سالگرہ پر اشعار

انسان کے اپنے یوم پیدائش سے زیادہ اہم دن اس کے لئے اور کون سا ہو سکتا ہے ۔ یہ دن باربار آتا ہے اور انسان کو خوشی اور دکھ سے ملے جلے جذبات سے بھر جاتا ہے ۔ ہر سال لوٹ کر آنے والی سالگرہ زندگی کے گزرنے اور موت سے قریب ہونے کے احساس کو بھی شدید کرتی ہے اور زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف بڑھنے کی خوشی کو بھی ۔ سالگرہ سے وابستہ اور بھی کئی ایسے گوشے ہیں جنہیں شاید آپ نہ جانتے ہوں ۔ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے ۔

تم سلامت رہو ہزار برس

ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

مرزا غالب

ماں کی دعا نہ باپ کی شفقت کا سایا ہے

آج اپنے ساتھ اپنا جنم دن منایا ہے

انجم سلیمی

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا

جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

نامعلوم

حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو

تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

نامعلوم

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں

اعتبار ساجد

یہ تو اک رسم جہاں ہے جو ادا ہوتی ہے

ورنہ سورج کی کہاں سالگرہ ہوتی ہے

نامعلوم

یہ بے خودی یہ لبوں کی ہنسی مبارک ہو

تمہیں یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو

نامعلوم

یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا

ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے

پروین شاکر

تم سلامت رہو قیامت تک

اور قیامت کبھی نہ آئے شادؔ

شاد عارفی

ہمارا زندہ رہنا اور مرنا ایک جیسا ہے

ہم اپنے یوم پیدائش کو بھی برسی سمجھتے ہیں

فرحت احساس

ایک برس اور بیت گیا

کب تک خاک اڑانی ہے

وکاس شرما راز

سالگرہ پر کتنی نیک تمنائیں موصول ہوئیں

لیکن ان میں ایک مبارک باد ابھی تک باقی ہے

احمد شہریار

ہماری زندگی پر موت بھی حیران ہے غائرؔ

نہ جانے کس نے یہ تاریخ پیدائش نکالی ہے

کاشف حسین غائر

زندگی بھر یہ آسماں تجھ کو

کسی آفت میں مبتلا نہ کرے

نامعلوم

خدا کرے کہ یہ دن بار بار آتا رہے

اور اپنے ساتھ خوشی کا خزانہ لاتا رہے

نامعلوم

خدا کرے نہ ڈھلے دھوپ تیرے چہرہ کی

تمام عمر تری زندگی کی شام نہ ہو

نامعلوم

خزاں کی رت ہے جنم دن ہے اور دھواں اور پھول

ہوا بکھیر گئی موم بتیاں اور پھول

صابر ظفر

جائے گی گلشن تلک اس گل کی آمد کی خبر

آئے گی بلبل مرے گھر میں مبارک باد کو

سخی لکھنوی

گھرا ہوا ہوں جنم دن سے اس تعاقب میں

زمین آگے ہے اور آسماں مرے پیچھے

محمد اظہار الحق

متعلقہ موضوعات