ADVERTISEMENT

اشعار پرحیا

اردو شاعری کا محبوب

بڑی متضاد صفات سے گندھا ہوا ہے ۔ وہ مغرور بھی ہے اور حیا دار بھی ۔ شرماتا ہے توایسا کہ نظر نہیں اٹھاتا ۔ اس کی شرماہٹ کی دلچسپ صورتوں کو شاعروں نے مبالغہ آمیز انداز میں بیان کیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور لطف اٹھائیے ۔

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا

حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

اکبر الہ آبادی

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

علامہ اقبال

عشوہ بھی ہے شوخی بھی تبسم بھی حیا بھی

ظالم میں اور اک بات ہے اس سب کے سوا بھی

اکبر الہ آبادی

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے

دو زہر کے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے

اختر شیرانی
ADVERTISEMENT

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

امیر مینائی

برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہے

ہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہے

حسرتؔ موہانی

تنہا وہ آئیں جائیں یہ ہے شان کے خلاف

آنا حیا کے ساتھ ہے جانا ادا کے ساتھ

جلیل مانک پوری

پہلے تو میری یاد سے آئی حیا انہیں

پھر آئنے میں چوم لیا اپنے آپ کو

شکیب جلالی
ADVERTISEMENT

شکر پردے ہی میں اس بت کو حیا نے رکھا

ورنہ ایمان گیا ہی تھا خدا نے رکھا

شیخ ابراہیم ذوقؔ

او وصل میں منہ چھپانے والے

یہ بھی کوئی وقت ہے حیا کا

حسن بریلوی

کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیا

ہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیا

بیخود بدایونی

حیا سے حسن کی قیمت دو چند ہوتی ہے

نہ ہوں جو آب تو موتی کی آبرو کیا ہے

نامعلوم
ADVERTISEMENT

غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے

گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے

مرزا غالب