خودکشی پر اشعار

اپنی زندگی کو اپنے ارادے

اور اپنے ہاتھوں سے ختم کرلینا ایک بھیانک اور تکلیف دہ احساس ہے ۔ لیکن انسان جینے کے ہاتھوں تنگ آکر کب ایسا کرلیتا ہے اور کون سے محرکات اُسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ ان سب کا بے حد تخلیقی اور داخلی بیان ان شعروں میں موجود ہے ۔ ان شعروں کو پڑھنا ڈر ، خوف ،اداسی ، امید اور حوصلے کی ایک ملی جلی دنیا سے گزرنا ہے ۔

کوئی خودکشی کی طرف چل دیا

اداسی کی محنت ٹھکانے لگی

عادل منصوری

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروتؔ

لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خودکشی کے بارے میں

ثروت حسین

یہ زندگی جو پکارے تو شک سا ہوتا ہے

کہیں ابھی تو مجھے خود کشی نہیں کرنی

سوپنل تیواری

غریب شہر تو فاقے سے مر گیا عارفؔ

امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی

عارف شفیق

آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیا

شام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ

ادریس بابر

سڑک پہ بیٹھ گئے دیکھتے ہوئے دنیا

اور ایسے ترک ہوئی ایک خودکشی ہم سے

احمد عطا

خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم

کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں

انجم لدھیانوی

خود کشی قتل انا ترک تمنا بیراگ

زندگی تیرے نظر آنے لگے حل کتنے

رفیعہ شبنم عابدی

اب تک تو خودکشی کا ارادہ نہیں کیا

ملتا ہے کیوں ندی کے کنارے مجھے کوئی

مظفر حنفی

اب تک تو خودکشی کا ارادہ نہیں کیا

ملتا ہے کیوں ندی کے کنارے مجھے کوئی

مظفر حنفی
بولیے