aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tel"
کچھ ایسا لگتا ہے جس نے بھی ڈائری لکھی ہےوہ شہر آیا ہے گاؤں میں چھوڑ کر کسی کوتلاش میں کام ہی کے شاید:''میں شہر کی اس مشین میں فٹ ہوں جیسے ڈھبری،ضروری ہے یہ ذرا سا پرزہاہم بھی ہے کیوں کہ روز کے روز تیل دے کراسے ذرا اور کس کے جاتا ہے چیف میراوہ روز کستا ہے،روز اک پیچ اور چڑھتا ہے جب نسوں پر،تو جی میں آتا ہے زہر کھا لوںیا بھاگ جاؤں''
اک دیا نام کا یکجہتی کےروشنی اس کی جہاں تک پہنچیقوم کو لڑتے جھگڑتے دیکھاماں کے آنچل میں ہیں جتنے پیوندسب کو اک ساتھ ادھڑتے دیکھادور سے بیوی نے جھلا کے کہاتیل مہنگا بھی ہے ملتا بھی نہیںکیوں دیے اتنے جلا رکھے ہیںاپنے گھر میں نہ جھروکہ نہ منڈیرطاق سپنوں کے سجا رکھے ہیںآیا غصے کا اک ایسا جھونکابجھ گئے سارے دیےہاں مگر ایک دیا نام ہے جس کا امیدجھلملاتا ہی چلا جاتا ہے
ہے جن کنے مہیا پکا پکایا کھاناان کو پلنگ پہ بیٹھے جھڑیوں کا خط اڑاناہے جن کو اپنے گھر میں یاں لون تیل لاناہے سر پہ ان کے پنکھا یا چھاج ہے پراناکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
گر گیا تیز ہواؤں سے اگر طیارہپکڑا جاتا ہے مسلمان یہاں بے چاراکبھی گھورا کبھی تاڑا تو کبھی للکاراکبھی سب وے سے اٹھایا کبھی چھاپہ مارا
پھوڑے پھنسیاں پھوٹیں گے تو کھجلاؤ گےروتے دھوتے ٹیں ٹیں کرتے گھر آؤ گےاوپر سے پھر کڑوے تیل کی مالش ہوگیبارش بارش بارش ہوگی
وقت رٹنے کے لیے کم رہ گیا زیادہ ہے کامسال بھر جن کو نہ دیکھا وہ خلاصے نیک نامسامنے رکھے ہیں ان کو جھک کے کرتے ہیں سلامان کی پوجا ہی میں سارا وقت ہوتا ہے تمامٹیلی ویژن بھی نہیں غائب ہوئے ہیں سارے کھیلڈال کر کولہو میں بچوں کو نکالو ان کا تیل
کیا زندگی ہماریسب کچھ ہے اپنے بس میںآزاد ہیں فضائیںدنیا ہے دسترس میںکیا کیا ہمیں ملا ہےکچھ وقت کچھ برس میںلیکن جو مڑ کے دیکھیںتھی اک عجب کہانیدشوار کیسا جینامشکل تھی زندگانیاک آفت مسلسلآلام ناگہانیروزانہ صبح اٹھناآسان تھا نہ اتناہر روز ڈانٹ کھاناہر روز کا سسکناہر بات کے تماشےہر بات پر جھگڑناابا وہیں کھڑے ہیںاخبار پڑھ رہے ہیںکیا کام ہم کو دے دیںہر وقت سوچتے ہیںاولاد کو تو اپنینوکر سمجھ رہے ہیںامی کے سامنے توبالکل نہ منہ کو کھولیںہم بد تمیز ٹھہرےگو اچھی بات بولیںچپ چاپ ہی رہیں بسکتنا بھی خوار ہو لیںپانی برس رہا ہےپر دل ترس رہا ہےوہ سائیکل کھڑی ہےمانجھا وہیں رکھا ہےکنچے یہاں پڑے ہیںبلا وہاں کھڑا ہےلیکن نہیں ہمیں کیالادے کمر پہ بستہاسکول جا رہے ہیںتاریخ کا ہے پرچہاچھا نہیں ہوا توبس بند جیب خرچہاردو کا کام پوراکل رات کر لیا تھالیکن ہمیں ریاضیبالکل سمجھ نہ آیااللہ کے ہیں بندےہم سے ہے واسطہ کیاامی نے صرف ڈانٹابالوں میں تیل ڈالابھیا نے صرف جھڑکاباجی نے خوب ٹالاسب کے لئے ہے جی میںنفرت کا ایک جالابھیا کی سائیکل کیکس نے ہوا نکالیہم کو بھلا خبر کیاہر شخص ہے سوالیاس نے ہماری چڑیااس دن جو توڑ ڈالیسچ ہے بہت ستم تھاگویا تھے اک کھلوناجیسے ہو سب برابرگھر میں نہ ہونا ہونادیکھا نہیں کسی نےچھپ چھپ ہمارا رونااب ہو گیا ہے اپنا ہر چیز پر اجارہسب اپنی ذمہ داریسب فیصلے ہمارےہر چیز اختیاریلیکن وہ بچپنے کی ہے یاد پیاری پیاریکیا زندگی ہماریکیا زندگی ہماری
بخارا سمرقند اک خال ہندو کے بدلے!بجا ہے بخارا سمرقند باقی کہاں ہیں؟بخارا سمرقند نیندوں میں مدہوشاک نیلگوں خامشی کے حجابوں میں مستوراور رہروؤں کے لیے ان کے در بندسوئی ہوئی مہ جبینوں کی پلکوں کے مانندروسی ''ہمہ اوست'' کے تازیانوں سے معذوردو مہ جبینیں!بخارا سمرقند کو بھول جاؤاب اپنے درخشندہ شہروں کیطہران و مشہد کے سقف و در و بام کی فکر کر لوتم اپنے نئے دور ہوش و عمل کے دل آویز چشموں کواپنی نئی آرزوؤں کے ان خوبصورت کنایوں کومحفوظ کر لو!ان اونچے درخشندہ شہروں کیکوتہ فصیلوں کو مضبوط کر لوہر اک برج و بارو پر اپنے نگہباں چڑھا دوگھروں میں ہوا کے سواسب صداؤں کی شمعیں بجھا دو!کہ باہر فصیلوں کے نیچےکئی دن سے رہزن ہیں خیمہ فگنتیل کے بوڑھے سودا گروں کے لبادے پہن کروہ کل رات یا آج کی رات کی تیرگی میںچلے آئیں گے بن کے مہماںتمہارے گھروں میںوہ دعوت کی شب جام و مینا لڑھائیں گےناچیں گے گائیں گےبے ساختہ قہقہوں ہمہموں سےوہ گرمائیں گے خون محفل!
لرزہ بر اندام ہے صحن زمیں کا عرض و طولہو رہا ہے خاک پر ناپاک روحوں کا نزول
جینے کی کشمکش میں نہ بیکار ڈالیےمیں تھرڈ ڈویژنر ہوں مجھے مار ڈالیےپھر نام اپنا قوم کا معمار ڈالیےڈگری کو میری لیجئے آچار ڈالیےکچھ قوم کا بھلا ہو تو کچھ آپ کا بھلامیرا بھلا ہو کچھ مرے ماں باپ کا بھلاجاتا ہے جس جگہ بھی کوئی تھرڈ ڈویژنرکہتے ہیں سب کہ آ گیا تو کس لیے ادھرتو چل یہاں سے تیری نہ ہوگی یہاں گزرلوح جہاں پہ حرف مکرر ہوں میں مگر''یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے''ہر شخص مجھ کو آنکھ دکھاتا ہے کس لیےمیں پاس ہو گیا ہوں مگر پھر بھی فیل ہوںتعلیم کے اداروں کے ہاتھوں میں کھیل ہوںجس کا نشانہ جائے خطا وہ غلیل ہوںمیں خاک میں ملا ہوا مٹی کا تیل ہوںاور یونیورسٹی بھی نہیں ہے ریفائزیصورت بھی تصفیے کی نہیں کوئی ظاہریاخبار میں نے دیکھا تو مجھ پر ہوا عیاںہوتے ہیں پاس وہ بھی نہ دیں جو کہ امتحاںیعنی کہ آنریری بھی ملتی ہیں ڈگریاںمیں جس زمیں پہ پہنچا وہیں پایا آسماںڈگری ہے اک گناہوں کی تحریر میرے ساتھگر ہو سکے تو مانگ لوں اک عمر کو ادھاراور امتحان جس کا نہیں کوئی اعتباراس امتحاں کی بازی لگاؤں گا بار بارکہتے ہیں لوگ اس کو یہ مچھلی کا ہے شکاریہ امتحان مچھلی پھنسانے کا جال ہے''عالم تمام حلقۂ دام خیال ''ہے
میرا رستہ قبرستان سے ہو کر آگے جاتا ہےاس رستے سے اور بھی لوگ گزر کر آگے جاتے ہیںلیکن میرے ساتھ ہی آخر سائے سے کیوں رہتے ہیںمیرے من میں آخر کیسی ویرانی قبروں کی ہےرات کی خاموشی میں جھینگر کی ہیں کیسی آوازیںکچھ دن سے مٹی کی خوشبوکیوں چپکی ہے سانسوں سےمیرے پاؤں خاک سے لگ کر کس کا ماتم سنتے ہیںمیرا دیواروں کے اندر دم کیوں گھٹنے لگتا ہےمیرے سر پر بوجھ ہے کیوں کتبوں پر لکھے حرفوں کامجھے اگر کی خوشبو کیوں آتی ہے اپنے اندر سےکیوں میری آنکھوں میں کڑوے تیل کا دیپ سا جلتا ہےمیرا سینہ پھولوں سے کیوں بوجھل ہونے لگتا ہےکیوں اس رستے پر چلتے میں خود سے پوچھنے لگتا ہوںمیں قبروں کے اندر ہوںیا قبریں میرے اندر ہیں
ہنسی کل سے مجھے اس بات پر ہے آ رہی خالوکہ خالہ کہہ رہی تھیں آپ کا ہے قافیہ آلواسی دن سے بہت ڈرنے لگا ہوں آپ سے خالہجب امی نے بتایا آپ کا ہے قافیہ بھالااگر پوچھے کوئی کیا قافیہ ہے آپ کا پھپیتو فوراً سامنے رکھ دوں گا لا کر تیل کی کپیاگر شاعر کہیں بے قافیہ ہے لفظ بہنوئیمرے بہنوئی سر پر شاعروں کے مارنا ڈوئیاگر پوچھے کوئی کیا قافیہ ہے آپ کا دادیتو ململ پھینک دینا اوڑھ لینا سر پہ تم کھادیبہت ہے گھومنے کا شوق تم کو اے بڑے بھیانہ مارو تو بتا دوں ہے تمہارا قافیہ پہیاتم اپنا قافیہ خود بن گئی ہو اے میری آپانظر لگ جائے گی تم سر پہ رکھ کر ہو ہو ٹایاتمہارا قافیہ کوئی نہیں ہے اے نحیف امییہی اچھا ہے تم چپکے سے بن جاؤ ردیف امی
حسب نسب ہے نہ تاریخ و جائے پیدائشکہاں سے آیا تھا مذہب نہ ولدیت معلوممقامی چھوٹے سے خیراتی اسپتال میں وہکہیں سے لایا گیا تھا وہاں یہ ہے مرقوممریض راتوں کو چلاتا ہے ''مرے اندراسیر زخمی پرندہ ہے اک، نکالو اسےگلو گرفتہ ہے یہ حبس دم ہے خائف ہےستم رسیدہ ہے مظلوم ہے بچا لو اسے''مریض چیختا ہے درد سے کراہتا ہےیہ وتنام، کبھی ڈومنیکن، کبھی کشمیرزر کثیر، سیہ قومیں، خام معدنیاتکثیف تیل کے چشمے، عوام، استحصالزمیں کی موت بہائم، فضائی جنگ، ستماجارہ داری، سبک گام، دل ربا، اطفالسرود و نغمہ، ادب، شعر، امن، بربادیجنازہ عشق کا، دف کی صدائیں، مردہ خیالترقی، علم کے گہوارے، روح کا مدفنخدا کا قتل، عیاں زیر ناف زہرہ جمالتمام رات یہ بے ربط باتیں کرتا ہےمریض سخت پریشانی کا سبب ہے یہاںغرض کہ جو تھا شکایت کا ایک دفتر تھانتیجہ یہ ہے اسی روز منتقل کرکےاسے اک اور شفا خانے کو روانہ کیاسنا گیا ہے وہاں نفسیات کے ماہرطبیب حاذق و نباض ڈاکٹر کتنےطلب کیے گئے اور سب نے اتفاق کیایہ کوئی ذہنی مرض ہے، مریض نے شایدکبھی پرندہ کوئی پالا ہوگا لیکن وہعدم توجہی یا اتفاق سے یونہیبچارہ مر گیا اس موت کا اثر ہے یہعجیب چیز ہے تحت شعور انساں کایہ اور کچھ نہیں احساس جرم ہے جس نےدل و دماغ پہ قبضہ کیا ہے اس درجہمریض قاتل و مجرم سمجھتا ہے خود کو!کسی کی رائے تھی پسماندہ قوم کا اک فردمریض ہوگا اسی واسطے سیہ قومیںغریب کے لیے اک ٹیبو بن گئیں افسوسکوئی یہ کہتا تھا یہ اصل میں ہے حب وطنمریض چاہتا تھا ہم کفیل ہوں اپنےکسی بھی قوم کے آگے نہ ہاتھ پھیلائیںیہیں پہ تیل کے چشمے ہیں، وہ کریں دریافت!گمان کچھ کو تھا یہ شخص کوئی شاعر ہےجو چاہتا تھا جہاں گردی میں گزارے وقتحسین عورتیں مائل ہوں لطف و عیش رہےقلم کے زور سے شہرت ملے زمانے میںزر کثیر بھی ہاتھ آئے اس بہانے سےمگر غریب کی سب کوششیں گئیں ناکامشکست پیہم و احساس نارسائی نےیہ حال کر دیا مجروح ہوگئے اعصابغرض کہ نکتہ رسی میں گزر گیا سب وقتوہ چیختا ہی رہا درد کی دوا نہ ملینشست بعد نشست اور معائنے شب و روزانہیں میں وقت گزرتا گیا شفا نہ ملیپھر ایک شام وہاں سرمہ در گلو آئیجو اس کے واسطے گویا طبیب حاذق تھیکسی نے پھر نہ سنی درد سے بھری آوازکراہتا تھا جو خاموش ہو گیا وہ ساز
بنیا تو مہوا ہوگااس کے پتوں سے پتل بنتی ہیںرسیلے پھل آنٹے میںمیج کر گجیا بناتے ہیںسکھا کر اس کے پھل دکان پر بیچ دیتے ہیںتیل بھی ملتا ہے مہوے کی کوئیا سےلکڑی تو اس کی بڑے کام آتی ہیں
تمہاری امی نے اپنی عزت کو مرتبانوں میں بند کر کےمکاں کی چھت سے لٹکتے چھینکے میں رکھ دیا تھاتمہاری امی نے بارہا تم سے یہ کہا تھا''اچار کچا ہے' تیل کی بو مٹی نہیں ہےابھی نہ یہ مرتبان کھولوہوا اگر برتنوں میں داخل ہوئی تو الیتمام پھانکوں کا ناس کر دے گی''تم مگر سوچ میں پڑی ہو''نہ جانے امی کو کیا ہوا ہےاچار کی پھانک ہی تو ہے نانہ کوئی ہیرا، نہ کوئی موتی، نہ کوئی سونے کی چیز مانگینہ کوئی کپڑا نہ کوئی لتا نہ کوئی ساڑی''تم اپنی معصوم اور پیاری سی انکھڑیوں میںہزار شکوے لئے یونہی سوچتی رہو گیمگر جو ایک ڈر تمہاری امی کی آنکھ میں آ کے بس گیا ہےاسے کہاں تم سمجھ سکو گیابھی تو تم بچپنے کی سرحد پھلانگنے ہی کی فکر میں ہوابھی تو تم مینڈھیاں بناتی ہو، چوٹیاں کس کے باندھتی ہوکبھی کبھی تم سڑک پہ جا کر جھگڑتے بچوں کو ڈانٹتی ہوتو تم کو چنی کا ہوش ہوتا ہےاور نہ آنکھوں میں ڈر کسی کااگر کبھی تم زبان کا ذائقہ بدلنے کا سوچ ہی لواگر کبھی تم اچار کا مرتبان نیچے اتار ہی لونظر بچا کر اچار باہر نکال ہی لوتو لمحہ بھر کے لئے ٹھہر کر یہ سوچ لیناتمہاری امی نے اپنی عزت کو مرتبانوں میں بند کر کےمکاں کی چھت سے لٹکتے چھینکے میں رکھ دیا تھا
میرے پاسکوئی باغ نہیں ہے دوستکچھ ادھورے خواب ایک بالکنیاور دو تین گملے ہیںجو مجھے دنیا میں درختوں کےباقی رہنے کی وجوہات بتاتے ہیںاور جنگلوں کو جلا دئیے جانے کی خبریں پہنچاتے ہیںمیری بہن میرے کمزور پیروں میںزیتون کے تیل سے جان ڈالنے کی کوشش کرتی ہےماں ہوتی تو وہ بھی یہی کرتیکاش ساری دنیا میںزیتون کے تیل کے کنویں ہوںاور کمزور پیروں میں جان پڑ جائےاور ہم اپنے پیاروں کے ساتھمحبت کے باغ میں روز چہل قدمی کر سکیںایک درخت تمہارے نام کا بھی ہوگامیرے دوستتاکہ ہم ہمیشہ محبت اور شفا یابی کے معجزے میںایک دوسرے کے شریک رہیں
کھو گئی ہیں کام کے اندر کنواری لڑکیاںساتھ وہ ہم جولیاں بھی آئی ہیں جو مہماںایک نازک انگلیوں سے دیوتے دھوتی ہوئیدوسری دھوئے ہوؤں کو چن کے خوش ہوتی ہوئیاور گڑوا تیسری آفت کی پر کالا لیےبتیاں بٹتی ہے چوتھی روئی کا گالا لیےپانچویں ہر سو دیے ترتیب سے دھرتی چلیاور چھٹی بتی سجا کر تیل سے بھرتی چلییہ جھمکا کر چکا آراستہ جب طاق دورصحن سے زینے پہ دوڑا اور پہنچا بام پراوڑھ کر کملی سواد شام نکلا شرق سےجوں ہی رو کاروں پہ چھایا تھوڑے تھوڑے فرق سےشام کا گیسو کھلی آنکھوں پہ جادو کر گیابجھ گئی شمع شفق نظروں میں کہرا بھر گیاطور کا جلوہ چراغوں میں سمٹ کر رہ گیاآنکھ ملنا تھی کہ نظارہ پلٹ کر رہ گیاروشنی میں ساریوں کے رنگ لہرانے لگےمختلف آنچل ہوا کے رخ پہ بل کھانے لگےیہ دیوالی کے مناظر یہ نگاہیں کامیابیا الٰہی تا قیامت بر نہ آید آفتاب
اس ریتیلے بدن کیجھلسی ہوئی رگوں میںہے تیل کا تماشہاور برف کی تہوں میںہے سورجوں کا گریہیا پانیوں کی دہشتیا خشک سالیاں ہیں
آ رہا ہے روز لیلائے گرانی پر شبابتیل کھاتے ہیں جو کل تک دیکھتے تھے گھی کے خوابعام کپڑا مشکلوں سے ہو رہا ہے دستیابشہر میں چینی بھی ملتی ہے تو سونے کے حسابیہ گرانی توڑ دے گی یہ تری دبلی کمراے مرے ہمدم خدا کے واسطے شادی نہ کر
جو چاہتے ہو کہ تم با وقار بن کے رہوتو زندگی میں کفایت شعار بن کے رہودیا ہے رب نے تو بے شک تم اس کو خرچ کرومگر بقدر ضرورت ہو بے حساب نہ ہوہر ایک شے کو برتنے کا اک طریقہ ہےاس طرح سے کفایت بھی اک سلیقہ ہےوہ چاہے تیل ہو بجلی ہو یا کہ پانی ہونہ کوئی چیز ہو ضائع سمجھ کے صرف کروجو شاہ خرچ تھے دنیا میں وہ ذلیل ہوئےجو جانتے تھے کفایت وہ خود کفیل ہوئےبرا نہ ماننا بچو مری نصیحت کاتمہیں کو بوجھ اٹھانا ہے ملک و ملت کا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books