کشمکش پر شاعری

اپنی فکر اور سوچ کے دھاروں سے گزر کر کلی طور سے کسی ایک نتیجے تک پہنچنا ایک ناممکن سا عمل ہوتاہے ۔ ہم ہر لمحہ ایک تذبذب اور ایک طرح کی کشمکش کے شکار رہتے ہیں ۔ یہ تذبذب اور کشمکش زندگی کے عام سے معاملات سے لے کر گہرے مذہبی اور فلسفیانہ افکار تک چھائی ہوئی ہوتی ہے ۔ ’’ ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر‘‘ اس کشمکش کی سب سے واضح مثال ہے ۔ ہمارے اس انتخاب میں آپ کو کشمکش کی بے شمار صورتوں کو بہت قریب سے دیکھنے ، محسوس کرنے اور جاننے کا موقع ملے گا ۔

ادھر سے تقاضا ادھر سے تغافل

عجب کھینچا تانی میں پیغام بر ہے

نامعلوم
  • شیئر کیجیے

ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں

کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے

حفیظ جالندھری

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

faith restrains me while I am tugged at by heresy

behind me stands the mosque, the church in front of me

faith restrains me while I am tugged at by heresy

behind me stands the mosque, the church in front of me

مرزا غالب

پھڑکوں تو سر پھٹے ہے نہ پھڑکوں تو جی گھٹے

تنگ اس قدر دیا مجھے صیاد نے قفس

شیخ ظہور الدین حاتم
  • شیئر کیجیے

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں

فراق گورکھپوری

سوال کرتی کئی آنکھیں منتظر ہیں یہاں

جواب آج بھی ہم سوچ کر نہیں آئے

آشفتہ چنگیزی

شوق کہتا ہے پہنچ جاؤں میں اب کعبہ میں جلد

راہ میں بت خانہ پڑتا ہے الٰہی کیا کروں

امیر مینائی
  • شیئر کیجیے

ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم

آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے

قمر جلالوی

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

علامہ اقبال

مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کر دیا تقسیم

نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف

شہپر رسول
  • شیئر کیجیے

وعدہ کر کے اور بھی آفت میں ڈالا آپ نے

زندگی مشکل تھی اب مرنا بھی مشکل ہو گیا

by promising you have increased my troubles even more

life itself was difficult, now death more even so

by promising you have increased my troubles even more

life itself was difficult, now death more even so

جلیلؔ مانک پوری

ہے عجب سی کشمکش دل میں اثرؔ

کس کو بھولیں کس کو رکھیں یاد ہم

اثر اکبرآبادی
  • شیئر کیجیے

یہ سوچتے ہی رہے اور بہار ختم ہوئی

کہاں چمن میں نشیمن بنے کہاں نہ بنے

i kept contemplating, spring came and went away

where in the garden should I make my nest today

i kept contemplating, spring came and went away

where in the garden should I make my nest today

اثر لکھنوی

یہ کس عذاب میں چھوڑا ہے تو نے اس دل کو

سکون یاد میں تیری نہ بھولنے میں قرار

شہرت بخاری
  • شیئر کیجیے

Added to your favorites

Removed from your favorites