Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شاعری علم بھی ہے اور فن بھی :عالمی یوم شاعری کے موقع پر

شاعری کا عالمی دن (انگریزی: World Poetry Day) ہر سال 21 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ یونیسکو نے 1999 میں اس دن کو شاعری کا عالمی دن قرار دیا تھا جس کا مقصد شاعروں اور شاعروں کی تخلیقات کو یاد کرنا اور خراج پیش کرنا تھا ۔ آیئے اس موقع کی مناسبت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس شعری انتخاب کو پڑھتے ہیں۔

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے

ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے

کیف بھوپالی

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف

سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

احمد فراز

میں سخن میں ہوں اس جگہ کہ جہاں

سانس لینا بھی شاعری ہے مجھے

تہذیب حافی

بکھری زلفوں نے سکھائی موسموں کو شاعری

جھکتی آنکھوں نے بتایا مے کشی کیا چیز ہے

ندا فاضلی

جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے

احمد سلمان

یہ شاعری یہ کتابیں یہ آیتیں دل کی

نشانیاں یہ سبھی تجھ پہ وارنا ہوں گی

محسن نقوی

شاعری ہے سرمایا خوش نصیب لوگوں کا

بانس کی ہر اک ٹہنی بانسری نہیں ہوتی

ہستی مل ہستی

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فرازؔ

یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے یوں ہے

احمد فراز

شعر سے شاعری سے ڈرتے ہیں

کم نظر روشنی سے ڈرتے ہیں

حبیب جالب

یہی ہم نوا یہی ہم سخن یہی ہم نشاں یہی ہم وطن

مری شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتا ہے کیا؟

کلیم عاجز

شاعری کو مرا اظہار سمجھتا ہے مگر

پردۂ شعر اٹھانا بھی نہیں چاہتا ہے

فرحت احساس

دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا

اور ہم نے شاعری کے سوا کچھ نہیں کیا

اقبال ساجد

وہ گفتگو جو مری صرف اپنے آپ سے تھی

تری نگاہ کو پہنچی تو شاعری ہوئی ہے

عرفان ستار

مرے انگ انگ میں بس گئی

یہ جو شاعری ہے یہ کون ہے

فرحت عباس شاہ

ہمارے پاس یہی شاعری کا سکہ ہے

الٹ پلٹ کے اسی کو چلانا پڑتا ہے

فرحت احساس

میں نے تو تصور میں اور عکس دیکھا تھا

فکر مختلف کیوں ہے شاعری کے پیکر میں

خوشبیر سنگھ شادؔ

جس نے مہ پاروں کے دل پگھلا دیے

وہ تو میری شاعری تھی میں نہ تھا

عبد الحمید عدم

کیا پتا ہو بھی سکے اس کی تلافی کہ نہیں

شاعری تجھ کو گنوایا ہے بہت دن ہم نے

جاں نثار اختر

شاعری پہلے رسولوں کی دعا تھی قیصرؔ

آج اس عہد میں اک شعبدۂ ذات ہوئی

قیصر الجعفری

زبان دل سے کوئی شاعری سناتا ہے

تو سامعین بھلاتے نہیں کلام اس کا

انور شعور
بولیے