مجروح سلطانپوری

  • 1919-2000

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

ہندوستان کے ممتاز ترین ترقی پسند غزل گو شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار۔ دادا صاحب پھالکے اعزاز سے سرفراز

info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

اب کارگہ دہر میں لگتا ہے بہت دل


اے دوست کہیں یہ بھی ترا غم تو نہیں ہے

ایسے ہنس ہنس کے نہ دیکھا کرو سب کی جانب


لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں

الگ بیٹھے تھے پھر بھی آنکھ ساقی کی پڑی ہم پر


اگر ہے تشنگی کامل تو پیمانے بھی آئیں گے

بچا لیا مجھے طوفاں کی موج نے ورنہ


کنارے والے سفینہ مرا ڈبو دیتے

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے


ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار


رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

غم حیات نے آوارہ کر دیا ورنہ


تھی آرزو کہ ترے در پہ صبح و شام کریں

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ


چاک کئے ہیں ہم نے عزیزو چار گریباں تم سے زیادہ

جفا کے ذکر پہ تم کیوں سنبھل کے بیٹھ گئے


تمہاری بات نہیں بات ہے زمانے کی

کوئی ہم دم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا


ہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا

میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیر بام و در


میرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے

مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحی الٰہی ہے


مذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہے

مجھے یہ فکر سب کی پیاس اپنی پیاس ہے ساقی


تجھے یہ ضد کہ خالی ہے مرا پیمانہ برسوں سے

پارۂ دل ہے وطن کی سرزمیں مشکل یہ ہے


شہر کو ویران یا اس دل کو ویرانہ کہیں

روک سکتا ہمیں زندان بلا کیا مجروحؔ


ہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں

سر پر ہوائے ظلم چلے سو جتن کے ساتھ


اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ

شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی


کبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیا

ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ


جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے

زباں ہماری نہ سمجھا یہاں کوئی مجروحؔ


ہم اجنبی کی طرح اپنے ہی وطن میں رہے

comments powered by Disqus