ADVERTISEMENT

اشعار پربرگ

شجر تر نہ یہاں برگ شناسا کوئی

اس قرینے سے سجایا ہے یہ منظر کس نے

حمید الماس

آتے ہیں برگ و بار درختوں کے جسم پر

تم بھی اٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دعا کا ہے

اسعد بدایونی

شاخوں سے برگ گل نہیں جھڑتے ہیں باغ میں

زیور اتر رہا ہے عروس بہار کا

امیر مینائی

سب کو پھول اور کلیاں بانٹو ہم کو دو سوکھے پتے

یہ کیسے تحفے لائے ہو یہ کیا برگ فروشی ہے

جمیل ملک
ADVERTISEMENT

شجر سے بچھڑا ہوا برگ خشک ہوں فیصلؔ

ہوا نے اپنے گھرانے میں رکھ لیا ہے مجھے

فیصل عجمی

کیا جانے شاخ وقت سے کس وقت گر پڑوں

مانند برگ زرد ابھی ڈولتا ہوں میں

عمران الحق چوہان

برگ گل آ میں تیرے بوسے لوں

تجھ میں ہے ڈھنگ یار کے لب کا

سخی لکھنوی

لے آئے گا اک روز گل و برگ بھی ثروتؔ

باراں کا مسلسل خس و خاشاک پہ ہونا

ثروت حسین
ADVERTISEMENT