ماں شاعری

ماں سے محبت کا جذبہ جتنے پر اثر طریقے سے غزلوں مںا برتا گاگ اتنا کسی اور صنف مں نہںر ۔ ہم ایسے کچھ منتخب اشعار آپ تک پہنچا رہے ہں جو ماں کو موضوع بناتے ہںی ۔ ماں کے پاار، اس کی محبت ، شفقت اور اپنے بچوں کے لئے اس کی جانثاری کو واضح کرتے ہںے۔ یہ اشعار جذبے کی جس شدت اور احساس کی جس گہرائی سے کہے گئے ہںف اس سے متاثر ہوئے بغر آپ نہں رہ سکتے ۔ ان اشعار کو پڑھئے اور ماں سے محبت کرنے والوں کے درماےن شئرا کجئے ۔

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے

میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

منور رانا

دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں

کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

افتخار عارف

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا

میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

منور رانا

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

منور رانا

اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے

ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

منور رانا

کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں

یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے

منور رانا

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

عباس تابش

جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے

ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

منور رانا

منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا

جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

منور رانا

تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک

مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی

منور رانا

برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر

ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے

منور رانا

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت

ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت

الطاف حسین حالی

سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا

ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا

احمد سلمان

ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے

آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے

انجم سلیمی

طفل میں بو آئے کیا ماں باپ کے اطوار کی

دودھ تو ڈبے کا ہے تعلیم ہے سرکار کی

اکبر الہ آبادی

کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں

ٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے

سراج فیصل خان

یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا

میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے

منور رانا

دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن

ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے

منور رانا

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں

مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں

قیصر الجعفری

ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج

ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے

کیف بھوپالی

میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں

صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا

منور رانا

مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل

مدتوں بعد ہمیں نیند سہانی آئی

اقبال اشہر

آج پھر ماں مجھے مارے گی بہت رونے پر

آج پھر گاؤں میں آیا ہے کھلونے والا

نامعلوم

اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے

دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

تنویر سپرا

دور رہتی ہیں سدا ان سے بلائیں ساحل

اپنے ماں باپ کی جو روز دعا لیتے ہیں

محمد علی ساحل

اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر

میری شہ رگ پہ مری ماں کی دعا رکھی تھی

نظیر باقری

بچے فریب کھا کے چٹائی پہ سو گئے

اک ماں ابالتی رہی پتھر تمام رات

نامعلوم

ماں خواب میں آ کر یہ بتا جاتی ہے ہر روز

بوسیدہ سی اوڑھی ہوئی اس شال میں ہم ہیں

منور رانا

شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاں

ماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگا

منور رانا

شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے

کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

اسلم کولسری

روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں

ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں

انجم سلیمی

ایک لڑکا شہر کی رونق میں سب کچھ بھول جائے

ایک بڑھیا روز چوکھٹ پر دیا روشن کرے

عرفان صدیقی

بوسے بیوی کے ہنسی بچوں کی آنکھیں ماں کی

قید خانے میں گرفتار سمجھئے ہم کو

فضیل جعفری

جب چلی ٹھنڈی ہوا بچہ ٹھٹھر کر رہ گیا

ماں نے اپنے لعل کی تختی جلا دی رات کو

سبط علی صبا

گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم

ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی

افتخار عارف

ماں نے لکھا ہے خط میں جہاں جاؤ خوش رہو

مجھ کو بھلے نہ یاد کرو گھر نہ بھولنا

اجمل اجملی

بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے

ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک

نواز دیوبندی

بہن کی التجا ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے

وفائے دوستاں بہر مشقت ساتھ چلتی ہے

سید ضمیر جعفری

ماں مجھے دیکھ کے ناراض نہ ہو جائے کہیں

سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر ہوتا ہے

انجم رہبر

سامنے ماں کے جو ہوتا ہوں تو اللہ اللہ

مجھ کو محسوس یہ ہوتا ہے کہ بچہ ہوں ابھی

محفوظ الرحمان عادل

اب اک رومال میرے ساتھ کا ہے

جو میری والدہ کے ہاتھ کا ہے

سید ضمیر جعفری

شاید یوں ہی سمٹ سکیں گھر کی ضرورتیں

تنویرؔ ماں کے ہاتھ میں اپنی کمائی دے

تنویر سپرا

ہوا دکھوں کی جب آئی کبھی خزاں کی طرح

مجھے چھپا لیا مٹی نے میری ماں کی طرح

نامعلوم

وہ لمحہ جب مرے بچے نے ماں پکارا مجھے

میں ایک شاخ سے کتنا گھنا درخت ہوئی

حمیرا رحمان

میں اوجھل ہو گئی ماں کی نظر سے

گلی میں جب کوئی بارات آئی

شہناز نبی

گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا

غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے

نامعلوم

میں نے ماں کا لباس جب پہنا

مجھ کو تتلی نے اپنے رنگ دیے

فاطمہ حسن

بوڑھی ماں کا شاید لوٹ آیا بچپن

گڑیوں کا انبار لگا کر بیٹھ گئی

ارشاد خان سکندر

شام ڈھلے اک ویرانی سی ساتھ مرے گھر جاتی ہے

مجھ سے پوچھو اس کی حالت جس کی ماں مر جاتی ہے

نامعلوم

کہو کیا مہرباں نا مہرباں تقدیر ہوتی ہے

کہا ماں کی دعاؤں میں بڑی تاثیر ہوتی ہے

انجم خلیق