aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saude"
شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیںبنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں
ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئییا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائیبس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہےسب مایا ہےاک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیںجب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیںتب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہےسب مایا ہے
یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرارثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
میں نے کاغذ کھول کے دیکھاکچھ بھی نہ تھاصرف ٹوٹی ٹوٹی چند لکیریں تھیںایسے خط آتے رہتے ہیںنام نہیں ہوتا جن پربات نہیں بنتی لیکنبات بنے گی کیسے؟جب پہلو میں خار لگا ہوآنکھوں میں نم آ بھی چکا ہوجنم جنم کے سودے میں تمسب سے آگے نکل گئے ہوسارے ساتھی چھوٹ گئےغم کے چھالے پھوٹ گئےجینے کی امید نہیں ہےپھر بھی تم اب تک جیتے ہوعمر تمہاری موت سے آگے نکل گئی ہےسناٹے میں جینا کتنا مشکل ہے
رات گئے تک گھایل نغمے کرتے ہیں اعلان یہاںیہ دنیا ہے سنگ دلوں کی کوئی نہیں انسان یہاںعزت والوں کی ذلت کا سب سے بڑا بازار ہے یہچکتے ہیں غیرت کے سودے بکتے ہیں ایمان یہاںبھیک میں بھی مانگو تو کوئی پیار نہ ڈالے جھولی میںبن مانگے مل جاتے ہیں رسوائی کے سامان یہاںزر داروں کو نغموں میں جب جسم دکھائی دیتا ہےایک مہکتی سیج پہ اکثر ٹوٹتی ہے ہر تان یہاںممتا کے ہونٹوں پر جب چاندی کی مہریں لگتی ہیںماں خود اپنی بیٹی کو کر دیتی ہے قربان یہاںاپنا خون ہی بڑھ کر اپنے خون کی بولی دیتا ہےکس نے کس پر ہاتھ بڑھایا کوئی نہیں پہچان یہاںپاپ کے اس مندر میں کیا کیا بھاؤ بتائے رام جنیشام ڈھلے جب آن براجیں سونے کے بھگوان یہاںرات گئے تک جاگے سانولی کالے چوروں کی خاطراور اگر انکار کرے کہلائے نا فرمان یہاںجھلمل کرتی پوشاکوں سے چاہے بدبو آتی ہوخود جل کر محفل کو خوشبو دیتا ہے لوبان یہاں
کسی کاروباری سودے سے پہلےانتخابی مہم کے دوراناور نظم کے وسط میںموت نہیں آنی چاہیئے
مجھ میں آتش جو چھپی ہے اسے بھڑکانے میںوصل سے زیادہ ترے ہجر کی خواہش ہے مجھےجسم اور جان سے آگے بھی کوئی دنیا ہےاور ان راہوں میں تنہا ہی بھٹکنا ہے مجھےاور ان راہوں میں تنہا ہی بھٹکنا ہے مجھےتجھ کو تسخیر بدن کی ہی رہی ہے خواہشاور میں روح کے سودے کے لیے سوچتی ہوںتجھ کو معلوم ہے جو شے بھی میسر آ جائےاس کی پھر قدر کہاں رہتی ہےمیں تجھے سونپ دوں خود کو تو خسارہ ہے بہتڈوبنے کے لیے آنکھوں کا کنارہ ہے بہتکیا یہ ممکن ہے کہ تو رنگ میں بھی رنگ لے اپنےاور دامن پہ مرے داغ بھی کوئی نہ لگےوصل کے بعد تو حیرت میں کمی آتی ہےپھر جنوں خیزی کی شدت میں کمی آتی ہےحیرت عشق کی گم نام مسافر ہوں مجھےایسا رد کر مری حیرت میں اضافہ ہو جائےاور اس عشق کی شدت میں اضافہ ہو جائے
میں ہوں اک ننھا سیاحمیں ہوں اک ننھا سیاحکشتی لے کر لنگر لے کرکشتی بیچ سمندر لے کرمیں گھوموں گا دنیا دنیالندن پیرس قسطنطنیہسیر کروں گا دھیرے دھیرےمیں ڈھونڈوں گا نئے جزیرےمیں ہوں اک ننھا سیاحمیں ہوں اک ننھا سیاحمجھ میں ہے کافی بل بوتامیں ہوں ننھا ابن بطوطہمیں پاکستانی البیلاواسکو ڈی گاما کا چیلاامریکہ کی سیر کروں گاایفریقا کی سیر کروں گامیں ہوں اک ننھا سیاحمیں ہوں اک ننھا سیاحڈھونڈوں گا وہ خطہ کوئینام نہیں ہے جس کا کوئیسخت وہاں کے سودے ہوں گےگھوڑے جیسے پودے ہوں گےرقص کروں گا ان یاروں میںرہتے ہوں گے جو غاروں میںمیں ہوں اک ننھا سیاحمیں ہوں اک ننھا سیاحلکھوں گا میں نیل کے قصےباتیں کرتی چیل کے قصےکانگو اور کٹنگا جا کرجنگل جنگل پتے کھا کرنیلے پتھر لے آؤں گاپریوں کے پر لے آؤں گامیں ہوں اک ننھا سیاحمیں ہوں اک ننھا سیاحراکٹ پر جانا ہے مجھ کوچاند نگر جانا ہے مجھ کواترے گی جب چاند پہ گاڑیچال چلوں گا آڑی آڑیچاند کی مٹی بھر لاؤں گاچاند کے پتھر لاؤں گامیں ہوں اک ننھا سیاحمیں ہوں اک ننھا سیاح
جو صدیاں بچھڑ چکی ہیںمیں ان میں زندہ رہتی ہوںاور مجھے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتیسڑکوں پر تانگے کی ٹاپوں کی صدا اب بھی سنتی ہوںجیسے محو سفر ہوںاور ہوا میرے کانوں میں کچھ راز کہتی ہےپھر کسی گاڑی کے ہارن کی صدا پرچونک جاتی ہوںمیں جنگلوں کو تاراج کر کے سڑکیں بنتے دیکھتی ہوںاور بے جان بدن لیےجنگلوں کے نشان ڈھونڈھتی چلی جاتی ہوںیہ راتوں رات کنکریٹ سے بنتے ہوئے دیو ہیکل پلسڑکوں کو کشادہ کرنے کی خواہش میںتنگ ہوتا ہوا عرصۂ حیاتترقی کی آڑ میںروح کو گھائل کرنے والے سودےقطرہ قطرہ زندگی پینے والےبے بسی سے دہائی دیتے ہوئے انگنت لوگجن کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو روندتے ہوئےبڑے بڑے بلڈوزراور اب تو گٹر کی طرحابلے پڑے ٹریفک کے اس تعفن زدہ ہجوم میںکہیں پٹری کی سانسیں بھی اکھڑ رہی ہیںریل گاڑی کا انجن جانے کہاں رہ گیا ہےچپ چاپ بچھڑی صدیوں میں پناہ لیتے ہوئےمجھے شرمندگی محسوس نہیں ہوتی
رفتہ رفتہمعاف کرنے کا چلنمدھم پڑتا جا رہا ہےکیا تمہیں یقیں نہیںکہبدلتے ہوئے لمحوں کی چکی میںاخلاقیات روایات اور قدریںپس رہی ہیںآجہمارا معاشرہبے غیرتی کے اس سنگم پر کھڑا ہےجہاںعورت کی پاکیزہ کوکھکرائے پر لینے کے لئے سودے بازی ہو رہی ہےہماری بے حسی نےہمارے لبوں پر خاموشی کی مہر ثبت کر رکھی ہےتو اے اہل دلکل کیا ہوگاجب معافی مانگنے کا چلنختم ہو جائے گا
یہ اونچ نیچ یہ نفرت یہ جہل یہ افلاسزمیں پہ کس نے لگائے یہ زہر کے پودےکہ جن کے سائے میں انسانیت سسکتی ہےکہ جن کی چھاؤں میں ہوتے ہیں موت کے سودے
محبت اور تجارت میںیہی اک فرق باقی ہےتجارت کا منافعزرمگر الفت کے سودے میںتجھے پانے سےپر میراخساراہو گیا ہوتا
دل میں زخم ہیں نیر نین میں پھر بھی یہ مسکائیںکومل جسم جو بوڑھے دھن وانوں کی سیج سجائیںبھوک کی ناگن کے ڈر سے دو روٹی میں بک جائیںجسموں کے سودےکتنے سستے آج کی اس مہنگائی میںبدن جلے تنہائی میںبدن جلے تنہائی میں
حسنؔ نامی ہمارے گھر میں اک سقراطؔ گزرا ہےوہ اپنی نفی سے اثبات تک معشر کے پہنچا ہےکہ خون رایگاں کے امر میں پڑنا نہیں ہم کووہ سود حال سے یکسر زیاں کارانہ گزرا ہےطلب تھی خون کی قے کی اسے اور بے نہایت تھیسو فوراً بنت اشعت کا پلایا پی گیا ہوگاوہ اک لمحے کے اندر سرمدیت جی گیا ہوگا
ہر بات کی کھوج تو ٹھیک نہیں تم ہم کو کہانی کہنے دواس نار کا نام مقام ہے کیا اس بات پہ پردا رہنے دوہم سے بھی تو سودا ممکن ہے تم سے بھی جفا ہو سکتی ہےیہ اپنا بیاں ہو سکتا ہے یہ اپنی کتھا ہو ہو سکتی ہےوہ نار بھی آخر پچھتائی کس کام کا ایسا پچھتانا؟اس بستی کے اک کوچے میں اک انشاؔ نام کا دیوانا
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہخودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہیہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےصنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہکیا ہے تو نے متاع غرور کا سودافریب سود و زیاں لا الہ الا اللہیہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوندبتان وھم و گماں لا الہ الا اللہخرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنارینہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہیہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابندبہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہاگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میںمجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
دکن کے ولیؔ نے مجھے گودی میں کھلایاسوداؔ کے قصیدوں نے مرا حسن بڑھایاہے میرؔ کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایامیں داغ کے آنگن میں کھلی بن کے چنبیلی
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
کیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھےیہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیلاے رہين خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیںگونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیلریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خراموہ حضر بے برگ و ساماں وہ سفر بے سنگ و ميلوہ نمود اختر سیماب پا ہنگام صبحیا نمایاں بام گردوں سے جبین جبرئيلوہ سکوت شام صحرا میں غروب آفتابجس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بين خليلاور وہ پانی کے چشمے پر مقام کارواںاہل ایماں جس طرح جنت میں گرد سلسبيلتازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاشاور آبادی میں تو زنجيري کشت و نخيلپختہ تر ہے گردش پیہم سے جام زندگیہے یہی اے بے خبر راز دوام زندگی
سایہ ہو جب اردو کے جنازے پہ ولیؔ کاہوں میر تقیؔ ساتھ تو ہم راہ ہوں سوداؔدفنائیں اسے مصحفیؔ و ناسخؔ و انشاؔیہ فال ہر اک دفتر منظوم سے نکلےاردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books