Majrooh Sultanpuri's Photo'

مجروح سلطانپوری

1919 - 2000 | ممبئی, ہندوستان

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

اب کارگہ دہر میں لگتا ہے بہت دل

اے دوست کہیں یہ بھی ترا غم تو نہیں ہے

ایسے ہنس ہنس کے نہ دیکھا کرو سب کی جانب

لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں

الگ بیٹھے تھے پھر بھی آنکھ ساقی کی پڑی ہم پر

اگر ہے تشنگی کامل تو پیمانے بھی آئیں گے

  • شیئر کیجیے

بچا لیا مجھے طوفاں کی موج نے ورنہ

کنارے والے سفینہ مرا ڈبو دیتے

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے

ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار

رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

غم حیات نے آوارہ کر دیا ورنہ

تھی آرزو کہ ترے در پہ صبح و شام کریں

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

چاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہ

جفا کے ذکر پہ تم کیوں سنبھل کے بیٹھ گئے

تمہاری بات نہیں بات ہے زمانے کی

  • شیئر کیجیے

کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا

ہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیر بام و در

میرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے

مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحی الٰہی ہے

مذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہے

مجھے یہ فکر سب کی پیاس اپنی پیاس ہے ساقی

تجھے یہ ضد کہ خالی ہے مرا پیمانہ برسوں سے

  • شیئر کیجیے

پارۂ دل ہے وطن کی سرزمیں مشکل یہ ہے

شہر کو ویران یا اس دل کو ویرانہ کہیں

روک سکتا ہمیں زندان بلا کیا مجروحؔ

ہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں

سر پر ہوائے ظلم چلے سو جتن کے ساتھ

اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ

شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی

کبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا

  • شیئر کیجیے

ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ

جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے

زباں ہماری نہ سمجھا یہاں کوئی مجروحؔ

ہم اجنبی کی طرح اپنے ہی وطن میں رہے

Added to your favorites

Removed from your favorites