کشمکش پر اشعار
اپنی فکر اور سوچ کے
دھاروں سے گزر کر کلی طور سے کسی ایک نتیجے تک پہنچنا ایک ناممکن سا عمل ہوتاہے ۔ ہم ہر لمحہ ایک تذبذب اور ایک طرح کی کشمکش کے شکار رہتے ہیں ۔ یہ تذبذب اور کشمکش زندگی کے عام سے معاملات سے لے کر گہرے مذہبی اور فلسفیانہ افکار تک چھائی ہوئی ہوتی ہے ۔ ’’ ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر‘‘ اس کشمکش کی سب سے واضح مثال ہے ۔ ہمارے اس انتخاب میں آپ کو کشمکش کی بے شمار صورتوں کو بہت قریب سے دیکھنے ، محسوس کرنے اور جاننے کا موقع ملے گا ۔
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
میرا ایمان مجھے گناہ سے روکتا ہے مگر کفر کی کشش مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے۔
خانہ کعبہ میرے پیچھے چھوٹ گیا ہے اور کلیسا (محبوب کا مقام) میرے سامنے ہے۔
غالب اس شعر میں انسان کی باطنی کشمکش کو بیان کرتے ہیں جہاں وہ دین اور دنیاوی خواہشات کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ ایمان اسے نیکی پر قائم رکھنا چاہتا ہے مگر کفر (یا حسنِ مجازی) اسے اپنی طرف راغب کر رہا ہے، جس سے وہ دینِ حق (کعبہ) سے منہ موڑ کر دنیا (کلیسا) کی طرف جانے پر مجبور ہے۔
عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
عشق بھی پردے میں ہے اور حسن بھی پردے میں چھپا ہوا ہے۔
یا تو تُو خود ظاہر ہو جا، یا مجھے میری حقیقت سے آگاہ کر دے۔
علامہ اقبال کے ہاں حجاب اس رکاوٹ کا استعارہ ہے جو عاشق اور معشوق/حقیقت کے بیچ آ جاتی ہے۔ جب عشق بھی دب جائے اور حسن بھی چھپ جائے تو ملاقات ممکن نہیں رہتی۔ شاعر کی التجا ہے کہ یا تو حقیقت خود جلوہ گر ہو، یا اندر کے پردے ہٹا کر مجھے خود اپنے آپ پر آشکار کر دے۔ اس میں اضطراب، طلب اور خودشناسی کی پیاس نمایاں ہے۔
-
موضوعات : حسناور 2 مزید
مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کر دیا تقسیم
نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف
ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم
آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
-
موضوع : آہ
سوال کرتی کئی آنکھیں منتظر ہیں یہاں
جواب آج بھی ہم سوچ کر نہیں آئے
سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں
نہ میرے سر میں کوئی جنون ہے اور نہ دل میں کوئی خواہش باقی ہے۔
مگر پھر بھی اس بات کا یقین نہیں کہ میں واقعی محبت چھوڑ چکا ہوں۔
شاعر کہتا ہے کہ اب نہ جنون رہا نہ آرزو، گویا دل مطمئن ہے۔ لیکن “ترکِ محبت” کے دعوے پر خود اسے بھروسا نہیں، کیونکہ محبت کا معاملہ اندر ہی اندر پھر جاگ اٹھتا ہے۔ یہ شعر ظاہری بےنیازی اور باطنی تذبذب کی کیفیت دکھاتا ہے۔ اسی خودفریبی/خودشک کا درد اس کا مرکز ہے۔
یہ کس عذاب میں چھوڑا ہے تو نے اس دل کو
سکون یاد میں تیری نہ بھولنے میں قرار
شوق کہتا ہے پہنچ جاؤں میں اب کعبہ میں جلد
راہ میں بت خانہ پڑتا ہے الٰہی کیا کروں
ہے عجب سی کشمکش دل میں اثرؔ
کس کو بھولیں کس کو رکھیں یاد ہم
پھڑکوں تو سر پھٹے ہے نہ پھڑکوں تو جی گھٹے
تنگ اس قدر دیا مجھے صیاد نے قفس
تم سے ملنا بھی ہے ملنا بھی نہیں ہے تم سے
آؤ تم سے سر بازار کہیں ملتے ہیں
بول کس موڑ پہ ہوں کشمکش مرگ و حیات
ایسے عالم میں کہاں چھوڑ دیا ہے مجھ کو
-
موضوع : موت
کشمکش دل میں ہے یہ برسوں سے
آس کس کی ہے یاس کس کی ہے