عیب شاعری

ہمارے عیب نے بے عیب کر دیا ہم کو

یہی ہنر ہے کہ کوئی ہنر نہیں آتا

مرزارضا برق ؔ

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

بہادر شاہ ظفر

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے

میر تقی میر

حسن یہ ہے کہ دل ربا ہو تم

عیب یہ ہے کہ بے وفا ہو تم

جلیل مانک پوری

خوش نصیبی میں ہے یہی اک عیب

بد نصیبوں کے گھر نہیں آتی

رسا جالندھری

ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے

اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

قتیل شفائی

سب کی طرح تو نے بھی مرے عیب نکالے

تو نے بھی خدایا مری نیت نہیں دیکھی

شہزاد احمد

دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیں

کوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں

باقی صدیقی

کسی کے عیب چھپانا ثواب ہے لیکن

کبھی کبھی کوئی پردہ اٹھانا پڑتا ہے

اظہر عنایتی

اک دن وہ میرے عیب گنانے لگا فراغؔ

جب خود ہی تھک گیا تو مجھے سوچنا پڑا

فراغ روہوی

میں اس کے عیب اس کو بتاتا بھی کس طرح

وہ شخص آج تک مجھے تنہا نہیں ملا

اعجاز وارثی

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا

انجم عرفانی

سچ ہے اس ایک پردے میں چھپتے ہیں لاکھ عیب

یعنی جناب شیخ کی داڑھی دراز ہے

حفیظ جونپوری

قائمؔ میں اختیار کیا شاعری کا عیب

پہنچا نہ کوئی شخص جب اپنے ہنر تلک

قائم چاندپوری

ہمارے عیب میں جس سے مدد ملے ہم کو

ہمیں ہے آج کل ایسے کسی ہنر کی تلاش

ناطق گلاوٹھی