اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کے
اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کے
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
-
موضوعات : انتظاراور 3 مزید
جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہے
کتنی وحشت ہجر کی لمبی رات میں ہوتی ہے
-
موضوعات : وحشتاور 2 مزید
زندگی کس طرح کٹے گی سیفؔ
رات کٹتی نظر نہیں آتی
دن کٹا جس طرح کٹا لیکن
رات کٹتی نظر نہیں آتی
-
موضوعات : راتاور 1 مزید
رات کاٹے نہیں کٹتی ہے کسی صورت سے
دن تو دنیا کے بکھیڑوں میں گزر جاتا ہے
نہ پایا وقت اے زاہد کوئی میں نے عبادت کا
شب ہجراں ہوئی آخر تو صبح انتظار آئی
شام غم کی سحر نہیں ہوتی
یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی
اے ذکیؔ ہجر کی راتیں نہیں کاٹے کٹتیں
کوئی اچھی سی غزل گاؤ کہ کچھ رات کٹے
سرد رات اپنی نہیں کٹتی کبھی تیرے بغیر
ایسے موسم میں تو اور آگ لگاتی ہے ہوا
یہ لمبی رات یہ بے خوابی یہ کروٹ کروٹ بیتابی
موسم کے بسنتی چھینٹوں نے کیا آگ جگر میں لگائی ہے
ہونٹوں پہ ہنسی پیہم آتے ہوئے شرماتی
اب رات نہیں کٹتی اب نیند نہیں آتی
شام نہیں ڈھلتی کسی صورت رات نہیں کٹتی کسی طور
اب تو بہت دل گھبرائے ہے اب تو بہت یاد آؤ ہو