aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naaquus"
او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی مہکتے مندر سےناقوس کی آواز آتی ہےکیا اب بھی مقدس مسجد پرمستانہ اذاں تھراتی ہےاور شام کے رنگیں سایوں پرعظمت کی جھلک چھا جاتی ہےاو دیس سے آنے والے بتا
دیوار و در سے اب تک ان کا اثر عیاں ہےاپنی رگوں میں اب تک ان کا لہو رواں ہےاب تک اثر میں ڈوبی ناقوس کی فغاں ہےفردوس گوش اب تک کیفیت اذاں ہے
ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہےمجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہےتہذیب ہند کا نہیں چشمہ اگر ازلیہ موج رنگ رنگ پھر آئی کہاں سے ہےذرے میں گر تڑپ ہے تو اس ارض پاک سےسورج میں روشنی ہے تو اس آسماں سے ہےہے اس کے دم سے گرمئی ہنگامۂ جہاںمغرب کی ساری رونق اسی اک دکاں سے ہے
چراغ دیر فانوس حرم قندیل رہبانییہ سب ہیں مدتوں سے بے نیاز نور عرفانینہ ناقوس برہمن ہے نہ آہنگ ہدیٰ خوانیمگر میں اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی جاتا ہوں
ناقوس کے سینے سے صدائیں وہ فغاں کیوہ حمد میں ڈوبی ہوئی آواز اذاں کی
دل پذیریٔ اذاں دل داریٔ ناقوس دیرصحن مسجد کا تقدس پرتو فانوس دیر
حدیث قوم بنی تھی تری زباں کے لیےزباں ملی تھی محبت کی داستاں کے لیےخدا نے تجھ کو پیمبر کیا یہاں کے لیےکہ تیرے ہاتھ میں ناقوس تھا اذاں کے لیےوطن کی خاک تری بارگاہ اعلیٰ ہےہمیں یہی نئی مسجد نیا شوالا ہے
اک حدی خوان محبت اک نقیب اتحاداک فدائے سوز ناقوس و اذاں پیدا ہوا
ہر صبح یہ آہنگ ہے ناقوس و اذاں کاہر شام کئی ساز کی جھنکار ہے دلی
مٹیالے مٹیالے بادل گھوم رہے ہیں میدانوں کے پھیلاؤ پردریا کی دیوانی موجیں ہمک ہمک کر ہنس دیتی ہیں اک ناؤ پرسامنے اودے سے پربت کی ابر آلودہ چوٹی پر ہے ایک شوالاجس کے عکس کی تابانی سے پھیل رہا ہے چاروں جانب ایک اجالاجھلمل کرتی ایک مشعل سے محرابوں کے گہرے سائے رقصیدہ ہیںہر سو پریاں ناچ رہی ہیں جن کے عارض رخشاں نظریں دزدیدہ ہیںعنبر اور لوبان کی لہریں دوشیزہ کی زلفوں پہ ایسے بل کھاتی ہیںچاندی کے ناقوس کی تانیں دھندلے دھندلے نظاروں میں گھل جاتی ہیںہاتھ بڑھائے سر نہوڑائے پتلے سایوں کا اک جھرمٹ گھوم رہا ہےپوجا کی لذت میں کھو کر مندر کے تابندہ زینے چوم رہا ہےایک بہت پتلی پگڈنڈی ساحل دریا سے مندر تک کانپ رہی ہےناؤ چلانے والی لڑکی چپو کو ماتھے سے لگائے ہانپ رہی ہےدیوانی کو کون بتائے اس مندر کی دھن میں سب تھک ہار گئے ہیںسائے بن کے گھوم رہے ہیں جو بے باک چلانے والے پار گئے ہیںوہ جب ناؤ سے اترے گی مٹیالے مٹیالے بادل گھر آئیں گےمیدانوں پر کہساروں پر دریا پر ناؤ پر سب پر چھا جائیں گےاول تو پگڈنڈی کھو کر گر جائے گی غاروں غاروں میں بیچاریبچ نکلی تو ہو جائے گی اس کے نازک دل پر اک ہیبت سی طاریہوش میں آئی تو رگ رگ پر ایک نشہ سا بے ہوشی کا چھایا ہوگاجسم کے بدلے اس مندر میں دھندلا اک لچکیلا سایا ہوگا
میرا وطن ہندوستاں ہر راہ جس کی کہکشاںکوہ گراں سے کم نہیں جس کے جیالے نوجواںیہ ویر و گوتم کی زمیں امن و اہنسا کا چمناکبر کے خوابوں کا جہاں چشتی و نانک کا وطنشمعیں ہزاروں ہیں مگر ہے ایکتا کی انجمنتہذیب کا گہوارہ ہیں گنگ و جمن کی وادیاںمیرا وطن ہندوستاںتاریخ کی عظمت ہے یہ جمہوریت کی شان ہےروحانیت کی روح ہے سب مذہبوں کی جان ہےیہ اپنا ہندوستان ہے یہ اپنا ہندوستان ہےحاصل یہاں انسان کو ہر طرح کی آزادیاںمیرا وطن ہندوستاںجب دل سے دل ملتے گئے مٹتے گئے سب فاصلےیہ آج کا نغمہ نہیں صدیوں کے ہیں یہ سلسلےصدیوں سے مل کر ہی بڑھے سب اہل دل کے قافلےاک ساتھ اٹھتی ہے یہاں آواز ناقوس و اذاںمیرا وطن ہندوستاںتاریخ کے اس موڑ پر ہم فرض سے غافل نہیںقابو نہ جس پر پا سکیں ایسی کوئی مشکل نہیںجس کو نہ ہم سر کر سکیں ایسی کوئی منزل نہیںہاں بانکپن کی شان سے ہے کارواں اپنا رواںمیرا وطن ہندوستاں
جھکے گا خاک پہ یہ قصر آسماں اک دنہمارے زیر قدم ہوگی کہکشاں اک دنبڑھے گا جانب منزل یہ کارواں اک دنفضائے ارض و سما ہوگی ہم عناں اک دنحیات خضر ملے گی ہر ایک ذرے کوہمارا نقش قدم ہوگا جاوداں اک دنابھی جو خرمن اہل وفا پہ گرتی ہیںچراغ راہ بنیں گی وہ بجلیاں اک دنبہ ایں یقین و بہ ایں اعتقاد حسن یقیںابھی تو آئے گا وہ عہد خونچکاں اک دنوہ عہد جس میں عزائم کے سوز و ساز کے ساتھاٹھے گا سینۂ مزدور سے دھواں اک دنہمارے ذوق تجسس کی تشنہ کامی کازمانہ لے گا سر دار امتحاں اک دنملیں گے بھیس میں رہزن کے رہبران وطنفریب دیں گے ہمارے ہی پاسباں اک دنیہ زر پرست کہ ہیں انقلاب کے دشمنمٹا کے ہم کو بہت ہوں گے شادماں اک دنچمن پہ فرقہ پرستی کی آگ برسا کریہ پھونک دیں گے ہر اک شاخ آشیاں اک دنانہیں کا تیر ہے وہ گوڈسےؔ ہو یا اکبرؔہر ایک بزم پہ لچکے گی یہ کماں اک دنبنائیں گے یہی جمہوریت کے پردے میںہمارے ملک پہ غیروں کو حکمراں اک دنمنائیں گے یہ غریبوں کے خون سے ہولیاجاڑ دیں گے کسانوں کی بستیاں اک دنیہ جانشین ہیں راون کے ان کی سازش سےاٹھیں گی رام کی عظمت پہ انگلیاں اک دنجلو میں ان کے وہ سیلاب کشت و خوں ہوگالرز اٹھیں گی ہمالہ کی چوٹیاں اک دنبتان دیر ندامت سے سرنگوں ہوں گےاٹھے گی سینۂ ناقوس سے فغاں اک دن
نہ جانے وہ لوگ گم کہاں ہیںچھلک رہی تھیفلک کے ساغر سے رحمت حق کی تند صہبافضاے ایام میں محبت کی فاختائیں بھیپنکھ پھیلائے اڑ رہی تھیںدیار جرماں میں جھانکتی تھیںامید فردا کی نرم کرنیںمگر یہ آشوب وقت کا ہے اثر کہ جس سےجھلس گئے ہیں تصوروں کے حسین چہرےفضا بھی خاموش روح بیتابدور مندر کے دیوتا چپدھڑکتے دل کی یہ سنسناہٹکھسکتے پتوں کی سرسراہٹپڑے ہیں خاموش کھوکھلے مندروں کے ناقوسبجھے پڑے ہیں تمدنوں کے حسین فانوسیہاں اجنتا کا اور کونارک کافن تخلیق ہچکیاں لے رہا ہے پیہمیہاں تو اب صوموں میں اور مسجدوں میںگھر کر چکے ہیں تخریب کے ابابیلنفس نفس میں گھٹن کا جذبہرگوں میں تلخی ہے زہر غم کیبھٹکتے رہنے کو اب خلا کے سوا نہیں کچھگئے تھے جو لوگ اس طرف سےانہیں کا ہے انتظار ہم کووہ آئیں گے کب وہ آئیں گے کبیہاں اہنسا کو گھن لگا ہےیہاں محبت کی وادیوں میں اگی ہے کائیپیام انسانیت کو گویا لگی ہے دیمکوہ درد دل کی لویںجو مثل چراغ جلتی رہی تھیں صدیوںنہ جانے کیوں آج بجھ چکی ہیںنظر کو دھندلا رہی ہے کیوں دور کی سیاہیگئے تھے کچھ لوگ جو ادھر سےانہیں کا ہے انتظار ہم کوفلک کے لا انتہا ابھی میںنہ جانے وہ لوگ گم کہاں ہیں
دیوار و در سے اب تک ان کا اثر عیاں ہےاپنی رگوں میں اب تک ان کا لہو رواں ہےاب تک اثر میں ڈوبی ناقوس کی فغاں ہےفردوس گوش اب تک کیفیت اذاں ہےکشمیر سے عیاں ہے جنت کا رنگ اب تکشوکت سے بہہ رہا ہے دریائے گنگ اب تک
تجھ پہ قربان عرب اور عجم صدقے کروںتجھ پہ ناقوس و اذاں دیر و حرم صدقے کروںصبر کا واسطہ اعجاز کا دم صدقے کروںسوز اور ساز کو سینے میں دبا رکھا ہے
مندر میں ناقوس بجاتا جھینو جھینومسجد میں گونجے نقارا دھیرے دھیرے
بلبل کے چہچہے میںغنچوں کے قہقہے میںرنگ گل چمن میںخوشبوئے یاسمن میںبستان پر فضا میںصرصر میں اور صبا میںدریا کے پانیوں میںاس کی روانیوں میںصحراؤں میں بھی ہوں میںپربت کی کندروں میںسورج میں چندرما میںانجم میں کہکشاں میںموتی کے جھلکنے میںہیرے کے دمکنے میںہر شمع انجمن میںپروانہ کی جلن میںطبلہ کی ہر صدا میںطبنور کی نوا میںعالم کی صورتوں میںمٹی کی مورتوں میںپھر قلب پارسا میںاور سینۂ صفا میںناقوس میں اذاں میںاور وید میں قرآں میںکاہن کی بنسری میںاور نغمۂ پوریؔ میں
دو صداؤں میں بے لوث سنگم ہوادونوں ملتے رہےدل بھی ملتے گئےاب اذاں اور ناقوس تھے مشترک
آنسوؤں میں پھر جھلکتا ہے لہوآہ یہ ٹوٹے ہوئے جام و سبوزلزلوں سے تھرتھراتی ہے زمیںپرشکن ہے رہ گزاروں کی جبیںبجھ گئے عشق و بصیرت کے کنولہیں فنا کے رحم پر دشت و جبلکارواں گمراہ راہیں پا شکنیہ غلاموں کے سم آلودہ کفنخون ٹپکاتی رہی شاخ گلابکھو گئے ظلمت میں کتنے آفتابقہقہے شور فغاں میں ڈھل گئےسوز و عرفاں کے نشیمن جل گئےمٹ گئیں رنگینیاں رعنائیاںہیں بہر سو موت کی پرچھائیاںابر پارے خون برسانے لگےمعبدوں میں ناگ لہرانے لگےہو گیا ویران فردوس خیالاب کہاں احساس میں نور جمالزندگی نفرت کی جانب مڑ گئیبوئے گل بن کر محبت اڑ گئیاک تلاطم ہے دل غم ناک میںمل گئے کتنے شگوفے خاک میںیہ سیاہی ناسزا اوہام کیرک گئی ہیں گردشیں ایام کیآندھیوں سے جاگ اٹھے خار زارمضمحل ہیں چشمہ سار و جوئبارتیرگی کی رو میں سورج بہہ گئےزمزمے خاموش ہو کر رہ گئےیہ اندھیری رات اور خواب سحرہے مشیت خندہ زن انسان پرروز افزوں شور ناقوس و اذاںآگ کا طوفان خاکستر دھواںہو گئے کتنے حوادث بے نقابانقلاب اے انقلاب اے انقلاب
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books