Ameer Imam's Photo'

امیر امام

1984 | سنبھل, ہندوستان

ہندوستانی غزل کی نئی نسل کی ایک روشن آواز

ہندوستانی غزل کی نئی نسل کی ایک روشن آواز

دھوپ میں کون کسے یاد کیا کرتا ہے

پر ترے شہر میں برسات تو ہوتی ہوگی

اپنی طرف تو میں بھی نہیں ہوں ابھی تلک

اور اس طرف تمام زمانہ اسی کا ہے

وہ معرکہ کہ آج بھی سر ہو نہیں سکا

میں تھک کے مسکرا دیا جب رو نہیں سکا

اس بار راہ عشق کچھ اتنی طویل تھی

اس کے بدن سے ہو کے گزرنا پڑا مجھے

یہ کار زندگی تھا تو کرنا پڑا مجھے

خود کو سمیٹنے میں بکھرنا پڑا مجھے

جو شام ہوتی ہے ہر روز ہار جاتا ہوں

میں اپنے جسم کی پرچھائیوں سے لڑتے ہوئے

پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف

ناؤ پر کاغذ کی پھر مجھ کو سوار اس نے کیا

شہر میں سارے چراغوں کی ضیا خاموش ہے

تیرگی ہر سمت پھیلا کر ہوا خاموش ہے

نہ آبشار نہ صحرا لگا سکے قیمت

ہم اپنی پیاس کو لے کر دہن میں لوٹ آئے