ADVERTISEMENT

اشعار پرآنگن

کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا

کھیل میں بھی تو آدھا آدھا آنگن تھا

شارق کیفی

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

ظفر زیدی

خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں

یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈر نہیں لگتا

سلیم احمد

پھیلتے ہوئے شہرو اپنی وحشتیں روکو

میرے گھر کے آنگن پر آسمان رہنے دو

عذرا نقوی
ADVERTISEMENT

برس رہی ہے اداسی تمام آنگن میں

وہ رت جگوں کی حویلی بڑے عذاب میں ہے

فاروق انجینئر

آنگن آنگن خون کے چھینٹے چہرہ چہرہ بے چہرہ

کس کس گھر کا ذکر کروں میں کس کس کے صدمات لکھوں

عبید الرحمان

ہمارے گھر کے آنگن میں ستارے بجھ گئے لاکھوں

ہماری خواب گاہوں میں نہ چمکا صبح کا سورج

چندر بھان خیال

جانے کس کردار کی کائی میرے گھر میں آ پہنچی

اب تو ظفرؔ چلنا ہے مشکل آنگن کی چکنائی میں

ظفر حمیدی
ADVERTISEMENT