گرمی پر شاعری

شاعری میں کوئی لفظ کسی ایک خاص تصورسےبندھ کرنہیں رہتا۔ ہرتخلیقی ذہن اپنے لفظوں اوراپنے اظہاری وسیلوں کا ایک الگ تناظراورسیاق رکھتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ دھوپ اوردوپہرکے لفظ کتنے متنوع معنویاتی زاویے رکھتے ہیں۔ یہ زندگی کی سختی اورشدت کی علامت بھی ہیں اوراس کےبرعکس بھی۔

شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے

ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے

راحتؔ اندوری

یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشاں کرے گی

کیوں ڈھونڈ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ

اطہر نفیس

گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے

سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

بیدل حیدری

دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیے

وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

پڑ جائیں مرے جسم پہ لاکھ آبلہ اکبرؔ

پڑھ کر جو کوئی پھونک دے اپریل مئی جون

اکبر الہ آبادی

پھر وہی لمبی دوپہریں ہیں پھر وہی دل کی حالت ہے

باہر کتنا سناٹا ہے اندر کتنی وحشت ہے

اعتبار ساجد

یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں

اب آئینے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا

ناصر کاظمی

سارا دن تپتے سورج کی گرمی میں جلتے رہے

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا پھر چلی سو رہو سو رہو

ناصر کاظمی

آتے ہی جو تم میرے گلے لگ گئے واللہ

اس وقت تو اس گرمی نے سب مات کی گرمی

نظیر اکبرآبادی

بند آنکھیں کروں اور خواب تمہارے دیکھوں

تپتی گرمی میں بھی وادی کے نظارے دیکھوں

صاحبہ شہریار

سورج سر پہ آ پہنچا

گرمی ہے یا روز جزا

ناصر کاظمی

گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر

بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانا زمین پر

میر انیس

شدید گرمی میں کیسے نکلے وہ پھول چہرہ

سو اپنے رستے میں دھوپ دیوار ہو رہی ہے

شکیل جمالی

تو جون کی گرمی سے نہ گھبرا کہ جہاں میں

یہ لو تو ہمیشہ نہ رہی ہے نہ رہے گی

شریف کنجاہی

کیوں تری تھوڑی سی گرمی سیں پگھل جاوے ہے جاں

کیا تو نیں سمجھا ہے عاشق اس قدر ہے موم کا

آبرو شاہ مبارک

دھوپ کی گرمی سے اینٹیں پک گئیں پھل پک گئے

اک ہمارا جسم تھا اختر جو کچا رہ گیا

اختر ہوشیارپوری

گرمی بہت ہے آج کھلا رکھ مکان کو

اس کی گلی سے رات کو پروائی آئے گی

خلیل رامپوری

گرمی سی یہ گرمی ہے

مانگ رہے ہیں لوگ پناہ

عبید صدیقی

گرمی نے کچھ آگ اور بھی سینہ میں لگائی

ہر طور غرض آپ سے ملنا ہی کم اچھا

انشاءؔ اللہ خاں

پگھلتے دیکھ کے سورج کی گرمی

ابھی معصوم کرنیں رو گئی ہیں

جالب نعمانی

گرمیوں بھر مرے کمرے میں پڑا رہتا ہے

دیکھ کر رخ مجھے سورج کا یہ گھر لینا تھا

غلام مرتضی راہی

اتارو بدن سے یہ موٹے لباس

نہیں دیکھتیں گرمیاں آ گئیں

محمد اعظم

گرمی میں تیرے کوچہ نشینوں کے واسطے

پنکھے ہیں قدسیوں کے پروں کے بہشت میں

منیرؔ  شکوہ آبادی