آبلہ پر شاعری

ایک شاعر دو سطحوں پر زندگی گزارتا ہے . ایک تو وہ جسے اس کی مادی زندگی کا نام دیا جا سکتا ہے اور دوسری تخلیق اور تخیل کی سطح پر ۔ یہ دوسری زندگی اس کی اپنی بھی ہوتی ہے اور ساتھ ہی اس کے ذریعے تخلیق کئے جانے والے کرداروں کی بھی ۔ آبلہ پائی اس کی اسی دوسری زندگی کا مقدر ہے ۔ کلاسیکی شاعری میں عاشق کو خانماں خراب ہونا ہی ہوتا ہے ، وہ بیابانوں کی خاک اڑاتا ہے ، گریباں چاک کرتا ہے . ہجرکی یہ حالتیں ہی اس کے لئے عشق کی معراج ہوتی ہیں ۔ جدید شعری تجربے میں آبلہ پائی دکھ کے ایک وسیع استعارے کے طور پر بھی برتا گیا ہے ۔

دونوں کا ملنا مشکل ہے دونوں ہیں مجبور بہت

اس کے پاؤں میں مہندی لگی ہے میرے پاؤں میں چھالے ہیں

عمیق حنفی

شکوۂ آبلہ ابھی سے میرؔ

ہے پیارے ہنوز دلی دور

میر تقی میر

سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی دیتے

بہر صورت ہمیں ان آبلوں کو پھوڑ دینا تھا

انجم عرفانی

آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا

ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

مینا کماری ناز

کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رب

اک آبلہ پا وادی پر خار میں آوے

مرزا غالب

تیز رکھیو سر ہر خار کو اے دشت جنوں

شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد

منور خان غافل

ہے جب تک دشت پیمائی سلامت

رہے گی آبلہ پائی سلامت

حجاب عباسی

جب اس میں خوں رہا نہ تو یہ دل کا آبلہ

ہو خشک جیسے دانۂ انگور رہ گیا

مصحفی غلام ہمدانی

اک آبلہ تھا سو بھی گیا خار غم سے پھٹ

تیری گرہ میں کیا دل اندوہ گیں رہا

شاہ نصیر

لگائی کس بت مے نوش نے ہے تاک اس پر

سبو بہ دوش ہے ساقی جو آبلہ دل کا

شاہ نصیر

خوش ہیں تو پھر مسافر دنیا نہیں ہیں آپ

اس دشت میں بس آبلہ پائی ہے روئیے

عباس قمر

دل کے ہر جزو میں جدائی ہے

درد اٹھے آبلہ اگر بیٹھے

قلق میرٹھی