Abbas Tabish's Photo'

عباس تابش

1961 | لاہور, پاکستان

اہم پاکستانی شاعر جو مشاعروں میں بھی مقبول ہیں

اہم پاکستانی شاعر جو مشاعروں میں بھی مقبول ہیں

عباس تابش کی ٹاپ ٢٠ شاعری

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

جس سے پوچھیں ترے بارے میں یہی کہتا ہے

خوب صورت ہے وفادار نہیں ہو سکتا

اگر یونہی مجھے رکھا گیا اکیلے میں

بر آمد اور کوئی اس مکان سے ہوگا

مصروف ہیں کچھ اتنے کہ ہم کار محبت

آغاز تو کر لیتے ہیں جاری نہیں رکھتے

جھونکے کے ساتھ چھت گئی دستک کے ساتھ در گیا

تازہ ہوا کے شوق میں میرا تو سارا گھر گیا

محبت ایک دم دکھ کا مداوا کر نہیں دیتی

یہ تتلی بیٹھتی ہے زخم پر آہستہ آہستہ

بولتا ہوں تو مرے ہونٹ جھلس جاتے ہیں

اس کو یہ بات بتانے میں بڑی دیر لگی

یہ زندگی کچھ بھی ہو مگر اپنے لئے تو

کچھ بھی نہیں بچوں کی شرارت کے علاوہ

میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر

سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے

میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو

سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے

نہ خواب ہی سے جگایا نہ انتظار کیا

ہم اس دفعہ بھی چلے آئے چوم کر اس کو

تم مانگ رہے ہو مرے دل سے مری خواہش

بچہ تو کبھی اپنے کھلونے نہیں دیتا

وقت لفظوں سے بنائی ہوئی چادر جیسا

اوڑھ لیتا ہوں تو سب خواب ہنر لگتا ہے

ان آنکھوں میں کودنے والو تم کو اتنا دھیان رہے

وہ جھیلیں پایاب ہیں لیکن ان کی تہہ پتھریلی ہے

ایک محبت اور وہ بھی ناکام محبت

لیکن اس سے کام چلایا جا سکتا ہے

پس غبار بھی اڑتا غبار اپنا تھا

ترے بہانے ہمیں انتظار اپنا تھا

میں اسے دیکھ کے لوٹا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں

شہر کا شہر مجھے دیکھنے آیا ہوا ہے

یہ تو اب عشق میں جی لگنے لگا ہے کچھ کچھ

اس طرف پہلے پہل گھیر کے لایا گیا میں

تابشؔ جو گزرتی ہی نہیں شام کی حد سے

سوچیں تو وہیں رات سحر خیز بہت ہے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI