aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mayyat"
اردو کا غم مرگ سبک بھی ہے گراں بھیہے شامل ارباب عزا شاہ جہاں بھیمٹنے کو ہے اسلاف کی عظمت کا نشاں بھییہ میت غم دہلی مرحوم سے نکلےاردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
دیر سے ایک ناسمجھ بچہاک کھلونے کے ٹوٹ جانے پراس طرح سے اداس بیٹھا ہےجیسے میت قریب رکھی ہواور مرنے کے بعد ہر ہر باتمرنے والے کی یاد آتی ہوجانے کیا کیا ذرا توقف سےسوچ لیتا ہے اور روتا ہےلیکن اتنی خبر کہاں اس کوزندگی کے عجیب ہاتھوں میںیہ بھی مٹی کا اک کھلونا ہے
یہ اندھیری رات یہ ساری فضا سوئی ہوئیپتی پتی منظر خاموش میں کھوئی ہوئیموجزن ہے بحر ظلمت تیرگی کا جوش ہےشام ہی سے آج قندیل فلک خاموش ہےچند تارے ہیں بھی تو بے نور پتھرائے ہوئےجیسے باسی ہار میں ہوں پھول کمہلائے ہوئےکھپ گیا ہے یوں گھٹا میں چاندنی کا صاف رنگجس طرح مایوسیوں میں دب کے رہ جائے امنگامڈی ہے کالی گھٹا دنیا ڈبونے کے لئےیا چلی ہے بال کھولے رانڈ رونے کے لئےجتنی ہے گنجان بستی اتنی ہی ویران ہےہر گلی خاموش ہے ہر راستہ سنسان ہےاک مکاں سے بھی مکیں کی کچھ خبر ملتی نہیںچلمنیں اٹھتی نہیں زنجیر در ہلتی نہیںسو رہے ہیں مست و بے خود گھر کے کل پیر و جواںہو گئی ہیں بند حسن و عشق میں سرگوشیاںہاں مگر اک سمت اک گوشے میں کوئی نوحہ گرلے رہی ہے کروٹوں پر کروٹیں دل تھام کردل سنبھلتا ہی نہیں ہے سینۂ صد چاک میںپھول سا چہرہ اٹا ہے بیوگی کی خاک میںاڑ چلی ہے رنگ رخ بن کر حیات مستعارہو رہا ہے قلب مردہ میں جوانی کا فشارحسرتیں دم توڑتی ہیں یاس کی آغوش میںسیکڑوں شکوے مچلتے ہیں لب خاموش میںعمر آمادہ نہیں مردہ پرستی کے لئےبار ہے یہ زندہ میت دوش ہستی کے لئےچاہتی ہے لاکھ قابو دل پہ پاتی ہی نہیںہائے رے ظالم جوانی بس میں آتی ہی نہیںتھرتھرا کر گرتی ہے جب سونے بستر پر نظرلے کے اک کروٹ پٹک دیتی ہے وہ تکیہ پہ سرجب کھنک اٹھتی ہیں سوتی لڑکیوں کی چوڑیاںآہ بن کر اٹھنے لگتا ہے کلیجہ سے دھواںہو گئی بیوہ کی خاطر نیند بھی جیسے حراممختصر سا عہد وصلت دے گیا سوز دوامدوپہر کی چھاؤں دور شادمانی ہو گیاپیاس بھی بجھنے نہ پائی ختم پانی ہو گیالے رہی ہے کروٹوں پر کروٹیں با اضطرارآگ میں پارہ ہے یا بستر پہ جسم بے قرارپڑ گئی اک آہ کر کے رو کے اٹھ بیٹھی کبھیانگلیوں میں لے کے زلف خم بہ خم اینٹھی کبھیآ کے ہونٹوں پر کبھی مایوس آہیں تھم گئیںاور کبھی سونی کلائی پر نگاہیں جم گئیںاتنی دنیا میں کہیں اپنی جگہ پاتی نہیںیاس اس حد کی کہ شوہر کی بھی یاد آتی نہیںآ رہے ہیں یاد پیہم ساس نندوں کے سلوکپھٹ رہا ہے غم سے سینہ اٹھ رہی ہے دل میں ہوکاپنی ماں بہنوں کا بھی آنکھیں چرانا یاد ہےایسی دنیا میں کسی کا چھوڑ جانا یاد ہےباغباں تو قبر میں ہے کون اب دیکھے بہارخود اسی کو تیر اس کے کرنے والے ہیں شکارجب نظر آتا نہیں دیتا کوئی بیکس کا ساتھزہر کی شیشی کی جانب خودبخود بڑھتا ہے ہاتھدل تڑپ کر کہہ رہا ہے جلد اس دنیا کو چھوڑچوڑیاں توڑیں تو پھر زنجیر ہستی کو بھی توڑدم اگر نکلا تو کھوئی زندگی مل جائے گییہ نہیں تو خیر تنہا قبر ہی مل جائے گیواں تجھے ذلت کی نظروں سے نہ دیکھے گا کوئیچاہے ہنسنا چاہے رونا پھر نہ روکے گا کوئیواں سب اہل درد ہیں سب صاحب انصاف ہیںرہبر آگے جا چکا راہیں بھی تیری صاف ہیںدل انہیں باتوں میں الجھا تھا کہ دم گھبرا گیاہاتھ لے کر زہر کی شیشی لبوں تک آ گیاتلملاتی آنکھ جھپکاتی جھجکتی ہانپتیپی گئی کل زہر آخر تھرتھراتی کانپتیموت نے جھٹکا دیا کل عضو ڈھیلے ہو گئےسانس اکھڑی، نبض ڈوبی، ہونٹ نیلے ہو گئےآنکھ جھپکی اشک ٹپکا ہچکی آئی کھو گئیموت کی آغوش میں اک آہ بھر کر سو گئیاور کر اک آہ سلگے ہند کی رسموں کا داماے جوانا مرگ بیوہ تجھ پہ کیفیؔ کا سلام
سالہا سال یہ بے آسرا جکڑے ہوئے ہاتھرات کے سخت و سیہ سینے میں پیوست رہےجس طرح تنکا سمندر سے ہو سرگرم ستیزجس طرح تیتری کہسار پہ یلغار کرےاور اب رات کے سنگین و سیہ سینے میںاتنے گھاؤ ہیں کہ جس سمت نظر جاتی ہےجا بجا نور نے اک جال سا بن رکھا ہےدور سے صبح کی دھڑکن کی صدا آتی ہےتیرا سرمایہ تری آس یہی ہاتھ تو ہیںاور کچھ بھی تو نہیں پاس یہی ہاتھ تو ہیںتجھ کو منظور نہیں غلبۂ ظلمت لیکنتجھ کو منظور ہے یہ ہاتھ قلم ہو جائیںاور مشرق کی کمیں گہ میں دھڑکتا ہوا دنرات کی آہنی میت کے تلے دب جائے!
برگد کے نیچے بیٹھو یا سولی چڑھ جاؤبھینسے لڑنے سے باز نہیں آئیں گےموت سے ہم نے ایک تعاون کر رکھا ہےسڑکوں پر سے ہر لمحہ اک میت جاتی ہےپس منظر میں کیا ہوتا ہے نظر کہاں جاتی ہےسامنے جو کچھ ہے رنگوں آوازوں چہروں کا میلا ہے!
مجھے جمال بدن کا ہے اعتراف مگرمیں کیا کروں کہ ورائے بدن بھی دیکھتا ہوںیہ کائنات فقط ایک رخ نہیں رکھتیچمن بھی دیکھتا ہوں اور بن بھی دیکھتا ہوںمری نظر میں ہیں جب حسن کے تمام اندازمیں فن بھی دیکھتا ہوں فکر و فن بھی دیکھتا ہوںنکل گیا ہوں فریب نگاہ سے آگےمیں آسماں کو شکن در شکن بھی دیکھتا ہوںوہ آدمی کہ سبھی روئے جن کی میت پرمیں اس کو زیر کفن خندہ زن بھی دیکھتا ہوں
صف ماتم بچھی ہےسخن کا آخری در بند ہونے کی خبر نےکھڑکیوں کے پار بیٹھے غمگساروں کویہ کیسی چپ لگا دی ہےیہ کس کی ناگہانی موت پر سرگوشیوں کی آگ روشن ہےکسی کے کنج لب سے کوئی تارا میرے دل پر آن پڑتا ہےبرا ہو موت کا جس نے مرے فریاد رس کی جان لے لی ہےابھی اس کی ضرورت تھیمیں اس دنیا کے اک گوشے میں بیٹھا سوچتا ہوںآج اس ویران منڈلی میںمیں کس کو پرسہ دینے کے لیے آیا ہوںمجھ کو تعزیت تو خود سے کرنا تھیابھی اس گھر سے اک میت سدھاری ہےدم رخصتکسی نے نکہت زلف پریشاں کا نہیں پوچھاکسی نے دکھ کے اندر روشنی کی چھب نہیں دیکھیمکاں سے پھوٹنے والی روش پرایک بچہ رو رہا ہےآج اس کے آنسوؤں کو کون پونچھے گاکہ اس کے ساتھ جو شطرنج کی بازی لگاتا تھاوہ اب زیر زمیں اک چادر سادہ کی خوشبو ہےیہاں صبحیں بھی آئیں گییہاں شامیں بھی اتریں گیمگر اک ہچکیاں لیتا ہوا بچہچراغ آرزو بن کرسر طاق لحد گونگی زمیں کی لب کشائی تک پکارے گابرا ہو موت کا جس نے مرے فریاد رس کی جان لے لی ہے
کچھ اور خود غرض کود پڑیں گےاس رنجش کے کھیل میںسیکیں گے روٹیاںمیت کی چنگاری پرآگ بجھ گئی تومزار کےدئیےسے پھر جلا دیں گےجلا کر گھر ہمارااپنا محل روشن کریں گے
مگر جنازہ کہیں بھی نظر نہیں آتاکفن فروش بھی ہیں، گورکن بھی ہیں لیکنکوئی بتا نہیں سکتا کہ کس کی میت ہےکوئی بتا نہیں سکتا کدھر گیا تابوتکوئی بتا نہیں سکتا کہاں ہے قبرستان
صبح ہوتے ہی آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں سڑکوں پراور شروع کر دیتے ہیں ناچآٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں اپنے رنگے چہروں اور لمبی ٹوپیوں کے ساتھتوڑ پھوڑ ڈالتے ہیں آسماندھجی دھجی کر دیتے ہیں دھوپالجھا لیتے ہیں ہوا کی ڈور اپنے ہاتھوں میںراستہ نہیں دیتے میت گاڑیوں کو اور آگ بجھانے والے انجن کوبھر دیتے ہیں سیارے کو بیہودہ فقروں سےاور شام آتی ہےلوٹ جاتے ہیں سورج کے ساتھ کورس گاتے ہوئےاور رات ہوتی ہےاور صبح ہوتی ہےصبح ہوتے ہی آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں سڑکوں پراور شروع کر دیتے ہیں ناچ۔۔۔
بوڑھے غریب باپ کے مرنے پہ دفعتاًبیٹے نے سوچا کیسے کروں دفن اور کفناپنے یہاں تو موت میں خرچے کا ہے چلنغم سے نڈھال بیٹے کے ماتھے پہ تھی شکنجو کچھ تھا پاس دفن و کفن میں اٹھا دیاخرچے نے پھر تو موت کا صدمہ بھلا دیاکرنا پڑا جو دفن کا تا صبح انتظارمیت کے پاس چلتی رہی چائے بار باراور موت میں جو آئے تھے بیرونی رشتہ دارچائے سے ان کی توڑا گیا نیند کا خماراور اس کے بعد چلتا جو پھر پاندان ہےلگتا ہے سوگوار نہیں میزبان ہےپرسے کو صبح شام پھر آتے ہیں رشتہ دارکھانا نہیں تو چائے کم از کم ہو ایک بارچائے کے ساتھ وائے میں خرچے ہیں بے شمارمردے کو چھوڑ خرچے کو روتا ہے سوگوارتیجے کے بعد دسواں ہے پھر بیسواں بھی ہےپھر چند روز بعد ہی چالیسواں بھی ہےہر روز فاتحہ کے لئے گوشت چاہئےسالن بھی صرف ایک نہیں دو پکائیےنذر و نیاز کے لئے حلوہ بنائیےپھر روز آنے والوں کو چائے پلائیےبیٹا بچارہ دب گیا قرضے کے بار سےبرسوں تک اب چھڑائے گا پیچھا ادھار کےپھر اس کے بعد باتیں بناتی ہیں عورتیںکیا کیا کمی رہی یہ بتاتی ہیں عورتیںچالیسواں کچھ ایسے کراتی ہیں عورتیںفرمائشوں کے ڈھیر لگاتی ہیں عورتیںاس طرح موت کو بھی تماشہ بنا دیاوہ اعتراض اٹھائے کلیجہ ہلا دیابیٹے نے نام کر دیا روشن جہان میںایسی کسی نے موت نہ کی خاندان میںچالیسواں کچھ ایسا کیا آن بان میںزیور بہو کا بک گیا مصنوعی شان میںوہ موت کی کہ کنبے میں ڈنکا بجا دیاچالیسویں پہ شہر کو کھانا کھلا دیا
تدفینچار طرف سناٹے کی دیواریں ہیںاور مرکز میں اک تازہ تازہ قبر کھدی ہےکوئی جنازہ آنے والا ہےکچھ اور نہیں تو آج شہادت کا کلمہ سننے کو ملے گاکانوں کے اک صدی پرانے قفل کھلیں گےآج مری قلاش سماعت کو آواز کی دولت ارزانی ہوگیدیواروں کے سائے میں اک بہت بڑا انبوہ نمایاں ہوتا ہےجو آہستہ آہستہ قبر کی جانب آتا ہےان لوگوں کے قدموں کی کوئی چاپ نہیں ہےلب ہلتے ہیں لیکن حرف صدا بننے سے پہلے مر جاتے ہیںآنکھوں سے آنسو جاری ہیںلیکن آنسو تو ویسے بھیدل و دماغ کے سناٹوں کی تمثالیں ہوتے ہیںمیت قبر میں اتری ہےاور حد نظر تک لوگ بلکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیںاور صرف دکھائی دیتے ہیںاور کان دھرو تو سناٹے ہی سنائی دیتے ہیںجب قبر مکمل ہو جاتی ہےاک بوڑھا جو ''وقت'' نظر آتا ہے اپنے حلیے سےہاتھوں میں اٹھائے کتبہ قبر پہ جھکتا ہےجب اٹھتا ہے تو کتبے کا ہر حرف گرجنے لگتا ہےیہ لوح مزار ''آواز'' کی ہے!
پشت در پشت بلا فصل وہ اجداد مرےاپنے آقاؤں کی منشا تھی مشیت ان کیگر وہ زندہ تھے تو زندوں میں وہ شامل کب تھےاور مرنے پہ فقط بوجھ تھی میت ان کی
موہنی جھریاں سبک آنکھیںمہرباں شفقتوں سے پر چہرہتھپکیاں دیتے ہاتھ نرم آغوشچاہتیں دیکھ بھال پیار دلارسارے کنبے کی فکر سب کا خیالرابطے رشتے داریاں ناطےخاطریں وضع داریاں مہماںمرتبے حیثیت حساب نسابنظم و ترتیب گھر کے اخراجاتموت میت بیاہ پیدائشتعزیت تہنیت کے چال چلنچھٹی عاشورہ عید اور براتہر بڑے چھوٹے دن کا پاس و لحاظروزے نفلیں وظیفے تسبیحیںصدقہ منت مراد پیر فقیرخیر خیرات بخششیں نذریںلاگ لگ لین دین میل ملاپپوچھ گچھ رکھ رکھاؤ ریت رواجرونقیں خوش کلامیاں آدابرات قصے کہانیاں چہلیںمیز الماری پاندان پلنگذائقے رنگ خوشبوئیں چہرے
ابھی تو نا مکمل نظم کا اک آخری مصرعہ کتاب ہجر میں تحریر کرنا ہےخس و خاشاک غم اسلاف میں تقسیم ہو جائیں تو سر سے بوجھ اترےقرض کا جامہ پہن کر اک نئے رستے پہ جانا کب مناسب ہےابھی ٹھہروابھی ہم کو جزیرے میں ہوا کے سبز جھونکوں سے شجر کی بات کرنا ہےسویروں کی امامت کرنے والی ضو نگاہوں میں پرونے تک ٹھہر جاؤاندھیروں میں کسی لو کے بنا لمبا سفر آغاز کرنا کب مناسب ہےابھی ٹھہروہجوم دلبراں آداب گریہ سے نہیں واقفدر و دیوار حسرت میں ذرا سی بھیڑ لگ جائے تو چلتے ہیںخبر بھیجوکہ یوں چپ چاپ میت کی طرح گھر سے نکلنا کب مناسب ہےذرا ٹھہروابھی کچھ کام باقی ہیںذرا یہ کام نمٹا لیں تو چلتے ہیں
زندگی بھیس بدل کر جہاں فن بنتی ہےمیرؔ و غالبؔ کا وہ انداز بیاں ہے اردوکبھی کرتی ہے ستاروں سے بھی آگے منزلچشم اقبال سے گویا نگراں ہے اردوساتھ انشا کے کبھی ہنستی ہے دل کھول کے وہبہر فانی کبھی مصروف فغاں ہے اردوحاصل بزم ہے اور بزم کو تڑپاتی ہےجان مے خانہ ہے میخانۂ جاں ہے اردوگاہ پروانے کی میت پہ کھڑی ملتی ہےصورت شمع جہاں گریہ کناں ہے اردوگاہ خوشیوں کے چمن زار میں جا بستی ہےموسم گل کی جہاں روح رواں ہے اردومحو گلگشت جہاں حور بہشتی مل جائےقابل رشک وہ گلزار جناں ہے اردوہر غزل کوچۂ جاناں سے زیادہ پیاریہر نظر شعر ہے تصویر بتان اردوہر نئی نظم نئے موڑ پہ لے جاتی ہےروح امروز ہے فردا کا نشاں ہے اردودھل گئی کوثر و تسنیم کے پانی سے مگرجنت ارض کی مظلوم زباں ہے اردوباغباں مجھ کو اجازت ہو تو اک بات کہوںنغمہ بلبل کا ہے پھولوں کی زباں ہے اردوملتے ہیں اس سے ہزاروں ہمیں تہذیب کے درساس قدر ذہن پہ کیوں تیرے گراں ہے اردواب بھی چھا جاتی ہے ہر روح پہ مستی بن کراس خرابی میں بھی افسون جواں ہے اردو
غزوۂ خندق کا سفرزبان کی خندق تک آ پہنچالیکن سازشیں ہتھیائی نہیں جا سکیںابلیس کی معیت میںنماز حاجات ادا کرنے والےہتھیلیوں میں جنت بھر کے کہتے ہیںخدایایہ دودھ اور شہد کی نہریںکس کے لئے بچا رکھی ہیں
بہت میں نے اس مختصر زندگی میںعزیز و اقارب کے صدمات دیکھےبہت دوستوں کی جواں میتوں کوسسکتے ہوئے میں نے کاندھا دیا ہےبہت مہربانوں کی مجروح لاشوں کے تابوتمٹی کے منہ میں اتارےمگرمیری بے رحم منحوس آنکھیںیہ دل دوز منظر سمیٹے ہوئےپھر نئے زخم تک مندمل ہو گئیںہر دفعہاپنے اشکوں کے طوفان کوتھپکیاں دے کے میں نے سلا ہی دیااور خود سے کہاٹوٹنا ہی ستاروں کی قسمت میں تھایہ سبھی اپنی قسمت کے لکھے ہوئے فیصلوں کے مطابقزمانے کو دھتکار کر جا رہے ہیںمگرکل اک ایسی بھی میت اٹھائیکہ میںجس کے جذبے کی گہرائیوں کے سمندر میںاکثر اترتا رہا تھامجھے یوں لگاجیسے میں اپنے کاندھے پہاپنا جنازہ اٹھائے ہوئے ہوںمجھے یوں لگاجیسے یہ موت میرا مقدر تھیجس کو کوئی دوسرا چھین کر لے گیا ہےمجھے یوں لگاجیسے اس بوجھ کوجو میرے ذہن میں پرورش پا رہا تھاتعاقب کی بے مہر زد سے بچا کرکسی ایسے تاریک گوشے کے اندرچھپانے چلا ہوںجہاں راز کوفاش ہونے کی کوتاہیوں سے بچا لوں
ایک یہ وقت ہے بس عالم تنہائی ہےگلشن دل پہ فقط غم کی گھٹا چھائی ہےہائے جذبات کی میت پہ پذیرائی ہےکیا یہی میں نے وفاؤں کی جزا پائی ہےکچھ بھی سنتی ہی نہیں ہائے یہ بیری راتیںتم پہ اتری ہیں کبھی ہجر کی اندھی راتیںتم پہ اتری ہی نہیں ہجر کی اندھی راتیں
مرے عزیزوزمان حاضر کے منتخب بے مثال لوگومری طریقت پہ چلنے والومری معیت میں جس گزر گاہ پر چلے ہوبہت کٹھن تھیقدم قدم پر نئے حوادثتمہارے سچ کا خراج لینےتمہاری رہ میں کھڑے ہوئے تھےزوال آمادہ لوگتم سے عروج کی اس گھڑی میںآ آ کے پوچھتے تھےکہ جلتے سورج تلے عقیدے کی چھاؤں کب تک جواں رہے گییہ جاں کنی کا عذاب کتنے برس سہو گےوہ بے خبر تھےکہ جو بھی اس راہ پر چلا ہےوہ جبر کی آہنی فصیلوں کوسنگ منزل سمجھ کے بڑھتا چلا گیا ہےجب تمہارا ایمان اپنی تکمیل پا چکا ہےتمہارے اندر کے بت کدوں کے تمام اصنامڈھ چکے ہیںسفر کی ساری صعوبتوں سے گزر چکے ہوگواہ رہناصداقتوں کے امین لوگوگواہ رہناکہ میں نے ساری امانتیں تم کو سونپ دی ہیںسنوکہ اب جو میں کہہ رہا ہوںیہی وہ نسخۂ کیمیا ہےجو ذات کے بندھنوں سےتم کو رہائی دے گاتمہارے اندر کی سب خلیجوں کو پاٹ دے گامیں زندگی کی فصاحتوں اور بلاغتوں کوسمجھ کے تم سے یہ کہہ رہا ہوںسماعتیں اور بصارتیں قبلہ رو کرو گےتو دیکھ لینابصیرتوں کے چراغخود ہی تمہارے اندر کے سارے طاقچوں میں جل اٹھیں گےتمہیں خبر ہے؟کہ زندگی اپنے ظاہری خد و خال سے کتنی مختلف ہےکہ روح کے پل تلے تمہارے وجود کا عارضی بہاؤبڑی ہی سرعت سے بہہ رہا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books