمجھ یہ شعور! کیا کہنا!خدا کی شان ہے نا چیز چیز بن بیٹھیں!جو بے شعور ہوں یوں با تمیز بن بیٹھیں!تری بساط ہے کیا میری شان کے آگےزمیں ہے پست مری آن بان کے آگےجو بات مجھ میں ہے تجھ کو وہ ہے نصیب کہاںبھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں!کہا یہ سن کے گلہری نے منہ سنبھال ذرایہ کچی باتیں ہیں دل سے انہیں نکال ذرا!جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا!نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹاہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہےکوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اس کی حکمت ہےبڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نےمجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نےقدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میںنری بڑائی ہے! خوبی ہے اور کیا تجھ میںجو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کویہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کونہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میںکوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاںنرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئیبات بے بات ہنستی ہوئیاپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیںجو خاموش تھیںان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھیان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا!آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے!دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچیہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبرریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھیاور میں سوچتی تھیخدایا! یہ ہم لڑکیاںکچی عمروں سے ہی خواب کیوں دیکھنا چاہتی ہیںخواب کی حکمرانی میں کتنا تسلسل رہا ہے!
سارا دن میں خون میں لت پت رہتا ہوںسارے دن میں سوکھ سوکھ کے کالا پڑ جاتا ہے خونپپڑی سی جم جاتی ہےکھرچ کھرچ کے ناخونوں سےچمڑی چھلنے لگتی ہےناک میں خون کی کچی بواور کپڑوں پر کچھ کالے کالے چکتے سے رہ جاتے ہیں
چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہٹھونسا ہے جس میںکاغذ کا دستہلکڑی کا گھوڑاروئی کا بھالوچورن کی شیشیآلو کچالوبلو کا بستہجن کی پٹاریجب اس کو دیکھوپہلے سے بھاریلٹو بھی اس میںرسی بھی اس میںڈنڈا بھی اس میںگلی بھی اس میںاے پیاری بلویہ تو بتاؤکیا کام کرنےاسکول جاؤاردو نہ جانوانگلش نہ جانوکہتی ہو خود کوبلقیس بانوعمر کی اتنیکچی نہیں ہوچھ سال کی ہوبچی نہیں ہوباہر نکالولکڑی کا گھوڑایہ لٹو رسییہ گلی ڈنڈاگڑیا کے جوتےجمپر جرابیںبستے میں رکھواپنی کتابیںمنہ نہ بناؤاسکول جاؤاے پیاری بلواے پیاری بلو
نیند سے اب بھی دور ہیں آنکھیں گو کہ رہیں شب بھر بے خوابیادوں کے بے معنی دفتر خوابوں کے افسردہ شہابسب کے سب خاموش زباں سے کہتے ہیں اے خانہ خرابگزری بات صدی یا پل ہو گزری بات ہے نقش بر آبمستقبل کی سوچ، اٹھا یہ ماضی کی پارینہ کتابمنزل ہے یہ ہوش و خبر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم نے کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
اے پوچھنے والے پردیسییہ طفل و جواںاس نور کے نو رس موتی ہیںاس آگ کی کچی کلیاں ہیںجس میٹھے نور اور کڑوی آگسے ظلم کی اندھی رات میں پھوٹاصبح بغاوت کا گلشناور صبح ہوئی من من، تن تن،ان جسموں کا چاندی سوناان چہروں کے نیلم، مرجاں،جگ مگ جگ مگ، رخشاں رخشاںجو دیکھنا چاہے پردیسیپاس آئے دیکھے جی بھر کریہ زیست کی رانی کا جھومریہ امن کی دیوی کا کنگن!
میں اکثر سوچتا ہوںذہن کی تاریک گلیوں میںدہکتا اور پگھلتادھیرے دھیرے آگے بڑھتاغم کا یہ لاوااگر چاہوںتو رک سکتا ہےمیرے دل کی کچی کھال پر رکھا یہ انگارااگر چاہوںتو بجھ سکتا ہےلیکنپھر خیال آتا ہےمیرے سارے رشتوں میںپڑی ساری دراڑوں سےگزر کے آنے والی برف سے ٹھنڈی ہوااور میری ہر پہچان پر سردی کا یہ موسمکہیں ایسا نہ ہواس جسم کو اس روح کو ہی منجمد کر دےمیں اکثر سوچتا ہوںذہن کی تاریک گلیوں میںدہکتا اور پگھلتادھیرے دھیرے آگے بڑھتاغم کا یہ لاوااذیت ہےمگر پھر بھی غنیمت ہےاسی سے روح میں گرمیبدن میں یہ حرارت ہےیہ غم میری ضرورت ہےمیں اپنے غم سے زندہ ہوں
دن ڈھلتا ہےاس بستی میں رہنے والےاوروں کی جنت کو اپنی محنت دے کراپنے جہنم کی جانباب تھکے ہوئےجھنجھلائے ہوئے سےلوٹ رہے ہیںایک گلی میںزنگ لگے پیپے رکھے ہیںکچی دارو مہک رہی ہے
کبھی کبھی یہ سوچتی ہوںآخر میں ٹیچر کیوں ہوںکچھ اور نہ کر سکیکیا اس لیے میں ٹیچر ہوںجواب یہی بس آتا ہےسب کچھ کر سکتی ہوںشاید اسی لیے میں ٹیچر ہوںننھے منے بچوں میںمیں اپنا بچپن دیکھتی ہوںکسی میں سر سیدؔکسی میں کلامؔ دیکھتی ہوںکبھی کبھی یہ سوچتی ہوںکہ مجھے صرف کتابوں کےنصاب ہی پڑھانے ہیںیا کہ ان کے ذہن کی کوری تختی پرکچھ اور لکھنا ہےبچے تو کچی مٹی کے لوندے ہیںانہیں مجھے ہی سنوارنا سجانا ہےاور انسانیت کے سانچے میں ڈھال کرایک بہتر انسان بنانا ہےاگر میں یہ سب کچھ کر سکی توکامیاب ہے میرا مقصدمیرا کام سے محبتخدا کی خاص رحمتکبھی کبھی سوچتی ہوںمجھے ہی تو بنانی ہےان نونہالوں کی شخصیتجو آج کمزور پودے ہیںکل سایہ دار درخت ہوں گےیہی قوم و ملت کے بخت ہوں گےشاید اسی لیے میں ٹیچر ہوں
بارش آتی ہے تو نالے بھر دیتی ہےکھیلنے کے میدان میں کیچڑ کر دیتی ہےاس بار کچہری میں اس بات کی نالش ہوگیبارش بارش بارش ہوگی
میری تخئیل کی جھنکار کو ساکت پا کر!چوڑیاں تیری کلائی میں کھنک اٹھتی تھیںاف مری تشنہ لبی تشنہ لبی تشنہ لبی!کچی کلیاں ترے ہونٹوں کی مہک اٹھتی تھیں
الفاظوں کا ایک خزانہ میرے پاساور خوابوں کی ایک پٹاری تیرے پاسمیں تیرے خوابوں کا کوئی نام دھروںتم میرے لفظوں میںخواب پرو دیناتاکہ ہم اس لین دین میںبھول سکیںتنہائی میں چپکے چپکے رو دینامیں نے تیرے ایک خواب کو بچپن لکھاجس میں تم نے خود کوبڑھیا پایا تھااور کوئی تم سے بھی اک دوسال بڑاچند بتاشے تیری خاطر لایا تھامیں نے ایک خواب کو لکھا جوانیجس میں تم اک تین سال کی بچی تھیجسم ذہن سے کچی تھیسچی تھیٹھیٹھ جھوٹ کی جیٹھ جھوٹ کیشکھر دوپہریجسم ذہن کو دنیا پختہ کرتی ہےپتا ہے مجھ کو نیند میں تیریاب تک میلوںننھی بچی ٹھمک ٹھمک کر چلتی ہےپھر آتا ہے ایک مہینہ نظموں کاناک کان کو بیدھنے والیرسموں کااور بڑھاپا یہاں سے شروعنہیں ہوتا
یہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کواشارہ کرتا ہے ٹھوڑی پکڑ کر اور کہتا ہےوہ دیکھو گاؤں کے سینے پہ سر رکھے ہوئے سرسوںتمہاری کمسنی کھیلی ہے جس کی گود میں برسوںنقوش پا سے اب تک ہر گلی کی مانگ روشن ہےابھی تک گود پھیلائے ہوئے ڈیرے کا آنگن ہےرسیلی جامنوں کے پیڑ کی کمزور شاخوں نےتمہاری انگلیوں کا ہر نشاں محفوظ رکھا ہےلبوں پر جھیل کی گہرائیوں کے ہے بس اک شکوہکہ جب سے تم گئے ہو کوئی بھی ہم تک نہیں پہنچاکنارے جھیل کے وہ پیڑ اب تک منتظر سا ہےکب آؤ گے یہاں کپڑے اترو گے نہاؤ گےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کواشارہ کرتا ہے ٹھوڑی پکڑ کر اور کہتا ہےوہ دیکھو گاؤں کے کھلیانوں میں سویا ہوا جادونشیلی رات کی رانی وہ لو دیتی ہوئی خوشبودیوں کا دھیمی دھیمی روشنی دینا دھواں دیناشکستہ جھونپڑوں کا زندگی کو لوریاں دیناکھنکتی ہیں رسوئی گھر میں الھڑ چوڑیاں اب تکبھرا کی پولیاں لاتی ہیں سر پر بوڑھیاں اب تککے کنارے کچی اینٹوں سے بنا مندرسلگتے کنڈوں سے اٹھتی دھوئیں کی ملگجی چادرہرے کھیتوں کی مینڈوں پر سلگتے جسم کے سائےلرزتے ہونٹھ گھبرائی ہوئی سانسوں کے افسانےلچکتی آم کی شاخوں پہ بل کھائے ہوئے جھولےکسی کا بھاگنا یہ کہہ کے کوئی ہے ہمیں چھو لےیہ دیکھو زندگی کتنی حسیں ہے کتنی بھولی ہےاسی آغوش میں آ جاؤ جس میں آنکھ کھولی ہےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ کہتا ہے کہ میں گزری ہوئی باتوں میں کھو جاؤںتمہاری زلف سے مہکی ہوئی راتوں میں کھو جاؤںاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ اب یہ سانس کا ڈورااک ایسی دھار کی تلوار ہے جس پر گزرنا ہےمجھے اور زندگی کے زخم کو ٹانکے لگانا ہیںاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ یہ ماضی کی تصویریںاب اک ایسی امانت ہیں جسے میں رکھ نہیں سکتہاگر رکھوں تو ناکارہ نکما کہہ کے یہ دنیامجھے ٹھوکر لگا دے اور خود آگے کو بڑھ جائےمری پس ماندگی پر ہر نذر اٹھے ترس کھائےمجھے مردہ عجائب گھر کی ایسی مورتی سمجھےجو سب کو اس لیے پیاری ہے کہ کافی پرانی ہےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ یہ ماضی کی تصویریںاب اک ایسی امانت ہیں جسے میں رکھ نہیں سکتہ
وہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیںوہ مر چکا ہےوہ مر چکا ہےکہ جس کی خاطر نگر کی نو عمر لڑکیوں نےبدن کی خوش رنگ زینتوں کوچھپا کے رکھاجنہوں نے بیتاب حدتوں کوبدن کی پھٹ پڑتی شدتوں کوسنبھالے رکھاجنہوں نے آنکھوں کے نم کو شرم و حیا کے آنچل کی اوٹ ڈھانپاوہ مر چکا ہےوہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںبدل کے وہ بھیس بادلوں کاہمارے تازہ کنوارے جسموں کی سوندھی مٹی سے آ کے لپٹےہمارا خون بوند بوندگوندھےہم اس کے سائے سے حاملہ ہوںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںکبھی وہ گونجے گجر کی صورتہمارے سنسان گنبدوں میںکبھی وہ بھڑکے الاؤ بن کرہمارے تا یک طاقچوں میںکبھی وہ جسموں کی بنسیوں میںشگاف ڈالےلذیذ دردیلا گیت بن کرلبوں سے نکلےکبھی وہ چمکے ستارہ بن کرہماری کوکھوں میں پھول مہکیںہماری کوکھوں میں پھل جنم لےنگر کی سب لڑکیاں پکاریںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںہماری خواہش وہ دودھ بن کرہماری زرخیز چھاتیوں کی نمی میں اترےہماری خواہش ہمارے بچےاسی کے ہاتھوں میں آنکھ کھولیںہم اس کے سائے سے حاملہ ہوںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںکبھی وہ پچھلے پہر دریچوں پہ کھلتے مہتاب سے یہ کہتیںکہاں ہے وہ شہسوار جس کوبوقت رخصت گلے میں ہم نےسفید پھولوں کے ہار ڈالےوہ پھول کب سرخ پھول بن کرہماری ویران خواب گاہوں کی سیج ہوں گےسیندور کب کب میں میں گایہ پھول کب سرخ پھول ہوں گےکبھی وہ تنہا بر آمدے کے ستون سے لپٹیلچکتی بیلوں کے زرد پتوں سے پوچھتیں یہبہار کی رت کہاں کھڑی ہےیہ پھول اب کس سے کھلیں گےبہار کی رت ابھی کہاں ہےہر اک مسافر کو روکتیں وہبتاؤ وہ شہسوار اب کبنگر کو لوٹے گا پوچھتیں وہکنوارے لمحوں کا بھید کنوارہکنوارے گیتوں کی لے کنواریکنوارے جسموں کی کچی کلیوں کا نم کنوارہنگر کی تمام نو عمر لڑکیوں نےکلی کلی کو سنبھالے رکھاکہ وہ اگر آئے اوس بن کرتو قطرہ قطرہ کلی میں اترےکلی کو کھولےمگر وہ لفظوں کے دائروں کے سفر سے گزراپرانی سنسان سیڑھیوں کے بھنور سے نکلاجو گھر سے باہر ہزار انجانے راستوں پر بکھر گیا تھاکہ بجھتے سورج کا کھوج پائےہر ایک سائے کا بھید کھولےجو اپنی آنکھوں میں خواہشوں کا الاؤ لے کراندھیرے جنگل میں چل رہا تھاجو پوچھتا تھاگیان کیا ہےجو پوچھتا تھا نجات کس میں ہےاصل کیا ہےوہ مر چکا ہےوہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیں
بظاہر تو ہمارے درمیاںماحول نے اک بے ضرورت حد فاصل کھینچ رکھی تھیمگر پھر بھی نہ جانے کیا کشش تھیکھڑکیوں کے اس طرف سے جھلملاتیماروی کی کالی آنکھوں میںنہ جانے کون سا جادو تھا ان ظالم دوپہروں میںجو کچی نیند سوتا چھوڑ کر ماں کو دبے قدموںمیں آ چھپتی تھی پیڑوں میں
رخسار پہ موج رنگینیکچی چاندی سچی چینیآنکھوں میں نقوش خود بینیمکھڑے پہ سحر کی شیرینییہ کون اٹھا ہے شرماتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books