Mahirul Qadri's Photo'

ماہر القادری

1906 - 1978 | کراچی, پاکستان

2.6K
Favorite

باعتبار

یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں

غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں

عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے

دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے

اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا

سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی

ابتدا وہ تھی کہ جینے کے لیے مرتا تھا میں

انتہا یہ ہے کہ مرنے کی بھی حسرت نہ رہی

At the start, life prolonged,was my deep desire

now at the end, even for death, I do not aspire

At the start, life prolonged,was my deep desire

now at the end, even for death, I do not aspire

یہی ہے زندگی اپنی یہی ہے بندگی اپنی

کہ ان کا نام آیا اور گردن جھک گئی اپنی

نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے

وہ نکلی دھوپ سایہ جا رہا ہے

from the confines of the veil your face is now being freed

lo sunshine now emerges, the shadows now recede

from the confines of the veil your face is now being freed

lo sunshine now emerges, the shadows now recede

سناتے ہو کسے احوال ماہرؔ

وہاں تو مسکرایا جا رہا ہے

پروانے آ ہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق

محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے

اگر خموش رہوں میں تو تو ہی سب کچھ ہے

جو کچھ کہا تو ترا حسن ہو گیا محدود

یوں کر رہا ہوں ان کی محبت کے تذکرے

جیسے کہ ان سے میری بڑی رسم و راہ تھی