عورت شاعری

عورت کو موضوع بنانے والی شاعری عورت کے حسن ، اس کی صنفی خصوصیات ، اس کے تئیں اختیار کئے جانے والے مرداساس سماج کے رویوں اور دیگر بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔ عورت کی اس کتھا کے مختلف رنگوں کو ہمارے اس انتخاب میں دیکھئے ۔

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

اسرار الحق مجاز

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے

میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

منور رانا

دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں

کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

افتخار عارف

ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا

جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں

بشیر بدر

کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں

یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے

منور رانا

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

عباس تابش

بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے

میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے

اسرار الحق مجاز

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

ساحر لدھیانوی

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو

سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

حمیدہ شاہین

بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں

اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

افتخار عارف

سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا

ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا

احمد سلمان

عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا

اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے

تنویر سپرا

شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس

رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

منیر نیازی

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ

مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ

ساجد سجنی

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

علامہ اقبال

عورت اپنا آپ بچائے تب بھی مجرم ہوتی ہے

عورت اپنا آپ گنوائے تب بھی مجرم ہوتی ہے

نیلما سرور

ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی

دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی

زہرا نگاہ

گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں

لڑکیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیں

منور رانا

تمام پیکر بدصورتی ہے مرد کی ذات

مجھے یقیں ہے خدا مرد ہو نہیں سکتا

فرحت احساس

یہ عورتوں میں طوائف تو ڈھونڈ لیتی ہیں

طوائفوں میں انہیں عورتیں نہیں ملتیں

مینا نقوی

روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں

ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں

انجم سلیمی

اچھی خاصی رسوائی کا سبب ہوتی ہے

دوسری عورت پہلی جیسی کب ہوتی ہے

ف س اعجاز

عورتیں کام پہ نکلی تھیں بدن گھر رکھ کر

جسم خالی جو نظر آئے تو مرد آ بیٹھے

فرحت احساس

عورت کے خدا دو ہیں حقیقی و مجازی

پر اس کے لیے کوئی بھی اچھا نہیں ہوتا

زہرا نگاہ

یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک

مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں

اکبر الہ آبادی

ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ

وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے

شکیل جمالی

تم بھی آخر ہو مرد کیا جانو

ایک عورت کا درد کیا جانو

سیدہ عرشیہ حق

تو آگ میں اے عورت زندہ بھی جلی برسوں

سانچے میں ہر اک غم کے چپ چاپ ڈھلی برسوں

حبیب جالب

عورت ہو تم تو تم پہ مناسب ہے چپ رہو

یہ بول خاندان کی عزت پہ حرف ہے

سیدہ عرشیہ حق

ہے کامیابیٔ مرداں میں ہاتھ عورت کا

مگر تو ایک ہی عورت پہ انحصار نہ کر

عزیز فیصل

مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے

لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

قتیل شفائی

خدا نے گڑھ تو دیا عالم وجود مگر

سجاوٹوں کی بنا عورتوں کی ذات ہوئی

عبد الحمید عدم

خود پہ یہ ظلم گوارا نہیں ہوگا ہم سے

ہم تو شعلوں سے نہ گزریں گے نہ سیتا سمجھیں

بلقیس ظفیر الحسن

عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں

اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں

فرحت زاہد

دیکھ کر شاعر نے اس کو نکتۂ حکمت کہا

اور بے سوچے زمانہ نے اسے عورت کہا

شاد عارفی

قصۂ آدم میں ایک اور ہی وحدت پیدا کر لی ہے

میں نے اپنے اندر اپنی عورت پیدا کر لی ہے

فرحت احساس

زمانے اب ترے مد مقابل

کوئی کمزور سی عورت نہیں ہے

فریحہ نقوی

نکل کے خلد سے ان کو ملی خلافت ارض

نکالے جانے کی تہمت ہمارے سر آئی

نامعلوم

شو کیس میں رکھا ہوا عورت کا جو بت ہے

گونگا ہی سہی پھر بھی دل آویز بہت ہے

کرشن ادیب

ان کو بھی ترے عشق نے بے پردہ پھرایا

جو پردہ نشیں عورتیں رسوا نہ ہوئیں تھیں

مصحفی غلام ہمدانی

جس کو تم کہتے ہو خوش بخت سدا ہے مظلوم

جینا ہر دور میں عورت کا خطا ہے لوگو

رضیہ فصیح احمد

بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے

اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے

ثروت زہرا

عورتوں کی آنکھوں پر کالے کالے چشمے تھے سب کی سب برہنہ تھیں

زاہدوں نے جب دیکھا ساحلوں کا یہ منظر لکھ دیا گناہوں میں

زبیر رضوی

جوان گیہوں کے کھیتوں کو دیکھ کر رو دیں

وہ لڑکیاں کہ جنہیں بھول بیٹھیں مائیں بھی

کشور ناہید

مٹی پہ نمودار ہیں پانی کے ذخیرے

ان میں کوئی عورت سے زیادہ نہیں گہرا

ثروت حسین