غم پر شاعری

غم زندگی میں ایک مستقل وجود کی حیثیت سے قائم ہے اس کے مقابلے میں خوشی کی حیثیت بہت عارضی ہے ۔ شاعری میں غمِ دوراں ، غمِ جاناں ، غمِ عشق ، غمِ روزگا جیسی ترکیبیں کثرت کے سا تھ استعمال میں آئی ہیں ۔ شاعری کا یہ حصہ دراصل زندگی کے سچ کا ایک تکلیف دہ بیانیہ ہے۔ ہمارا یہ انتخاب غم اوردکھ کے وسیع ترعلاقے کی ایک چھوٹی سی سیر ہے۔


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

بحر غم سے پار ہونے کے لیے


موت کو ساحل بنایا جائے گا

ایک وہ ہیں کہ جنہیں اپنی خوشی لے ڈوبی


ایک ہم ہیں کہ جنہیں غم نے ابھرنے نہ دیا

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے


غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا

غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں


میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا

غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھی


دیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا

غم دے گیا نشاط شناسائی لے گیا


وہ اپنے ساتھ اپنی مسیحائی لے گیا

غم میں ڈوبے ہی رہے دم نہ ہمارا نکلا


بحر ہستی کا بہت دور کنارا نکلا

غم سے بکھرا نہ پائمال ہوا


میں تو غم سے ہی بے مثال ہوا

غم سے نازک ضبط غم کی بات ہے


یہ بھی دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا

غم عشق ہی نے کاٹی غم عشق کی مصیبت


اسی موج نے ڈبویا اسی موج نے ابھارا

غم عقبیٰ غم دوراں غم ہستی کی قسم


اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا

اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت


یا غم نہ دیا ہوتا یا دل نہ دیا ہوتا

خرد ڈھونڈھتی رہ گئی وجہ غم


مزا غم کا درد آشنا لے گیا

خدا کی دین ہے جس کو نصیب ہو جائے


ہر ایک دل کو غم جاوداں نہیں ملتا

پھر مری آس بڑھا کر مجھے مایوس نہ کر


حاصل غم کو خدا را غم حاصل نہ بنا

رہیں غم کی شرر انگیزیاں یارب قیامت تک


حیاؔ غم سے نہ ملتی گر کبھی فرصت تو اچھا تھا

سچ ہے عمر بھر کس کا کون ساتھ دیتا ہے


غم بھی ہو گیا رخصت دل کو چھوڑ کر تنہا

شربت کا گھونٹ جان کے پیتا ہوں خون دل


غم کھاتے کھاتے منہ کا مزہ تک بگڑ گیا

شکوۂ غم ترے حضور کیا


ہم نے بے شک بڑا قصور کیا

سوائے رنج کچھ حاصل نہیں ہے اس خرابے میں


غنیمت جان جو آرام تو نے کوئی دم پایا

اسے بھی جاتے ہوئے تم نے مجھ سے چھین لیا


تمہارا غم تو مری آرزو کا زیور تھا

زندگی کتنی مسرت سے گزرتی یا رب


عیش کی طرح اگر غم بھی گوارا ہوتا

موضوع