کشتی پر شاعری

کشتی ،ساحل ، سمندر ، ناخدا ، تند موجیں اور اس طرح کی دوسری لفظیات کو شاعری میں زندگی کی وسیع تر صورتوں کے استعارے کے طور پر برتا گیا ہے ۔ کشتی دریا کی طغیانی اور موجوں کی شدید مار سے بچ نکلنے اور ساحل پر پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ کشتی کی اس صفت کو بنیاد بنا کر بہت سے مضامین پیدا کئے گئے ہیں ۔ کشتی کے حوالے سے اور بھی کئی دلچسپ جہتیں ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔

آتا ہے جو طوفاں آنے دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے

ممکن ہے کہ اٹھتی لہروں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

this vessel is by God sustained let the mighty storms appear,

this vessel is by God sustained let the mighty storms appear,

بہزاد لکھنوی

اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ

اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

قتیل شفائی

میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں

مرے ہم راہ دریا جا رہا ہے

احمد ندیم قاسمی

دریا کے تلاطم سے تو بچ سکتی ہے کشتی

کشتی میں تلاطم ہو تو ساحل نہ ملے گا

from the storms of the seas the ship might well survive

but if the storm is in the ship, no shore can then arrive

from the storms of the seas the ship might well survive

but if the storm is in the ship, no shore can then arrive

ملک زادہ منظور احمد

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

ہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نا خدا کے ساتھ

عبد الحمید عدم

اس نا خدا کے ظلم و ستم ہائے کیا کروں

کشتی مری ڈبوئی ہے ساحل کے آس پاس

حسرتؔ موہانی

اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو

جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

my end is now upon me, take back your

for when a ship is sinking, the burden is removed

my end is now upon me, take back your

for when a ship is sinking, the burden is removed

قمر جلالوی

چمک رہا ہے خیمۂ روشن دور ستارے سا

دل کی کشتی تیر رہی ہے کھلے سمندر میں

زیب غوری

کبھی میری طلب کچے گھڑے پر پار اترتی ہے

کبھی محفوظ کشتی میں سفر کرنے سے ڈرتا ہوں

فرید پربتی

اگر اے ناخدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے

ادھر کشتی نہ لے آنا یہاں پانی بہت کم ہے

دواکر راہی

کشتیاں ڈوب رہی ہیں کوئی ساحل لاؤ

اپنی آنکھیں مری آنکھوں کے مقابل لاؤ

جمنا پرشاد راہیؔ

کشتئ اعتبار توڑ کے دیکھ

کہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں

فانی بدایونی

یہ الگ بات کہ میں نوح نہیں تھا لیکن

میں نے کشتی کو غلط سمت میں بہنے نہ دیا

اظہر عنایتی

سرک اے موج سلامت تو رہ ساحل لے

تجھ کو کیا کام جو کشتی مری طوفان میں ہے

مصحفی غلام ہمدانی

Added to your favorites

Removed from your favorites