aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zaaviye"
جہاں زادوہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوتجس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہےمحیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زنتمام رات تیرتے رہے تھے ہمہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کےتیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سےکہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہےہم ایک دوسرے سے مطمئن زوال عمر کے خلافتیرتے رہےتو کہہ اٹھی: 'حسن یہاں بھی کھینچ لائیجاں کی تشنگی تجھے!'(لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا میںکہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوںسے شاد کام ہوگیا!)مگر یہ وہم دل میں تیرنے لگا کہ ہو نہ ہومرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیانہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیںکہ اب بھی ربط جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھےیہی وہ اعتبار تھاکہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیامیں سب سے پہلے 'اپ 'ہوںاگر ہمیں ہوں تو ہو اور میں ہوں پھر بھی میںہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!اگر میں زندہ ہوں تو کیسے آپ سے دغا کروں؟کہ تیرے جیسی عورتیں، جہاں زاد،ایسی الجھنیں ہیںجن کو آج تک کوئی نہیں 'سلجھ' سکاجو میں کہوں کہ میں 'سلجھ' سکا تو سر بسرفریب اپنے آپ سے!کہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پرجواب جس کا ہم نہیں(لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکرتیرے لب پہ تھاوہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہالبوں کو نوچتا رہاجو میں کبھی نہ کر سکانہیں یہ سچ ہے میں ہوں یا لبیب ہورقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاط ناب کاجو صد نوا و یک نوا خرام صبح کی طرحلبیب ہر نوائے ساز گار کی نفی سہی!)مگر ہمارا رابطہ وصال آب و گل نہیں، نہ تھا کبھیوجود آدمی سے آب و گل سدا بروں رہےنہ ہر وصال آب و گل سے کوئی جام یا سبو ہی بن سکاجو ان کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے!
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
لب بیاباں، بوسے بے جاںکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟جسم کی یہ کار گاہیںجن کا ہیزم آپ بن جاتے ہیں ہم!نیم شب اور شہر خواب آلودہ، ہمسائےکہ جیسے دزد شب گرداں کوئی!شام سے تھے حسرتوں کے بندۂ بے دام ہمپی رہے تھے جام پر ہر جام ہمیہ سمجھ کر جرعۂ پنہاں کوئیشاید آخر ابتدائے راز کا ایما بنے!مطلب آساں حرف بے معنیتبسم کے حسابی زاویےمتن کے سب حاشیےجن سے عیش خام کے نقش ریا بنتے رہے!اور آخر بعد جسموں میں سر مو بھی نہ تھاجب دلوں کے درمیاں حائل تھے سنگیں فاصلےقرب چشم و گوش سے ہم کون سی الجھن کو سلجھاتے رہے!کون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟شام کو جب اپنی غم گاہوں سے دزدانہ نکل آتے ہیں ہم؟یا زوال عمر کا دیو سبک پا رو بہ رویا انا کے دست و پا کو وسعتوں کی آرزوکون سی الجھن کو سلجھاتے ہیں ہم؟
چھٹپٹے کے غرفے میںلمحے اب بھی ملتے ہیںصبح کے دھندلکے میںپھول اب بھی کھلتے ہیںاب بھی کوہساروں پرسر کشیدہ ہریالیپتھروں کی دیواریںتوڑ کر نکلتی ہےاب بھی آب زاروں پرکشتیوں کی صورت میںزیست کی توانائیزاویے بدلتی ہےاب بھی گھاس کے میداںشبنمی ستاروں سےمیرے خاکداں پر بھیآسماں سجاتے ہیںاب بھی کھیت گندم کےتیز دھوپ میں تپ کراس غریب دھرتی کوزر فشاں بناتے ہیںسائے اب بھی چلتے ہیںسورج اب بھی ڈھلتا ہےصبحیں اب بھی روشن ہیںراتیں اب بھی کالی ہیںذہن اب بھی چٹیل ہیںروحیں اب بھی بنجر ہیںجسم اب بھی ننگے ہیںہاتھ اب بھی خالی ہیںاب بھی سبز فصلوں میںزندگی کے رکھوالےزرد زرد چہروں پرخاک اوڑھے رہتے ہیںاب بھی ان کی تقدیریںمنقلب نہیں ہوتیںمنقلب نہیں ہوں گیکہنے والے کہتے ہیںگردشوں کی رعنائیعام ہی نہیں ہوتیاپنے روز اول کیشام ہی نہیں ہوتی
ہجوم نقوش فراواں کا ہنگاممیں یاد کرتا ہوںآواز چہرہ حسیں جسمسب زاویے دائرے اور قوسیںشب و روزرفتار کی آگ میںموج در موج بہتی ہوئی راگنیدور کی وادیوں میںسر شامدم توڑتی روشنینغمگی روشنی نغمگیتیرگی بے بسی خامشیرنگ و خوشبو سے سرشارصدیوں پرانی زمیںدور جاتا ہوا کارواںجسم آواز کا وحشی بے زباںاک جنوں ایک معکوس برہم سکوںزیر و بم زیر و بماضطراب اضطراباجنبی موسموں کا جہاںفاصلوں سرحدوں سے پرےوسعتوں میں پر افشاںپرندوں بھرا نیلگوں بے کراں نیلگوں آسماں
کل شب عجیب ادا سے تھا اک حسن مہرباںوہ شبنمی گلاب سی رنگت دھلی دھلیشانوں پہ بے قرار وہ زلفیں کھلی کھلیہر خط جسم پیرہن چست سے عیاںٹھہرے بھی گر نگاہ تو ٹھہرے کہاں کہاںہر زاویے میں حسن کا اک تازہ بانکپنہر دائرے میں کھلتے ہوئے پھول کی پھبنآنکھوں میں ڈولتے ہوئے نشے کی کیفیتروئے حسیں پہ ایک شکستہ سی تمکنتہونٹوں پہ ان کہی سی تمنا کی لرزشیںبانہوں میں لمحہ لمحہ سمٹنے کی کاوشیںسینے کے جزر و مد میں سمندر سا اضطرابامڈا ہوا سا جذبۂ بیدار کا عذابخوشبو طواف قامت زیبا کیے ہوئےشیشہ بدن کا عزم زلیخا لیے ہوئےپھر یوں ہوا کہ چھڑ گئی یوسف کی داستاںپھر میں تھا اور پاکئ دامن کا امتحاںاک سانپ بھی تھا آدم و حوا کے درمیاں
جانے کیا ہے موت، کیا ہے زندگیچلتے چلتے کیسے تھم جاتی ہیں تصویریں تمامخاک ہو جاتی ہے پھر سے مشت خاکگاہے گاہے سنگ ہو جاتے ہیں چہروں کے نقوشاپنے اپنے زاویے پر منجمددم بخود رہتے ہیں محو انتظار
مختلف ہیں آئینوں کے زاویےایک لیکن عکس ذات؛اک اکائی پر اسی کی ضرب سےکثرت وحدت کا پیدا ہے طلسمخلوت آئینہ خانہ میں کہیں کوئی نہیںصرف میں!میں ہی بتاور میں ہی بت پرست!میں ہی بزم ذات میں رونق افروزجلوہ ہائے ذات کو دیتا ہوں داد!
انہی گلیوں سے تھی وابستہ نئی فکر کی رہانہیں گلیوں میں معانی کے سبق ملتے تھےوحشت دور سیاست پہ ہوا کرتی تھی بحثاور قلم ہنستے ہوئے زاویے بن جاتے تھے
ان گنت زاویے افکار کے لے آتے ہیںان کھلونوں سے وہ اذہان کو بہلاتے ہیںاپنے کرتب پہ وہ اٹھلاتے ہیں اتراتے ہیںاور موہوم سی تسکین یوں ہی پاتے ہیں
بزعم خویش اپنے دور کے سقراط ثانی ہیںمقدس لوگ ہیں احمد رضا خاںؔ کی نشانی ہیںغلامان رسول اللہ کی تکفیر کرتے ہیںہمیشہ انشراح صدر سے تقریر کرتے ہیںزبان آور ہیں لیکن زاہدہ پروین کی لے ہیںکئی نادر کتابوں کے مصنف ہیں بڑی شے ہیںرعونت سے جبیں میں زہد کے اسرار گھلتے ہیںنگاہوں کے غضب سے سینکڑوں الفاظ کھلتے ہیںتکبر زاویے بنتا ہوا گفتار کی لو میںہزاروں خسروؤں کا دبدبہ رفتار کی رو میںزبان شستہ و رفتہ پہ نستعلیق بولی ہےمصلے پر مرادآباد کے پانوں کی ڈھولی ہےبزعم خویش زہد و اتقا کے بیج بوتے ہیںخدا کے فضل سے حوروں کے شوہر ایسے ہوتے ہیں
وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہےکہ مرا ہاتھ بھی ڈونگے میں اچھی بوٹیوں کو ڈھونڈتا ہےوہی بکراکھڑا رکھا گیا ہے جس کو کونے میں نگاہوں سے چھپا کروہ جس کی زندگی ہے منحصر اس بات پرکہ ہم کھائیں گے کتنااور کتنا چھوڑ دیں گے بس یوں ہی اپنی پلیٹوں میںابھی کچھ دیر پہلے میں کھڑا تھا پاس جس کےاور جس کے زاویے سے دیکھ کر محفل کوآنکھیں ڈبڈبا آئی تھیں میریمگر وہ پل کبھی کا جا چکا تھاکہ اب ہوں میز پر میںاور میرا ہاتھ بھی ڈونگے میں اچھی بوٹیوں کو ڈھونڈتا ہےوہ بکر پھر اکیلا پڑ گیا ہے
تمہارے ہر عمل کو ہمبڑی ایمانداری سے، بڑے انصاف سے رد عمل دیں گےتمہیں یہ علم ہونا چاہیئےکہ آنکھ کے بدلے میں آنکھاور دل کے بدلے دل ہمارا ضابطہ ہےتمہارا حسن ظن ہےسوچ کے ہر زاویے سے سوچناکہ ہم جو پانی پر کھڑے ہیںکس پذیرائی کے قابل ہیںمگر کچھ بھی کرو
میں گیا اس طرفجس طرف نیند تھیجس طرف رات تھیبند مجھ پر ہوئے سارے درسارے گھرمیں گیا اس طرفجس طرف تیر تھےجس طرف گھات تھیمجھ پہ مرکوز تھی اک نگاہ سیہاور عجب زاویے سےبنائے ہوئے تھی مجھےسر سے پا تک ہدفمیں گیا اس طرفجس طرف ریت کی لہر تھیموج ذرات تھیمیں نہیں جانتااس گھڑیتیرگی کے طلسمات میںجو اشارہ ہواکس کی انگلی کا تھااور جو کھولی گئی تھی مرے قلب پرکون سی بات تھیصرف اتنا مجھے یاد ہےجب میں آگے بڑھاایک زنجیر گریہ مرے ساتھ تھی
بانس کی کونپلوں کی طرح رات کی رات بڑھتی ہوئی لڑکیوآئنے کے ہر اک زاویے سے الجھتی ہوئی لڑکیوطشت سیماب جھلکاتی جھکتی ہوئی لڑکیونت نئے موسموں کی طرح مجھ پہ بیتی ہوئی لڑکیومیرے ہونے کو تسلیم کر لو تو آگے بڑھیںخواب در خواب بس ایک ہی خواب ہےمیرے ہونے کا خواببھاگتے راستوں میں کوئی سنگ رفتار پیما بتا دےکہ میں چل رہا تھابھیڑ میں چلتے چلتے اچانک کوئی مجھ کو کہنی سے آگے بڑھا دےکہ میں رہنما تھاکوئی فن کی دیویثریا سے اترےمجھے اپنے اندر سمو لےکوئی میری آنکھوں میں چبھتے ہوئے ذرۂ ریگ کے واسطےاپنے آنچل کا کونا بھگو لےمجھے رشتۂ جسم و جاں میں پرو لےکوئی بس گھڑی دو گھڑی ساتھ ہو لےیا مجھے قلزم خود فراموشی ماورا میں ڈبو لےخواب در خواب بس ایک ہی خواب ہےمیرے ہونے کا خوابسانولی لڑکیو چمپئی لڑکیو نت نئی لڑکیومیرے ہونے کو تسلیم کر لو تو آگے بڑھیںکون جانے درختوں کے پیچھے نئی خوشبوئیںراستے بھر ہمارا سواگت کریںکون جانے کہ آہٹ سے ڈرتی ہوئی پھڑپھڑاتی ہوئی فاختائیںہمارے سروں پر سپر تان دیںاور ہم سرسراتے ہوئے آنچلوں کی ہوا اوڑھ کر سو رہیںیا مری جان جاںکون جانے کہ آتے دنوں میں کسی روز اندھی سڑک پرکسی چیختے بھونکتے کالے کتے سے ڈرتے ہوئےہم اچانک کہیں آ ملیںاجنبی راستوں کی طرف چل پڑیںذہن میں خواب کا سلسلہ پھیلتا ہوآنکھ میں نیند کا ذائقہ تیرتا ہو
ہر رنگ میں خوب صورتہر ڈھنگ میں بے مثالتم مجھے رنگ زاویےقد کاٹھ سے مت ماپومیرے دماغ کے روبرو آؤمیں تمہارے برابر نہیںتم سے بہتر ہوںمیں عورت ہوں
میں نے دکھ نہیں دیکھامیں نے کچھ نہیں دیکھامیں نے سکھ نہیں دیکھامیں نے کچھ نہیں دیکھادنیا میری ہتھیلی سے باہر کیا رہی ہوگی میں نے دیکھازمین پر شاید سیلاب آیا تھامیں نے دیکھا کہ دھوپ چونکیاور بھاگ کر درختوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئی اس کا رنگ فق تھااور اس کی عمر تیرہ برس سے زیادہ نہ تھیسیلاب نے اس کے پاؤں چھو لئے اسے پھر بھی یقین نہیں آیاجیسے کہہ رہی ہوجاؤ مجھے اپنے یقینی پر کبھی یقین نہیں آیابے ایمان آدمی کی طرحمیں بے یقین ہوںیہ لوگ کہانی سناتے سناتے رک جاتے ہیںاور خاموشی کو سناتے سناتے رک جاتے ہیںجیسے تیر آرزو ہوا اور پرندہ چھدے ہوئے ترچھے زاویے بنا کرزن سے گزر گئے ہوںاور جیسے ان سب کو ایک نظر میں سب نے دیکھ لیا ہوجن سمندروں پر یہ پرندے گریں گےوہاں بہت شور ہوگااور لوگ کہانیوں کو امانت کر کے دریا میں بہا دیتے ہوں گےیہ لوگ تمباکو کے پتوں میں اپنے دل لپیٹ کر بو دیتے ہوں گے
اور بساط خیال بے پایاںاور معین حدود شرح و بیاںتیز رفتار گردش حالاتاور آہستگیٔ عمر رواںاجنبیت کا مستقل اک بوجھاور شناسائیوں کا بار گراںعقل کی خامی نارسی دل کیاور تصور شکن حقیقت جاںمختلف ہر وجود پیش نظراور امکان وحدت امکاںفکر عقدہ کشائیوں پہ مصراور سر رشتے ہی کا خود فقداںانتہا سلسلوں کی نا معلوماور ہر لمحہ سلسلۂ جنباںمتواتر مراحل تعلیماور مسلسل مدارج نسیاںشعبہ ہائے خیال بے تمئیزاور بحر شناخت مہر و نشاںچار جانب صراحتوں کا ہجوماور بحر رموز بے پایاںسیل بیروں رواں بطرز دگراور جوئے اندروں الگ سی رواںایک کھوئی ہوئی فضائے حیاتاور احساس و فکر سب غلطاںاور سانسوں کی رہ گزر پہ ہجوماور آنکھوں کی رہ گزر ویراں
تمہارے بعد کیا ہواتمہیں تو کچھ خبر نہیںغموں نے زندگی کے سارے زاویے بدل دئےمری تمام خواہشوں کے حوصلے کچل دئےمری تو ساری عمر ہی اسی میں کٹ کے رہ گئیاداسیوں کی بھیڑ میںسفر کی تیز دھوپ میںخوشی کی کوئی بزم ہو کہ غم کا سلسلہ کہیںمیں ہر جگہ تمہیں فقط تمہیں تلاشتا رہامگر نہ جانے کیا ہوامیں تھک گیامیں تھک گیا تمہارے نقش پا تلاشتے ہوئےمیں تھک گیا ہوں اس بدن میں جان ڈالتے ہوئےیہ سوچتا ہوںزندگی کے بوجھ کو میں اب نہیں اٹھاؤں گابھلے تمہیں خبر نہ ہومیں تم کو بھول جاؤں گا
تیرے ہاتھوں میں پیوستمیخوں سے بہتا لہوکور آنکھوں پہ چھڑکاتو پلکوں کی چلمن سےتا حد امکاںبصارت کے ہر زاویے پرعجب نور کی دھاریاںتہہ بہ تہہ تیرگی کی روا چیرتیان گنت مشعلیںآگہی کے دریچوں میںعرفان کے آئینوں میںدمکنے لگیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books