عاجزی پر اشعار
عاجزی زندگی گزارنے کی
ایک صفت ہے جس میں آدمی اپنی ذات میں خود پسندی کا شکار نہیں ہوتا۔ شاعری میں عاجزی اپنی بیشتر شکلوں میں عاشق کی عاجزی ہے جس کا اظہار معشوق کے سامنے ہوتا ہے ۔ معشوق کے سامنے عاشق اپنی ذات کو مکمل طور پر فنا کردیتا اور یہی عاشق کے کردار کی بڑائی ہے ۔
کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے
نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں کرم کرنے والے کی بے نیازی اور فیاضی کو مرکز بنا کر نیاز مند کی کیفیت بیان ہوئی ہے۔ جب عطا کرنے والا خود کسی کا محتاج نہیں اور پھر بھی بھرپور کرم کرتا ہے، تو مانگنے والے کی نیازمندی عیب نہیں رہتی۔ ایسی صورت میں عاجزی ایک باوقار نسبت بن جاتی ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ سچی بخشش کے سامنے جھکنا بھی باعثِ فخر ہے۔
مجھ کو سادات کی نسبت کے سبب میرے خدا
عاجزی دینا تکبر کی ادا مت دینا
زندہ رکھیں بزرگوں کی ہم نے روایتیں
دشمن سے بھی ملے تو ملے عاجزی سے ہم
اشک اگر سب نے لکھے میں نے ستارے لکھے
عاجزی سب نے لکھی میں نے عبادت لکھا
غرور بھی جو کروں میں تو عاجزی ہو جائے
خودی میں لطف وہ آئے کہ بے خودی ہو جائے
مرتبہ آج بھی زمانے میں
پیار سے عاجزی سے ملتا ہے
اس طرح منسلک ہوا اردو زبان سے
ملتا ہوں اب سبھی سے بڑی عاجزی کے ساتھ
کوئی خود سے مجھے کمتر سمجھ لے
یہ مطلب بھی نہیں ہے عاجزی کا
عاجزی آج ہے ممکن ہے نہ ہو کل مجھ میں
اس طرح عیب نکالو نہ مسلسل مجھ میں
بندشوں کو توڑنے کی کوششیں کرتی ہوئی
سر پٹکتی لہر تیری عاجزی اچھی لگی
عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ
دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی
اب دیکھنا ہے مجھ کو ترے آستاں کا ظرف
سر کو جھکا رہا ہوں بڑی عاجزی کے ساتھ
عجز کے ساتھ چلے آئے ہیں ہم یزدانیؔ
کوئی اور ان کو منا لینے کا ڈھب یاد نہیں
کسی کے راستے کی خاک میں پڑے ہیں ظفرؔ
متاع عمر یہی عاجزی نکلتی ہے
رگڑی ہیں ایڑیاں تو ہوئی ہے یہ مستجاب
کس عاجزی سے کی ہے دعا کچھ نہ پوچھئے
منت و عاجزی و زاری و آہ
تیرے آگے ہزار کر دیکھا
عاجزی کہنے لگی گر ہو بلندی کی طلب
دل جھکا دائرۂ نعرۂ تکبیر میں آ
پیڑ ہو یا کہ آدمی غائرؔ
سر بلند اپنی عاجزی سے ہوا
او آنکھ بدل کے جانے والے
کچھ دھیان کسی کی عاجزی کا
چلاؤں گا تیشہ میں اب عاجزی کا
انا اس کی مسمار ہو کر رہے گی
برائے اہل جہاں لاکھ کج کلاہ تھے ہم
گئے حریم سخن میں تو عاجزی سے گئے
کبھی تھی وہ غصہ کی چتون قیامت
کبھی عاجزی سے منانا کسی کا
خدایا عاجزی سے میں نے مانگا کیا ملا کیا
اثر میری دعاؤں کا یہ الٹا کیوں ہوا ہے
اس عاجزی سے کیا اس نے میرے سر کا سوال
خود اپنے ہاتھ سے تلوار توڑ دی میں نے
وہ منائے گا جس سے روٹھے ہو
ہم کو منت سے عاجزی سے غرض
یہ نقش خوش نما دراصل نقش عاجزی ہے
کہ اصل حسن تو اندیشۂ بہزاد میں ہے