Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Iftikhar Raghib's Photo'

افتخار راغب

1973 | قطر

افتخار راغب کے اشعار

1.4K
Favorite

باعتبار

انکار ہی کر دیجیے اقرار نہیں تو

الجھن ہی میں مر جائے گا بیمار نہیں تو

دن میں آنے لگے ہیں خواب مجھے

اس نے بھیجا ہے اک گلاب مجھے

پڑھتا رہتا ہوں آپ کا چہرہ

اچھی لگتی ہے یہ کتاب مجھے

چند یادیں ہیں چند سپنے ہیں

اپنے حصے میں اور کیا ہے جی

سخت جانی کی بدولت اب بھی ہم ہیں تازہ دم

خشک ہو جاتے ہیں ورنہ پیڑ ہل جانے کے بعد

تم نے رسماً مجھے سلام کیا

لوگ کیا کیا گمان کر بیٹھے

جی چاہتا ہے جینا جذبات کے مطابق

حالات کر رہے ہیں حالات کے مطابق

اس شوخئ گفتار پر آتا ہے بہت پیار

جب پیار سے کہتے ہیں وہ شیطان کہیں کا

راے اس پر مت کرو قائم کوئی

جانتے جس کو نہیں نزدیک سے

اک بڑی جنگ لڑ رہا ہوں میں

ہنس کے تجھ سے بچھڑ رہا ہوں میں

کس کس کو بتاؤں کہ میں بزدل نہیں راغبؔ

اس دور میں مفہوم شرافت ہی الگ ہے

لے جائے جہاں چاہے ہوا ہم کو اڑا کر

ٹوٹے ہوئے پتوں کی حکایت ہی الگ ہے

کیا بتاؤں کہ کتنی شدت سے

تم سے ملنے کو چاہتا ہے جی

ایک موسم کی کسک ہے دل میں دفن

میٹھا میٹھا درد سا ہے مستقل

بے سبب راغبؔ تڑپ اٹھتا ہے دل

دل کو سمجھانا پڑے گا ٹھیک سے

یہ وصل کی رت ہے کہ جدائی کا ہے موسم

یہ گلشن دل ہے کہ بیابان کہیں کا

دل میں کچھ بھی تو نہ رہ جائے گا

جب تری چاہ نکل جائے گی

وہ کہتے ہیں کہ راغبؔ تم نہیں رکھتے خیال اپنا

میں کہتا ہوں کہ ہر دم فکر دامن گیر کس کی ہے

کیا بتاؤں دل میں کس کی یاد کا

ایک کانٹا چبھ رہا ہے مستقل

راغبؔ وہ میری فکر میں خود کو بھی بھول جائیں

ایسی تو کوئی بات نہیں چاہتا تھا میں

تقدیر وفا کا پھوٹ جانا

میں بھولا نہ دل کا ٹوٹ جانا

Recitation

بولیے