دل_لگی پر شاعری

دل ہی عشق اور محبت کا مرکز ہوتا ہے ۔ دل لگنا ، دل جدا ہونا ، دل ٹوٹنا ، دل جلا ہونا یہ اور اس طرح کی دوسری لفظیات دل کی اسی مرکزیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ دل لگی کے تحت ہم نے جو اشعار جمع کئے ہیں ان میں آپ دل لگی کی مزے دار ، کبھی ہنسا دینے والی اور کبھی رلا دینے والی صورتوں سے گزریں گے ۔ یہ شاعری عاشقوں کیلئے ایک سبق بھی ہے جسے پڑھ کر وہ خود کو دل لگی کے سفر کیلئے تیار بھی کرسکتے ہیں ۔

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے

پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل

دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں

حفیظ جالندھری

درد دل کی انہیں خبر کیا ہو

جانتا کون ہے پرائی چوٹ

فانی بدایونی

دل لگی میں حسرت دل کچھ نکل جاتی تو ہے

بوسے لے لیتے ہیں ہم دو چار ہنستے بولتے

منشی امیر اللہ تسلیم

چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنو

بات میں تم تو خفا ہو گئے لو اور سنو

انشاءؔ اللہ خاں

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے

اعتبار ساجد

کوئی دل لگی دل لگانا نہیں ہے

قیامت ہے یہ دل کا آنا نہیں ہے

دتا تریہ کیفی

قدموں پہ ڈر کے رکھ دیا سر تاکہ اٹھ نہ جائیں

ناراض دل لگی میں جو وہ اک ذرا ہوئے

حبیب موسوی

متعلقہ موضوعات

Added to your favorites

Removed from your favorites